5 سال کی شامی بچی اپنی شیرخوا بہن کو بچاتے ہوئے جاں بحق

گزشتہ 8 سال سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے یوں تو ہر آئے دن رونگٹے کھڑے کردینے والی خبر سامنے آتی ہے اور اب تک وہاں سے آنے والی کئی خبروں نے اجتماعی طور پر دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔

جہاں 2015 میں شام کے کم سن بچے ایلان کردی کی سمندر کنارے جاں بحق ہونے والی تصویر نے دنیا کو ہلا دیا تھا۔

وہیں 2016 میں بمباری سے شدید زخمی ہونے والے 5 سالہ عمران دقنیش کی زخمی حالت میں ایمبولینس میں بیٹھنے کی تصویر نے بھی دنیا کو جھنجوڑ دیا تھا۔

اور اب ایک بار پھر شام کی ہی 2 معصوم بہنوں کی موت سے بچنے کی جدوجہد کی تصاویر اور ویڈیوز نے دنیا کے حساس دل افراد کو رلا دیا۔

شام کے شہر ادلب میں 2 دن قبل ہی ہونے والی بمباری میں 5 بچوں سمیت 20 افراد جاں بحق ہوگئے تھے اور ان میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد بھی شامل تھے۔

کومتی فورسز اور اس کے روسی اتحادی فوج کی جانب سے کی جانب والی بمباری میں جہاں 20 ہسپتال متاثر ہوئے تھے، وہیں کئی گھر بھی ملبے کا ڈھیر بن گئے تھے۔

بمباری سے ملبے کا ڈھیر بننے والے گھروں میں 5 سالہ بچی رھان کا گھر بھی تھا اور جاں بحق ہونے والے افراد میں ان کی ماں اور دیگر اہل خانہ بھی تھے۔

ادلب میں ہونے والی بمباری کی ویڈیوز اور تصاویر میں 5 سالہ بچی رھان کی مختصر ویڈیو نے دنیا کو رلا دیا۔

عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق 5 سالہ بچی رھان کی سامنے آنے والی ویڈیو میں شام کے مقامی نشریاتی ادارے ’ایس وائے 24‘ کا لوگو نظر آ رہا ہے۔

مختصر دورانیے کی ویڈیو میں 5 سالہ رھان کو بمباری کے بعد ملبے کا ڈھیر بننے والے اپنے گھر کے ملبے سے زخمی حالت میں نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کم سن زخمی رھان اپنے زخموں اور زندگی کی پرواہ کیے بغیر ملبے میں دبی اپنی شیر خوار بہن کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اشتہار


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں