دنیا بھر میں نفرت آمیز تقاریر کا سب سے زیادہ شکار مسلمان ہوتے ہیں، ترک صدر

نیویارک سٹی: ترک صدر طیب ارگان نے کہا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر انسانیت کے خلاف بدترین جرائم کی وجہ بنتی ہیں اور دنیا میں اس کے سب سے زیادہ متاثر مسلمان ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر طیب اردگان نے نیویارک میں نفرت انگیز تقاریر سے نمٹنے کے حوالے سے نیویارک میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں نفرت آمیز تقاریر سے سب سے زیادہ متاثر مسلمان ہوتے ہیں۔

ترک صدر طیب اردگان نے اسلامو فوبیا میں مبتلا ممالک کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو دہشت گرد اور مجرم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے حالانکہ دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار خود مسلمان ہوئے ہیں۔ اسلامو فوبیا میں مبتلا ممالک نے نفرت آمیز پروپیگنڈا کرکے مسلمانوں کا امیج خراب کیا گیا اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں مسلمانوں کے خلاف جذبات کو اکسایا۔

ترک صدر نے بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گائے کا گوشت کھانے پر مشتعل ہندوؤں کا ہجوم مسلمانوں کو سرعام بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتا ہے کیوں ایسے جنونیوں کو کسی نام نہاد رہنما نے نفرت آمیز تقریر کرکے اکسایا ہوتا ہے۔
طیب اردگان نے مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جارحیت پسند قابض بھارتی فوج کے اقدامات اور متعصب ہندو رہنماؤں کی تقریر سے وادی میں خونریزی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، اس صورت حال میں عالمی قوتوں کی خاموشی مجرمانہ غلطی ہوگی۔

ترک صدر نے آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے سے ہونے والے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بھی کیا قبل ازیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی ترک صدر نے مسئلہ کشمیر کو عالمی رہنماؤں کے سامنے کھول کر رکھ دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں