چین امریکہ مذاکرات: کیا تجارتی جنگ ختم ہو جائے گی؟

چین اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا تازہ ترین دور چین میں مکمل ہوا ہے جس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے حوالے سے مذاکرات کا اگلا دور ستمبر میں امریکہ میں ہو گا۔ تازہ ترین بات چیت کے بعد چین کی وزارت تجارت نے مذاکرات کے اس دور کو ’نہایت مفید، کارآمد اور تعمیری‘ قرارد دیا ہے۔

’’دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی جنگ پر معاملات طے کرنے کے لیے امریکہ اور چین کے سرکردہ حکام نے اس ہفتے چین میں مذاکرات کے ایک دور کا آغاز کیا ہے، لیکن ان مذاکرات سے توقعات کچھ زیادہ نہیں ہیں۔

تاہم یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ حالیہ عرصے میں دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ بات چیت دکھائی نہیں دی، لیکن میڈیا کی نظروں سے دور بہت کچھ ہوتا رہا ہے۔

’’دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی جنگ پر معاملات طے کرنے کے لیے امریکہ اور چین کے سرکردہ حکام نے اس ہفتے چین میں مذاکرات کے ایک دور کا آغاز کیا ہے، لیکن ان مذاکرات سے توقعات کچھ زیادہ نہیں ہیں۔

تاہم یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ حالیہ عرصے میں دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ بات چیت دکھائی نہیں دی، لیکن میڈیا کی نظروں سے دور بہت کچھ ہوتا رہا ہے۔

ادھر بیجنگ میں لوگوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کے اعلان کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ کو ختم کرنے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ اعلان امریکہ کی اپنی ٹیکنالوجی صنعت کے دباؤ میں آ کر کیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ کئی بڑی کمپنیاں کہہ چکی ہیں کہ ہواوے کے ساتھ کاروبار پر پابندی کی وجہ سے وہ اپنے ایک بڑے خریدار سے محروم ہو چکی ہیں۔

جہاں تک چین کا تعلق ہے، ہواوے اس کے لیے محض ایک کاروباری کمپنی نہیں، بلکہ یہ ایک قومی سرمایہ ہے۔ اسی لیے چین سمجھتا ہے کہ ہواوے کے ساتھ لین دین پر پابندی محض ایک کمپنی پر حملہ نہیں بلکہ چین کے ان عزائم کے خلاف کارروائی ہے جن کے تحت وہ بین الاقوامی سطح پر ایک کامیاب معیشت کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہواوے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا اعلان بظاہر ان کے اپنے عزائم کی نفی دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ امریکہ چین کو کھلا چھوڑ دے گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے لیے ہواوے ایک ایسی علامت بن چکی ہے جس کے ذریعے وہ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے کہ چینی معیشت میں کتنی خرابیاں ہیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ ہواوے کوئی آزاد نجی کاروبار نہیں ہے، بلکہ اس کے تانے بانے چینی حکومت سے ملتے ہیں اور چینی حکومت اس کمپنی کی مالی مدد بھی کرتی ہے۔ یاد رہے کہ ہواوے ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہے۔

اشتہار


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں