ایف بی آر میں اصلاحات اور ادارے میں بدعنوانیوں کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

Imran-Khan-Prime-Minister-Pakistan

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ایف بی آر میں اصلاحات کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آر پر عوام الناس کے اعتماد کی بحالی سے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی اور ایف بی آر میں اصلاحات کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں چیئرمین ایف بی آر نے وزیر اعظم کو گذشتہ ایک سال کی کارکردگی اور اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اگست تک 579ارب روپے ریونیو اکٹھا کیا جا چکا ہے جوکہ پچھلے سال کے مقابلے میں 14.65 فیصد اضافہ ظاہرکرتا ہے، رواں سال فائلرز کی تعداد میں سات لاکھ تراسی ہزار سے زائد افراد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ 2017 میں یہ تعداد 1514817 تھی جوکہ اب 2561099 تک پہنچ گئی ہے۔اسی طرح ڈومیسٹک ٹیکس کلیکشن میں 28فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
وزیراعظم کو عوام الناس کا ایف بی آر پر اعتماد بحال کرنے اور سہولت کاری کے ضمن میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، وزیراعظم کو بتایا گیا کہ رجسٹریشن، ٹیکس سرٹیفکیٹ کے اجراء ، ٹیکس ریٹرن جمع کرانے اور آڈٹ سمیت تمام مراحل کو خود کار اور کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہےجس کا مقصد اس سارے عمل میں ایف بی آر کے اہلکاروں سے شخصی طور پر رابطہ قائم کرنے کی ضرورت کو ختم کیا جا سکےاور ہر شخص کو مختلف محکموں کی جانب سے ایف بی آر کو موصول شدہ مالی تفصیلات آن لائن اور آسانی سے میسر آ سکیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ عوام الناس کی شکایات کے ازالے کے لئے آن لائن نظام کو مزید موثر بنایا جا چکا ہے ، عوام الناس کی سہولت کے لئے ایف بی آر کی جانب سے “معلومات”اور نادرا کی شراکت سے”سہولت”ویب پورٹل کا اجراء کر دیا گیا ہے جب کہ ایف بی آر کے اہلکاروں سے متعلق شکایات کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ عوام الناس میں اسمگل شدہ اشیا کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لئے ایف بی آر کی ٹیموں کی جانب سے مختلف مارکیٹوں کا دورہ کیا جا رہا ہے، بڑے ہوائی اڈوں پر کرنسی ظاہر کرنے کے ضمن میں “کرنسی ڈیکلیئر سسٹم ” ، ایڈوانس پیسنجرزانفارمیشن سسٹم بنایا گیا ہے اور باہر سے لائے جانے والے تمام موبائل فونز کی آن لائن ری جسٹریشن کی جارہی ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام الناس اورکاروباری برادری کا اعتماد بحال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مارکیٹوں کا دورہ کرنے والی ایف بی آر کی تمام ٹیمیں کسی بھی شخصی ملاقات کا موقع پرریکارڈ بنانایقینی بنائیں، ایف بی آر میں اصلاحات اور ادارے میں بدعنوانیوں کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ایف بی آر پر عوام الناس کے اعتماد کی بحالی سے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔

اشتہار


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں