javed-chaudhry-columns

’’پہلے پانچ منٹ اہم ہوں گے‘‘

ائیر کنڈیشنر سے پانی کی بوندیں گر رہی تھیں‘ دیوار کے بالکل نیچے شیشے کا مرتبان رکھا تھا‘ ائیرکنڈیشنر کی سفید باڈی پر پانی کا قطرہ بنتا تھا اور وہ چند سیکنڈ بعد ٹپ کی آواز کے ساتھ مرتبان میں جا گرتا تھا‘ صاحب یہ آواز سنتے تھے اور خوش ہوتے تھے‘ میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا‘ آپ اپنا اے سی ٹھیک کیوں نہیں کرا لیتے‘ مکینک آئے گا اور منٹوں میں یہ ٹپ ٹپ بند ہو جائے گی۔

وہ ہنس کر بولے ’’تم چاہتے ہو میں ساون کی خوشی سے محروم ہو جاؤں‘‘ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ’’یہ ٹپ ٹپ صرف ٹپ ٹپ نہیں یہ ساون کی ای میل بھی ہے‘ میرا اے سی خشک گرمیوں میں خاموش رہتا ہے لیکن فضا میں جوں ہی ساون کی نمی آتی ہے یہ ٹپ ٹپ کرنے لگتا ہے اور میں یہ آوازیں انجوائے کرتا ہوں‘ یہ آوازیں اور یہ نمی جولائی کے آخر اور اگست کے شروع میں دوگنی ہو جائیں گی اور میں یہ سن سن کر خوش ہوتا رہوں گا‘‘ صاحب نے اس کے ساتھ ہی سگار سلگایا اور کمرے میں کیوبن تمباکو کی خوشبو پھیلنے لگی۔

میں نے عرض کیا’’ وزیراعظم عمران خان 20جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جا رہے ہیں‘ یہ میٹنگ کیسی رہے گی‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’پاکستانی ٹرمپ امریکی ٹرمپ سے ملنے جا رہا ہے‘‘ میں نے بے چین ہو کر کروٹ بدلی اور عرض کیا ’’سر یہ زیادتی ہے‘ یہ ہمارے وزیراعظم ہیں‘‘ وہ مزید ہنسے اور بولے ’’یہ میں نہیں کہہ رہا‘ یہ امریکی میڈیا کا خیال ہے‘‘ وہ رکے اور چند لمحے سوچ کر بولے ’’آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی صدر ٹرمپ دنیا کے واحد لیڈر ہیں جو پروٹوکول کا خیال نہیں رکھتے۔

یہ دنیا بھر کے لیڈروں سے ملتے ہیں‘ انھیں پانچ منٹ میں جو شخص کلک کر جاتا ہے یہ اس کے لیے دن بھر کی تمام مصروفیات منسوخ کر دیتے ہیں اور یہ پھر اسے لنچ یا ڈنر کے لیے بلیئر ہاؤس لے جاتے ہیں‘ یہ اس کے ساتھ گالف کھیلتے ہیں‘ واک کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے لطیفے شیئر کرتے ہیں لیکن اگر وہ شخص انھیں کلک نہ کرے تو یہ پانچ منٹ میں بور ہو جاتے ہیں اور وہ شخص پوپ ہی کیوں نہ ہو یہ اٹھ کر اس کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں اور باہر نکل جاتے ہیں۔

آپ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ کو لے لیں‘ امریکا 70سال سے شمالی کوریا کا دشمن ہے لیکن کم جونگ کلک کر گئے اور صدر ٹرمپ ان سے ملنے کے لیے سنگا پور بھی گئے اور یہ 30جون کو پن مون جوم(ساؤتھ کوریا) کی سرحد پر چلتے چلتے شمالی کوریا کی حدود میں بھی داخل ہو گئے یوں یہ شمالی کوریا کے صدر سے ملاقات اور شمالی کوریا کی زمین پر قدم رکھنے والے پہلے امریکی صدر بن گئے۔

آپ یہ بھی یاد رکھیں صدر ٹرمپ نے19 ستمبر 2017ء کو اقوام متحدہ کی اپنی پہلی تقریر میں شمالی کوریاکو دھمکی دی تھی ’’امریکا کو خطرہ ہوا تو شمالی کوریا کو ختم کر دیں گے‘‘ اور امریکی صدر نے11 نومبر 2017ء کو اپنے ایک ٹویٹ میں کم جونگ کو ’’چھوٹا اور موٹا‘‘ بھی کہا تھا لیکن آپ آج دیکھ لیں صدر ٹرمپ نے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان موجود دیوار چند سیکنڈ میں گرا دی‘ کیوں؟ کیوں کہ کم جونگ صدر ٹرمپ کو کلک کر گئے تھے‘‘ صاحب رکے‘ چند لمبے لمبے سانس لیے اور بولے ’’صدر ٹرمپ اور عمران خان کی میٹنگ کے ابتدائی پانچ منٹ بہت اہم ہوں گے۔

عمران خان اگر کلک کر گئے تو پاکستان اور امریکا کے آئیڈیل تعلقات کا آغاز ہو جائے گا‘ مسئلہ کشمیر بھی حل ہو جائے گا‘ بھارت اور پاکستان کے بارڈرز بھی کھل جائیں گے اور پاکستان کا معاشی بحران بھی ختم ہو جائے گا لیکن اگر عمران خان نے 1992ء کے ورلڈ کپ کی داستان شروع کر دی یا میں جب کرکٹ کھیلتا تھا یا میں نے جب شوکت خانم شروع کیا یا میں نے جب پارٹی بنائی تو پوری دنیا یہ کہتی تھی عمران خان تم کامیاب نہیں ہو سکتے مگر میں کامیاب بھی ہوا اور آج میں وزیراعظم بھی ہوں وغیرہ وغیرہ یا پھر عمران خان نے اگر ریاست مدینہ کا قصہ چھیڑ دیا اور یا پھر یہ صدر ٹرمپ کے سامنے آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے گندے کپڑے دھونے لگے تو یہ میٹنگ چند لمحوں میں ختم ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ عمران خان کو بائے بائے کر دیں گے اور یوں دونوں کی پہلی میٹنگ آخری ثابت ہو گی‘‘ وہ رک گئے۔میں نے عرض کیا ’’یہ آخر عمران خان کی باتوں سے کیوں چڑ جائیں گے‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’یہ دونوں ایک جیسے ہیں‘ صدر ٹرمپ کے پاس بھی اپنے عروج و زوال کی بے شمار کہانیاں ہیں چناں چہ دوسروں کی کہانیاں انھیں بور کر دیتی ہیں‘ یہ سننے کے بجائے سنانے پربھی یقین رکھتے ہیں‘ یہ عمران خان کی طرح لمبی گفتگو بھی برداشت نہیں کر پاتے‘ یہ ڈیل میکر ہیں‘ یہ سیدھا پوائنٹ پر آتے ہیں اور آپ نے اگر ان کا پوائنٹ اٹھا لیا تو آپ کی ڈیل شروع ہو جائے گی ورنہ یہ دوسری پارٹی کی طرف چل پڑتے ہیں۔

عمران خان کو بھی سننے کی عادت نہیں‘ یہ بھی ہر وقت سنانا چاہتے ہیں لہٰذا دونوں کے درمیان ٹکراؤ کا خطرہ موجود ہے‘‘ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے عرض کیا ’’اور صدر ٹرمپ کے ذہن میں کیا پوائنٹس ہوں گے‘‘ وہ دیر تک ہنستے رہے اور پھر بولے ’’دو پوائنٹس‘ یہ پاکستان کی بھارت کے ساتھ صلح کرانا چاہتے ہیں‘ پاکستان نے بالاکوٹ میں اسٹرائیک کے بعد بھارت کے دو طیارے گرا دیے تھے‘ یہ بھارت کے منہ پر سیدھا سادا تھپڑ تھا۔

بھارت نے 27 اور 28 فروری کی درمیانی رات اپنی سرحد پر 9 میزائل بھی لگا دیے تھے اور حملے کے لیے تیاری بھی کر لی تھی‘ پاکستان جواب کے لیے اپنے جوہری اثاثے باہر لے آیا‘ امریکی سیٹلائیٹ نے وارننگ جاری کر دی‘ امریکا فوراً سامنے آیا اور اس نے دونوں ملکوں کو دھمکا کر جنگ کا خطرہ ٹال دیا‘ یہ خطرہ ٹل گیا لیکن بھارت ابھی تک زخمی سانپ کی طرح لوٹ رہا ہے‘ بھارت کے میزائل بھی لوڈڈ کھڑے ہیں‘ اس کی ائیر فورس بھی بدستور پٹرولنگ کر رہی ہے اور روایتی فوج بھی تیار کھڑی ہے چناں چہ بھارت کی ائیر سپیس بند ہے۔

بھارت پاکستان کے دو سے تین طیارے گرائے بغیر نارمل نہیں ہو گا‘ مودی نے قسم کھا رکھی ہے یہ جب تک بدلا نہیں لے گا یہ عمران خان کی کال سنے گا اور نہ مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھائے گا‘ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں پاکستان دو تین طیاروں کی قربانی دے کر جان چھڑا لے‘ حالات بہتر ہو جائیں گے‘ دوسرا پوائنٹ امریکا ایران سے فائنل کھیلنا چاہ رہا ہے اور یہ پاکستان کے بغیر ممکن نہیں‘ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں عمران خان امریکا کو 2001ء کی طرح اوپن آفر دے دیں‘ یہ جنرل مشرف بن جائیں۔



عمران خان نے اگر 1992ء کے ورلڈ کپ کی اسٹوری سنانے کے بجائے یہ دونوں پوائنٹس چھیڑ دیے تو ٹرمپ انھیں کندھوں پر بٹھا کر واشنگٹن کی سڑکوں پر پھرنے لگیں گے‘ یہ دونوں ملک چار سال کی دوری کے بعد دوبارہ میز پر آ جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں روس کا دورہ حاضر ہے‘ روس نے بھی عمران خان کو ایسٹرن اکنامک فورم میں شرکت کی دعوت دے دی ہے لہٰذا ہم توقعات کی گٹھڑی باندھ کر ماسکو چلے جائیں گے‘‘ وہ رک گئے۔

میں نے عرض کیا ’’سوال یہ ہے کیا عمران خان صدر ٹرمپ کو کلک کر جائیں گے‘‘ صاحب نے قہقہہ لگایا‘ سگار کو چوم کر میز پر رکھا اور بولے ’’ہاں اگر یہ بشکیک یا کنگ سلمان جیسی غلطی نہ کریں تو!آپ کو یاد ہوگا یہ یکم جون کو کنگ سلمان کے سامنے آئے‘ انگلی اٹھا کر زور زور سے گفتگو کی اور شاہ سلمان کا جواب سنے بغیر باہر نکل گئے‘ سعودی حکومت نے اس رویے پر شدید احتجاج کیا‘ بشکیک میں بھی 8سربراہان مملکت کھڑے تھے اور یہ سیدھے جا کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے تھے‘ یہ سفارتی آداب کی سیدھی سادی خلاف ورزی تھی‘ میں نے پروٹوکول اور وزیراعظم کے اسٹاف سے پوچھا تھا۔

انھوں نے مایوس لہجے میں جواب دیا تھا یہ سنیں گے تو ہم انھیں بتائیں گے‘ ہم اگر انھیں بھارت کے بارے میں بتانا شروع کریں تو یہ کہتے ہیں میں جب انڈیا میں میچ کھیلنے جاتا تھا تو اسٹیڈیم میں لاکھ لاکھ تماشائی بیٹھے ہوتے تھے‘ یہ صبح میرے خلاف ہوٹنگ کرتے تھے لیکن شام کو پورا اسٹیڈیم میرے لیے تالیاں بجا رہا ہوتا تھا‘ انڈیا کو مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے اور ہم اگر انھیں پروٹوکول کے بارے میں بتانے لگیں تو یہ برطانیہ کے شاہی خاندان‘ لیڈی ڈیانا اور اپنی سابق ساس کی مثالیں دینا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں‘ پروٹوکول کو مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے۔

یہ کیوں کہ سب کچھ جانتے ہیں لہٰذا ہم نے انھیں بتانا چھوڑ دیا ہے‘‘صاحب نے کہا ’’ عمران خان نے اگر اس بار پروٹوکول اور اسٹاف کی بات مان لی‘ یہ اگر ٹرمپ کے ساتھ آدھا ہاتھ ملا کر بیٹھ نہ گئے تو یہ کلک کر جائیں گے‘ بات چل نکلے گی‘ دوسرایہ اگر زبانی گل فشانی کے بجائے پیپر پڑھ لیں گے تو بھی پاکستان اور امریکا کے تعلقات بچ جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں ان کی زبان لڑکھڑانے کی دیر ہے اور ہم گئے‘‘ وہ رکے ‘ تھوڑی دیر سوچا اور پھر بولے ’’میں وہ بے وقوف تلاش کررہا ہوں جس نے انھیں یہ بتا یا تھا آپ اگر براہ راست بولیں گے تو آپ مہاتیر محمد یا مینڈیلا بن جائیں گے۔

ریاست اگر اس بار انھیں رٹا لگوانے یا کاغذ پڑھانے میں کام یاب ہو گئی تو کام یابی کا سو فیصد چانس ہے ورنہ دوسری صورت میں‘‘ صاحب رکے‘ سگار اٹھایا اور ہونٹوں کے قریب لا کر بولے ’’ورنہ دوسری صورت میں ہم امریکا سے بھی بے عزتی کرا کر واپس آئیں گے اور ہمیں فردوس عاشق اعوان بتائیں گی یہ دورہ کتنا کام یاب رہا‘‘ وہ رکے اور بولے ’’عمران خان کے صدر ٹرمپ کے ساتھ پہلے پانچ منٹ اہم ہوں گے‘ امریکا اور پاکستان کے مستقبل کے تعلقات ان پانچ منٹوں پر منحصر ہیں‘ہم نے یہ پانچ منٹ کیش کرا لیے تو واہ واہ ورنہ ہائے ہائے‘‘۔

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں