کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کی حکومتی کوششیں نتیجہ خیز ہونے لگیں

اسلام آباد: کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کی حکومتی کوششوں کے نتائج ملنا شروع ہوگئے اور جولائی میں جاری کھاتوں کا خسارہ 73 فیصد کم ہوگیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2019ء کے دوران حسابات جاریہ (کرنٹ اکاﺅنٹ) کا خسارہ 57 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک کم ہوگیا جبکہ جولائی 2018 کے دوران 2.13 ارب ڈالر خسارہ ہوا تھا اس طرح جولائی 2018ء کے مقابلے میں جولائی 2019ء کے دوران ملک کے جاری کھاتوں کے خسارے میں 1.551 ارب ڈالر یعنی 73 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

مرکزی بینک کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں ملکی برآمدات 11 فیصد اضافے سے 2.2ارب ڈالر جبکہ درآمدات 26 فیصد کمی سے 4 ارب ڈالر رہیں۔

جولائی میں خدمات کا خسارہ 8 فیصد کمی سے 47 کروڑ ڈالر جبکہ آمدن کا خسارہ 53 فیصد اضافے سے 61 کروڑ ڈالر رہا، یوں جولائی میں تجارت، خدمات اور آمدن کا خسارہ ایک تہائی فیصد کمی کے بعد 2.93 ارب ڈالر رہا۔

خسارے کی فنانسنگ کیلئے 2 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اہم رہیں، مالی سال 2019 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 21.84 ارب ڈالر وطن عزیز بھیجے ہیں۔

جولائی میں بھیجی جانے والی ترسیلات کے سبب ثانوی آمدن 2.35 ارب ڈالر رہی جبکہ بقایا خسارے کی فنانسنگ 55 کروڑ ڈالر قرض لے کر پوری کی گئی۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہونےسے قرض گیری کی ضرورت 74 فیصد کم رہی اور مالی سال 2019 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی طور پر ساڑھے 13 ارب ڈالر رہا۔

اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ برآمدات و ترسیلات زر بڑھاکر اور درآمدات کم کرکے بیرونی ناہمواریوں میں کمی کی حکومتی کاوشیں بار آور ثابت ہورہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 6 ارب ڈالر کم ہے جبکہ رواں برس جولائی کا خسارہ جولائی 2018 کے مقابلے میں 73 فیصد یا ڈیڑھ ارب ڈالر کم ہے جو یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے۔

خیال رہے کہ جب کسی ملک کی ایکسپورٹ (برآمدات) سے ہونے والی آمدنی کم اور امپورٹ (درآمدات) پر اخراجات زیادہ ہوں تو اسے جاری کھاتوں کے خسارے یعنی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہوتا ہے۔



اپنا تبصرہ بھیجیں