انڈونیشیا میں شادی سے قبل جنسی تعلقات کیخلاف قانون پر ہنگامہ آرائی، 23 ہلاک

جکارتا: انڈونیشیا میں حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں بل پیش ہونے پر ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں جس کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں مغربی پاپوا میں 23 افراد ہلاک اور جکارتہ میں سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کی پارلیمنٹ میں شادی سے قبل جنسی تعلق استوار کرنے والوں جوڑوں کو سزا، توہین صدر اور انسداد کرپشن کے حوالے سے بل پیش کیا گیا جس پر انڈونیشیا کے مختلف علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ مغربی پاپوا میں پولیس اور مظاہرین کی درمیان جھڑپوں میں 23 افراد ہلاک ہوگئے۔

قانون کے تحت شادی سے قبل جنسی تعلقات قائم کرنے والے جوڑے کو ایک سال، نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنے والے جوڑے کو 6 ماہ اور اسقاط حمل پر 4 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے جب کہ صدر، نائب صدر اور ریاستی اداروں کا مذاق اڑانا غیر قانونی عمل ہوگا۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو ویڈوڈو نے بل پر ووٹنگ کو جمعہ تک معطل کردیا ہے تاہم اس کے باوجود مظاہرین کی بڑی تعداد پارلیمنٹ پہنچ گئی اور اسپیکر سے ملنے کی اجازت چاہی، اسپیکر سے اجازت نہ ملنے پر مظاہرہ پُرتشدد ہوگیا۔

پولیس نے مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی، صرف دارالحکومت جکارتہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 265 یونیورسٹی کے طلبہ اور 39 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جب کہ 250 سے زائد طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ دوسری بار صدر منتخب ہونے والے جوکو ویڈوڈو نے اپنی حکومت کی مضبوطی کے لیے کرپشن کیخلاف کارروائی کے نام پر درجنوں سرکاری افسران اور اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں