گمنام گاؤں کا آخری مزار

ایک دفعہ پھر گاؤں کا طویل سفر درپیش تھا۔ جانے کا پروگرام نہیں تھا۔ عید پر بھی نہیں۔
اپنے دوست ارشاد بھٹی کے ساتھ کیفے پر بیٹھا تھا۔ غضفر کلاسرا کا فون آیا ’چاچو بنیامین فوت ہو گئے ہیں۔

میں جب بھی ایسی خبر سنتا ہوں تو میرا پہلا خیال بچوں کی طرف جاتا ہے کہ وہ اس صدمے کو کیسے جھیل پائیں گے۔ چند لمحے پہلے وہ جس باپ ’ماں کی پناہ میں تھے‘ وہ چھت اچانک اڑ گئی۔ میں بھی بنیامین کے تین بچوں بارے سوچنے لگ گیا۔ باپ کے بغیر ایک طویل زندگی کا سفر درپیش تھا۔ کافی دیر چپ افسردہ بیٹھا رہا۔

بنیامین ہیوی مکینکل ٹیکسلا میں اکاؤنٹس دیکھتے تھے۔ رشتہ داری اپنی جگہ لیکن ان کے ساتھ یادوں کا ایک پرانا تعلق تھا۔ ہمارے گاؤں میں جو چند نوجوان چالیس پچاس سال پہلے گاؤں سے پڑھنے کے لیے نکلے ان میں بنیامین بھی شامل تھے۔ وہ ہمارے گاؤں کے پہلے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھے اور شاید آخری بھی۔

ساٹھ کی دہائی میں جب گاؤں میں تعلیم کا رواج ہوا تو کوئی ڈاکٹر اور کوئی انجینئربننے نکل گیا لیکن بنیامین نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے کا فیصلہ کیا۔ عید پر یا گرمیوں کی چھٹیوں میں گاؤں میں میلے کا سماں ہوتا۔ یہ سب پردیسی گھروں کو لوٹ آتے تھے۔ مائیں اپنے پردیسی بچوں کے لیے خصوصی اہتمام کرتیں ’خصوصاً ان کے بستر ہاتھ سے کی گئی کڑھائی کے تیار ہوتے۔ واپس لوٹتے وقت پردیسی بچوں کے لیے گھی کی بنی چوری اور دیسی پیڑے بنا کر ہوسٹل کے لیے الگ سے دیے جاتے۔

یہ سب پردیسی گاؤں میں پہلے والی بال، کرکٹ لائے اور پھر ڈائجسٹوں اور اخبارات کی باری آئی۔ تیس برس قبل مجھے بنیامین کے ساتھ دس پندرہ دن ڈیرہ غازی خان میں گزارنے کا موقع ملا تھا‘ جہاں وہ اکاؤنٹنٹ تھے اور یہ قیام ان سے گہرا تعلق بنا گیا تھا۔ اب گاؤں میں بیٹھا بنیامین کے بڑے بیٹے احمد اور بیٹی مریم کے ساتھ بیٹھ کر تعزیت کرتے ہوئے لفظ نہیں مل رہے تھے۔ بچوں نے کل ہی اپنا باپ کھویا تھا اور ایک طویل زندگی ان کے سامنے پڑی تھی۔

ایک دفعہ ارشد شریف کو کہا تھا: انسان کی زندگی میں اچھی بہاریں اس وقت تک ہوتی ہیں جب تک وہ چالیس برس کا نہیں ہو جاتا۔ اس کے بعد زندگی میں وہ خوبصورتی اور بے فکری نہیں رہتی۔ پہلے شادی پھر بچے اور ان کے مسائل۔ نوکری کے ایشوز علیحدہ۔ چالیس کا ہندسہ عبور کرتے ہی دنیا بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔ بیماریاں گھیرنا شروع کر دیتی ہیں۔ بڑی عمر کے رشتے دار رخصت ہونا شروع ہو جاتے ہیں ’جن کے ہاتھوں میں آپ پلے بڑھے تھے۔ روز کوئی نہ کوئی دنیا چھوڑ جاتا ہے۔ لگتا ہے آپ کے جسم کا اپنا حصہ ان پیاروں کے ساتھ ہی مر گیا ہے۔ موت کبھی اچانک نہیں آتی بلکہ یہ دھیرے دھیرے آتی ہے۔
اشتہار



گاؤں کی گلیوں میں افسردگی کے عالم میں چلتا رہا۔ سب کچھ بدل گیا تھا۔ یہ وہ گاؤں نہیں رہا تھا جہاں میں کبھی پلا بڑھا، کھیلا کودا اور بڑا ہوا تھا۔ مجھے لگا میں بوڑھا ہو رہا ہوں۔ پہلی دفعہ سب کچھ اجنبی اجنبی سا لگا۔

بڑھتی ہوئی آبادی نے گاؤں کو برباد کر دیا تھا۔ ایک دفعہ کوشش کی تھی ’گاؤں کی شکل بنائی جائے۔ گاؤں کے کچھ لوگ ڈنڈے لے کر لڑنے پہنچ گئے۔ کچھ دن میں نے کوشش کی پھر گاؤں کے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا کہ وہ اگر بڑھتی ہوئی گندگی اور بے ہنگم زندگی میں خوش ہیں تو ان کی خوشی کیوں چھینی جائے؟ اب یہ حالت ہے‘ لگتا ہے نہ آپ اس گاؤں میں پیدا ہوئے تھے اور نہ ہی آپ کا اس سے تعلق ہے۔

میں اسی افسردگی کے عالم میں ایک ٹوٹے پھوٹے پرانے کچے مکان کو دیکھ کر رک گیا۔ یہ چاچا میرو کمہار کا کچا گھر تھا۔ اب اس کچے گھر کی گلی والی دیوار گر چکی تھی۔ مجھے یاد آیا چالیس پچاس برس قبل اس گلی سے گزرتے ہوئے ہر بندہ اس گھر کے گلی میں باہر نکلے لکڑی کے مخصوص حصے کو بجانا فرض سمجھتا تھا۔ چاچا میرو اندر سے گالیاں دیتا اور سب لطف اندوز ہوتے۔ چاچا میرو جتنا چڑتا گیا ’اتنا ہی نوجوانوں نے شغل لگا لیا۔ پہلے وہ گالیاں دیتا۔

ٹھک ٹھک جاری رہتی تو وہ بھاگ کر باہر نکلتا لیکن اتنی دیر میں جوان بھاگ جاتے۔ چاچا میرو کی یہ حسرت ہی رہی کہ وہ کسی کو رنگے ہاتھوں پکڑے۔ چاچا میرو جس کا نک نیم اب ”ٹھک ٹھک“ پڑ چکا تھا‘ گھر گھر جا کر شکایت کرتا۔ گھر کے بڑے ’بچوں کی ٹھکائی کا وعدہ کرتے لیکن اس کے جاتے ہی سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے کیونکہ ان میں سے کچھ باقاعدہ اس ٹھک ٹھک میں شریک تھے۔

وہ بے چارہ کمہار زمینداروں کے بچوں کو کیا کہہ سکتا تھا ماسوائے اس کے اپنے کچے گھر کے اندر سے گالیاں دے کر اپنا سینہ ٹھنڈا کر لے۔ سنا تھا پہلے یہ ”ٹھک ٹھک“ کا کام اتفاقاً ہوا تھا ’لیکن اندر سے چاچا میرو کے چڑنے کے بعد وہ باقاعدہ ایک مستقل سلسلہ بن گیا۔ وہ پرانا کچا گھر مسجد کے قریب تھا‘ لہٰذا جو بھی عشا کی نماز ’خصوصاً سردیوں میں‘ پڑھنے جاتا وہ واپسی پر گلی میں نکلی اس لکڑی کو ضرور بجا کر جاتا ’جس نے گھر کے اندر پوری چھت کو سہارا دے رکھا تھا۔ بعد میں گاؤں کے بڑے بھی اس کھیل میں شریک ہو گئے اور چاچا میرو کی گالیاں بڑھتی گئیں۔

اب میں اس قدیم گلی میں کھڑا تھا اور دیکھ رہا تھا کہ چاچا میرو کے کچے مکان کی چھت اور دیوار گر چکی ہے۔ میں نے زندگی میں پہلی دفعہ اس کچے گھر کو اندر سے دیکھا۔ روایتی خوبصورت لکڑی کے بنے ہوئے دروازے اور کچی مٹی کے بنے ہوئے اس گھر نے مجھے جیسے قید کر لیا ہو۔ پورے گاؤں میں یہی ستر سال پرانا کچا ٹوٹا پھوٹا گھر بچ گیا تھا ’جو ہمارے ماضی کی نشانی تھا۔ باقی پورا گاؤں سیمنٹ کے بنے ہوئے گھروں میں بدل چکا تھا۔ اس روایتی قدیم دروازے پر ہونے والے کام نے مجھے رکنے پر مجبور کر دیا۔

میں نے سلیم بھائی اور بھانجے منصور کو دیکھ کر کہا: چاچا میرو کے اس کچے گرے گھر کو گاؤں کا اثاثہ قرار دے کر محفوظ نہیں کیا جا سکتا؟ اسے گاؤں کی بیٹھک کا درجہ نہیں دے سکتے؟ ان دونوں کے ردعمل سے لگا ’شاید میری بات انہیں عجیب سی لگی تھی۔

سلیم بھائی کہنے لگے : چند دنوں تک یہ ٹوٹا پھوٹا پرانا گھر دکان میں بدل جائے گا۔ سب کچھ کمرشل ہو رہا تھا۔ ٹوٹے پھوٹے گھر کے قریب پہلے ہی دکان بن چکی تھی۔ کچھ دن میں چاچا میرو کا تقریباً ستر سال پرانا گھر اور اس کا روایتی دروازہ گرا دیا جائے گا اور کوئی دکان اگلی دفعہ وہاں موجود ہو گی۔ ایک لمحے کے لیے دل میں آیا ’گری ہوئی دیوار پھلانگ کر اندر جاؤں اور وہ گھر دیکھوں جس کے اندر سے چاچا میرو اکیلا پورے گاؤں کے ساتھ لڑتا تھا۔

مجھے چالیس برس بعد چاچا میرو کی اذیت کا پہلی دفعہ احساس ہوا۔ سارا دن اس بے چارے نے دور بیٹ کے علاقے سے کھوتے پر برتنوں کے لیے مٹی ڈھونی ہوتی تھی۔ پھر اس مٹی کو برتن بنانے کے قابل بنانا۔ بھٹی پر ہاتھ سے بنائے کچے برتن ترتیب سے لگا کر اوپر سوکھی لکڑیاں رکھنا اور بھٹی کو بند کرکے آگ لگانا ’جس سے کئی دن دھواں نکلتا رہتا۔ پھر کئی دن انتظار کرنا کہ کب آگ بجھے، برتن ٹھنڈے ہوں اور وہ برتن گاؤں کے لوگوں کو بیچ کر ان سے گندم کی کٹائی پر گندم لے تاکہ زندگی کی ڈوریں برقرار رہیں۔ گاؤں کے لوگوں کے لیے برتن بنانے کے لیے مٹی اور آگ سے لڑتا انسان جب تھکا ہارا رات کو چارپائی پر گرتا تھا تو پورے گاؤں کو شرارت سوجھ جاتی تھی کہ چلیں چاچا میرو کی ”ٹھک ٹھک“ کرتے ہیں۔

اس کچے گھر کی بربادی دیکھ کر ’جہاں پورے گاؤں کی تاریخ دفن تھی‘ مجھے یوں لگا جیسے چاچا میرو ابھی بھی کہیں سے نمودار ہو گا اور ہم سب کو وہاں رکتے دیکھ کر برا بھلا کہے گا: بدبختو مرنے کے بعد بھی سکون نہیں لینے دیا۔ تم لوگ پھر ٹھک ٹھک کرنے آگئے ہو۔ اب تو گھر کی دیوار بھی گر چکی۔ اب تو لکڑی بھی باہر نہیں نکلی ہوئی تھی جسے سب آتے جاتے بجایا کرتے تھے۔ اب کیوں ملبے پر کھڑے ہو۔

میں چاچا میرو کے خیال سے ایسے ڈرا جیسے چالیس برس پہلے بچپن میں ڈرتا تھا۔ قدم تیز کرتے ہوئے مڑ کر چاچا میرو کے اس برباد ماضی کے مزار کو دیکھنے کی کوشش کی۔ مجھے لگا جیسے قدم جکڑے گئے ہیں۔ جیسے اندر سے کچھ ٹوٹ رہا ہو۔ پہلے ایک عجیب سی اداسی اور پھر خوف نے مجھے جکڑ لیا کہ شاید اگلی دفعہ یہ آخری مزار بھی دفن ہو چکا ہو۔ گمنام گاؤں کا آخری مزار!
بشکریہ دنیا۔
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں