حکومت ایسٹر حملوں کے حقائق چھپا رہی ہے، سری لنکن پادری

سری لنکا کے کیتھولک چرچ کے سربراہ نے ایسٹر حملوں پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے انٹیلی جنس رپورٹ کو نظر انداز کیے جانے کی وجہ عدم دلچسپی ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں 21 اپریل کو ایسٹر کے موقع پر 3 گرجا گھروں اور 4 ہوٹلوں پر حملے کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں 258 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق پادری مالکوم رنجیتھ نے پوپ فرانسس سے ملاقات سے چند گھنٹے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘حکومت کی جانب سے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اور اب انہوں نے ہر طرح کی کمیٹی اور کمیشن قائم کر دیئے ہیں اور ایک لڑائی چل رہی ہے کہ کسے ذمہ دار ٹھہرایا جائے’۔

واضح رہے کہ سری لنکا کے صدر میتھری پالا سریسینا نے پارلیمانی تحقیقات کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جہاں چند افراد نے ان پر قومی سلامتی کے مسئلے سے نمٹنے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا الزام عائد کیا۔

71 سالہ مالکوم رنجیتھ کا کہنا تھا کہ بھارتی انٹیلی جنس سروسز نے سری لنکا کو 4 اپریل کو حملے کے بارے میں بتادیا تھا اور اس کے بعد بھی مزید 3 مرتبہ خبردار کیا گیا، جس میں دھماکے کے روز صبح 6 بجکر 45 منٹ پر موصول ہونے والی فون کال بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کسی نے بھی خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا، اس سانحے کو روکا جاسکتا تھا کیونکہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حملے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تو میں چرچ کھولتا ہی نہیں اور لوگوں کو گھر جانے کا کہتا’۔

یہ بھی پڑھیں: ایسٹر حملے:سری لنکن پولیس افسر صدر کے احکامات کے برخلاف پارلیمانی کمیٹی میں پیش

میتھری پالا سیریسینا کے حریف وزیر اعظم رنیل وکرما سنگھے کے اتحادیوں کی قیادت میں پارلیمانی سلیکشن کمیٹی، حملے کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔

سری لنکن پادری کا کہنا تھا کہ ‘ہر کوئی ایک دوسرے پر الزام ڈال رہا ہے اور حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘صدر کے ذمہ دار ہونے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ حقائق چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، معاملے پر حکومت اور سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے والے دیگر اداروں کی جانب سے عدم توجہ کا مظاہرہ کیا جارہا ہے’۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں