بے نامی جائیدادوں پر کارروائی: 50 بڑے ٹیکس نادہندگان کی فوری گرفتاری کا امکان

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس ڈیفالٹرز اور بے نامی جائیدادوں پر کارروائی کا اعلان کر دیا۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ریجنل دفاتر کو جاری ہدایات کے مطابق ٹیکس نادہندگان کو فوری گرفتار کیا جائے۔

مہلت ختم ہوتے ہی ایف بی آر نے چوہدری تنویر کی بے نامی جائیداد منجمد کردی

ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی کارروائیوں میں 50 بڑے ٹیکس نادہندگان کی فوری گرفتاری کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ڈیفالٹرز کی نشاندہی بینک اکاؤنٹس اور ان کے بیرون ملک سفر سے کی گئی ہے اور بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کا ڈیٹا ایف بی آر انٹیلی جنس کی مدد سے جمع کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بے نامی جائیدادوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں سے بھی مدد لی گئی اور سب سے زیادہ معلومات نادرا کے ڈیٹا بیس سے حاصل کی گئیں۔

اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی ڈیڈ لائن ختم، ایف بی آر نے کارروائیاں شروع کردیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کو نوٹسز ڈپٹی کمشنر کی سطح کا افسر جاری کر رہا ہے جب کہ بے نامی جائیدادیں منجمند کرنے کا اختیار انکم ٹیکس کمشنر کی سطح کے افسر کو حاصل ہے۔

یاد رہے کہ ایف بی آر نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی ڈیڈ لائن ختم ہوتے ہی ملک بھر میں بے نامی جائیدادوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔

یہ اراضی چوہدری تنویر کے ملازموں محمد بشارت، راجا عبدالشکور، شاہ جہاں بیگم، محمد معروف، اظہر علی اور عبدالعزیز کے نام پر رکھی گئی تھی۔

ان تمام ملازمین کو نوٹس جاری کردیا گیا ہے، کارروائی کی تکمیل پر حکومت یہ جائیداد ضبط کرسکتی ہے۔

اشتہار


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں