قوم ملک کو ہرسال اوپر جاتا دیکھے گی، وزیراعظم عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم پاکستان کو ہرسال تبدیل ہوتا اور اوپر جاتا دیکھے گی کیوں کہ طاقت ور کا احتساب شروع ہوچکا ہے جیل سے باہر نکلنے کے خواہش مند لوٹا ہوا پیسہ واپس دیں اور جائیں۔

یہ بات انہوں ںے واشنگٹن ڈی سی کے اسٹیڈیم کیپیٹل ایرینا ون میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جلسے میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی کمیونٹی نے شرکت کی۔

وزیر اعظم کے خطاب سے قبل تلاوت قرآن پاک پیش کی گئی، امریکا اور پاکستان کے قومی ترانے بجائے گئے جب کہ عمران خان کی جدوجہد پر مبنی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی۔
اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنے بڑے اسٹیڈیم میں پاکستانی کمیونٹی سے بات چیت ہوگی، پاکستان جو ہمیں دیا یہ کسی کو اندازہ نہیں کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے، یہ ایک خاص نعمت ہے، قوم انشا اللہ ہر سال اسے تبدیل ہوتا اور اوپر جاتا دیکھے گی۔

عمران خان نے کہا کہ جمہوریت میں میرٹ ہے بادشاہت میں نہیں، اس لیے بادشاہت پیچھے رہ گئی اور جمہوریت میرٹ پر آئی لیڈرشپ کی وجہ سے آگے نکل گئی، امریکا میں میرٹ پر لیڈرشپ اچھی آتی رہی اس لیے وہ آگے نکل گیا جب کہ ہندوستان کی مثال لیں وہاں مغل بادشاہ آئے، اورنگزیب کے بعد جو اس کے بچے ان میں صلاحیت نہیں تھی اس لیے وہ سلطنت ترقی نہ کرسکی، اسی طرح سلطنت عثمانیہ بھی زوال کا شکار ہوئی۔

عمران خان نے کہا کہ یہ مشکل وقت ہے جو چند ماہ یا سال بھر تک رہے گا لیکن ہم ملک کو مشکل سے نکال کر دکھائیں گے، جو تاجر کہتے ہیں کہ ہم رجسٹرڈ نہیں ہوں گے وہ سن لیں انہیں ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کے لیے رجسٹرڈ ہونا پڑے گا اور ٹیکس دینا پڑے گا، 10 سال پہلے پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب روپیہ تھا جو 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا، ہمیں گزشتہ دو حکومتوں سے یہی پیسہ واپس لینا ہے، پھر کہتا ہوں انہیں جو کرنا ہے کرلیں، دھرنا دینا ہے تو کنٹینر دیتا ہوں، جلسے کرنا ہے تو وہ کریں میں پی ٹی آئی کے ورکرز بھیج دیتا ہو تاکہ جلسے تھوڑے تو کامیاب ہوں لیکن پیسہ دینا پڑے گا۔

وزیر اعظم نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہتے ہیں کھانا اچھا نہیں ہے، ایئر کنڈیشنر لگادو اب ٹی وی چاہیے، اگر یہی سب کچھ جیل میں دینا ہے تو یہ سزا تو نہیں ہوئی، ایئر کنڈیشنر اور ٹی وی جیل سے نکالیں گے جس پر مریم بی بی بہت شور مچائیں گی۔

سربراہ پی ٹی آئی نے کہا کہ آصف زرداری کو بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ جیل جاتے ہی اسپتال پہنچ جاتے ہیں، آپ کو بھی ہم جیل میں رکھیں گے جہاں ٹی وی اور ایئرکنڈیشنر نہیں ہوگا، اسی طرح خاقان عباسی کہتے تھے اگر میں نے کچھ کیا ہے تو جیل میں ڈال دیں لو ہم نے انہیں بھی جیل میں ڈال دیا اور اسی طرح مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ کیا ہم سب اس وقت اکٹھے ہوں گے کہ جب جیل میں ہوں گے؟ میں انہیں کہتا ہوں یقیناً ایسا ہوگا۔

اشتہار


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں