Orya-Maqbool-Jan

سیندِک سے ریکوڈک تک (قسط 3)

ریکوڈک کی تفصیلات، اسکے ذخائر کی مالیت اور ان کے بارے میں گذشتہ سالوں میں ہونے والی قانونی جنگ کی تفصیلات زبان زد عام ہیں۔ اخبارات کے صفحات ان سے اَٹے پڑے ہیں اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں “پرمغز” تبصرے ہو رہے ہیں۔ ان تمام تبصروں کا لب لباب یہ ہے کہ حکومتِ بلوچستان، حکومتِ پاکستان، سپریم کورٹ اور کچھ ضرورت سے زیادہ اہمیت حاصل کر جانے والے سائنسدانوں نے اپنی جہالت، نااہلی اور کم فہمی کی وجہ سے عالمی معاہدے کی دھجیاں بکھیریں جسکے نتیجے میں عالمی عدالتوں میں رسوائی کا داغ سمیٹا اوراب 6 ارب ڈالر کا ہرجانہ بھی دینا پڑے گا۔ جہاں تک نااہلی اور کم علمی کا تعلق ہے، وہ کسی حد تک سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن کوئی یہ کہے کہ یہ معاہدہ ایک شفاف معاہدہ تھا اور اس میں عالمی کارپوریٹ مافیا نے اپنی پوری عیاری، چالاکی اور ہوشیاری نہیں دکھائی تھی ، یہ تو میں کسی طور پر ماننے کو تیار نہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ میں یہ بات بھی ہضم نہیں کر سکتا کہ جدید سودی عالمی مالیاتی نظام کے قائم کردہ ورلڈ بینک کے استحصالی ایجنڈے کے تحت کام کرنے والا ادارہ ” ICSID ” (International center for settlement of investment Disputes)، ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ہے۔ یہ ادارہ 1966 میں ان بینکوں کے سرمائے کو تحفظ دینے کے لیے بنایا گیا تھا جو وہ مختلف کمپنیوں کو سود پر سرمایہ دیتے تھے، اور ان کے سرمائے سے وہ غریب اور پسماندہ ممالک کے سیدھے سادے بھولے بھالے عوام کی سادگی اور ان پر مسلط کردہ بددیانت حکمرانوں کی وجہ سے انکے وسائل پر قبضے کے لیے بدترین شرائط پر معاہدے کرتے تھے۔ اس بدمعاشی اور چالاکی کے برعکس پوری دنیا کی کاروباری عدالتوں کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ خریدار اگر کسی ایسے شخص سے کوئی ایسی قیمتی چیز خریدے جسکے مالک کو اسکی اصل قیمت کا اندازہ نہیں تھا اور اس خرید و فروخت میں اگر خریدنے والا مالک کو اس چیز کی اصل قیمت سے آگاہ نہیں کرتا تو یہ سودا بددیانتی پر مبنی سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی عدالتوں سے ایسے لاتعداد مقدمات کی مثال دی جا سکتی ہے ، جہاں افریقہ اور جنوبی امریکہ کے پسماندہ ممالک کے لوگوں نے چالاک اور عیار کارپوریٹ مافیا اور بددیانت حکمرانوں کی ملی بھگت سے ہونے والے معاہدات کو عالمی سطح پر ختم کروایا۔ یہ ٹریبیونل جس نے ریکوڈک کا فیصلہ کیا ہے ،اس سے بہت پہلے 1926 میں ایک عالمی ادارہ قائم ہوا جسکا بنیادی مقصد اس طرح کی عالمی سودے بازی کے لیے قوانین مرتب کرنا تھا۔ اسکا نام ہے International institute for the unification of private law (UNIDROIT) ۔ اس ادارے کے اسوقت 63 ممالک ممبر ہیں اور پاکستان بھی اسکا 1964 میں ممبر بنا تھا۔ دنیا کی تمام عالمی طاقتیں اوربڑے کاروباری ممالک اس ادارے کے ممبر ہیں۔ اس ادارے نے پسماندہ ممالک کو عیار اور چالاک کارپوریٹ سرمایہ داروں کے شکنجے سے نجات دلانے کے لئے ایک عالمی قانون وضع کیا ہے جسے غیر منصفانہ فائدہ اٹھانا (Unfair Advantage) کا قانون کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت دنیا کی کاروباری کمپنیاں کسی قوم یا ملک کے قدرتی وسائل پر اگر مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی معاہدہ کریں گی تو وہ معاہدہ غیر منصفانہ تصور ہوگا۔ اس قانون میں جو وجوہات دی گئی ہیں وہ یہ ہیں (1)۔ انحصار (Dependence) یعنی ایسے وسائل جن پر اس قوم کی زندگی کی گاڑی چلتی ہے، جیسے ساحلوں سے مچھلی پکڑنے کا لائسنس لیکر لاکھوں مچھروں کو بے روزگار کردیا جائے (2)۔ معاشی بدحالی (Economic Distress) یعنی وہ ملک غریب ہے، اسے فوراً سرمائے کی ضرورت ہے اورکوئی کمپنی اسکی اس ضرورت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اسکے وسائل کو سستے داموں خرید لے (3)۔ ناواقفیت (Ignorance) یعنی اس ملک یا قوم کو اپنے ان ذخائر کی اصل مالیت کا علم ہی نہیں اور اسے بتائے بغیر معاہدہ کر لیا جائے (4)۔ ناتجربہ کاری (in-experience) یعنی اس ملک یا قوم نے کبھی اس طرح کی سودے بازی کی نہیں اور اسکی ناتجربہ کاری سے فائدہ اٹھایا جائے اور (5)۔ سودے بازی کی صلاحیتوں کا فقدان (lack of bargaining skills) یعنی ایک ملک یا قوم عالمی سطح پر بھاؤ تاؤ کرنے کی صلاحیتوں سے عاری ہے اور اسکی اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اسے بے وقوف بنا کر اپنی مرضی کا معاہدہ کروا لیا جائے۔ ان پانچ صورتوں میں کوئی بھی معاہدہ ناجائز، غیر اخلاقی اور غیر قانونی تصور ہوگا۔ عالمی عدالتوں میں افریقہ اور جنوبی امریکہ کے ایسے لاتعداد مقدمات پیش ہوئے اور اسی اصول کی بنیاد پر انہوں نے اس سودی مالیاتی نظام سے جنم لینے والے کارپوریٹ مافیا کے ساتھ کیے گئے معاہدوں سے جان چھڑائی۔ پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین ججوں جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس گلزار شیخ کا 149 صفحات پر مشتمل فیصلہ بھی انہی اصولوں کی بنیاد پر دیا گیا تھا اور یہ ان چند ایک فیصلوں میں سے ایک ہے جس سے پاکستان کی خود مختاری، حاکمیت، حقوق کا شعور اور عالمی کارپوریٹ مافیا سے آزادی کی خوشبو آتی ہے۔ لیکن کیا کیا جائے عالمی کارپوریٹ مافیا کے سرمائے سے چلنے والے میڈیا میں آج اس فیصلے کو اسکی اصلیت کی بنیاد پر برا نہیں کہا جا رہا بلکہ ICISD کے بدترین متعصبانہ کارپوریٹ مافیا کے دباؤ میں لکھے جانیوالے فیصلے کی بنیاد پر ہونے والے جرمانے کی وجہ سے اسے مطعون کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ریکوڈک کی پوری تاریخ اپر دیے گئے ان پانچ اصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ ان اصولوں پر جو 63 ممالک متفق ہیں ان ممالک میں امریکہ، روس، چین، جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ریکوڈک کی کمپنی تیتھیان کا اپنا ملک اٹلی بھی شامل ہے۔ریکوڈک میں ناجائز فائدہ اٹھانے کی کہانی ،عیاری، چالاکی اور بددیانت افسران کی ملی بھگت سے آراستہ ہے۔بلوچستان کے سادہ لوح لوگوں کے لئے ملاحظہ فرمائیں ۔ بلوچستان کی گذشتہ چالیس سالہ تاریخ میں عطا محمد جعفر ایک ایسا نام ہے جسے سیاسی کندھے استعمال کرتے ہوئے اور بیوروکریسی کو شیشے میں اتار کر آگے بڑھنے کی ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔ اریگیشن کے محکمے میں ایس ڈی او کے طور پر نوکری شروع کرنے والا یہ شخص ہر کسی کا اس حد تک منظور نظر بن گیا کہ وہ سات سال صوبائی سیکرٹری فنانس رہا ، اور اتنے ہی سال ایڈیشنل چیف سیکرٹری جیسی اہم ترین پوزیشن پر تعینات رہا۔ 1999 میں نیب کے تحت گرفتار ہوا اور میری اس سے آخری ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں سزا کاٹ رہا تھا اور اپنی دونوں ٹانگوں سے فالج کی وجہ سے معذور ہو چکا تھا۔ عطا محمد جعفر کچھ عرصے کے لیے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (BDA)کا چیئرمین بھی لگا۔ یہ 1993 کا سال تھا۔ اس سے دو سال قبل میں اسی اتھارٹی کا سیکریٹری رہ چکا تھا۔ اس وقت یہ اتھارٹی اپنی نااہلی، بددیانتی اور کرپشن کی وجہ سے پورے بلوچستان میں شدید بدنام ہو چکی تھی اور اسکے لاتعداد پراجیکٹوں پر انکوائریاں چل رہی تھیں، جن میں سے سب سے بڑا گھپلا سیریلا سیمنٹ کا تھا جسے قاضی عیسیٰ مرحوم کے بڑے فرزند نے کمال ہوشیاری سے اوور انوائسنگ (Over invoicing) کرتے ہوئے فیکٹری لگائی، پھر قبائلیوں کو ساتھ ملا کر فائرنگ کروا کر بھاگ گیا اور سرمایہ لگانے والی بینکرز ایکویٹی ڈوب گئی۔ اسی بی ڈی اے کی واحد کامیاب سکیم گڈانی شپ بریکنگ کی تھی جیسے نواز شریف کی اتفاق فاؤنڈری کو کامیاب کرنے کے لئے تباہ و برباد کر دیا گیاتھا۔ عطا محمد جعفر کے آنے سے پہلے یہ بی ڈی اے ایک مردہ ادارہ ہوچکا تھا اور کوئی اسکو فنڈ دینے کو تیار نہ تھا۔میں نے وہاں پورا سال انکوائریاں کرتے اور فائلیں پڑھتے گزارا۔ عطا محمد جعفر 1993 کی نگران حکومت کے دوران اسکا چیئرمین لگا۔ 13 جولائی 1993 کووہ ایک فائل بغل میں دبائے چیف سیکریٹری کے کمرے میں داخل ہوا اور اسے فوری اور حساس قرار دیتے ہوئے اس کو نگران گورنر کے پاس بھیجنے کے لیے کہا۔ اس وقت کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے اس پر ایک نوٹ لکھا تھا کہ اس معاہدے کو قانونی ماہرین کو دکھا لینا چاہیے، کیونکہ اس میں بہت سقم ہیں۔ یہ آسٹریلیا کی فرم BHP کے ساتھ ریکوڈک کے ذخائر کا معاہدہ تھا۔ بلوچستان کی بیوروکریسی میں بھی شاید ہی کسی کو اس معاہدے کا علم اس پر دستخط سے پہلے ہوا ہو۔ تمام اعتراض فوراً مسترد کرتے ہوئے قانونی ماہرین کے مشورے کے بغیر ،یہ فائل تیز رفتاری کے ساتھ گورنر ہاؤس پہنچی اور 29 جولائی کی شام کو نگران گورنر عبدالرحیم درانی کی موجودگی میں بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور امریکہ میں قائم آسٹریلوی فرم بی ایچ پی کے درمیان معاہدہ طے پا گیا کہ جو کمائیں گے 75 فیصد ہمارا اور 25 فیصد بلوچستان کا۔ (جاری ہے)



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں