گوگل کا کوانٹم کمپیوٹربنانے کا دعویٰ

کیلیفورنیا: سرچ انجن اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے کوانٹم کمپیوٹر بنانے کا دعویٰ کردیا، بعض بیانات کے مطابق گوگل نے اس کمپیوٹر سے ایسے بائنری اعداد (نمبرز) معلوم کرنے کی کوشش کی ہے جو حقیقی طور پر اٹکل (رینڈم) ہوں۔

گوگل کے مطابق کوانٹم کمپیوٹر نے وہ تخمینے بھی انجام دیئے ہیں جو اب تک کسی بھی طاقتور ترین سپر کمپیوٹر سے ممکن نہ تھے۔ اس طرح گوگل نے کوانٹم کمپیوٹنگ میں سبقت حاصل کرلی ہے۔

سچ ثابت ہونے کی صورت میں یہ ایک بڑی خبر ہے، اس سے مصنوعی ذہانت، صنعت، پیداوار اور تحقیق میں ایک نیا انقلاب آجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل، آئی بی ایم، انٹیل اور دیگر کئی کمپنیاں کوانٹم کمپیوٹربنانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
اگرچہ گوگل کا یہ دعویٰ کچھ مبہم دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس کا تحقیقی مقالہ گزشتہ ہفتے ناسا کے ایک سرور پر جاری کیا گیا لیکن فوراً ہی اسے ہٹا بھی دیا گیا۔ بعض اداروں نے اسے افواہ قرار دیا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر گوگل نے اس کے اثبات اور نفی میں اب تک کچھ نہیں کہا ہے۔

نیو سائنٹسٹ نامی جریدے کی ادارتی ٹیم نے اس مقالے کو دیکھا ہے جس میں کوانٹم کمپیوٹر کو سائیکا مور کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں 54 عدد سپر کمپیوٹنگ کوانٹم بٹس یا کیوبٹس ہیں لیکن اس اہم ترین ایجاد کے متعلق مقالے میں ایک ہی شخص کو بطور مصنف بتایا گیا ہے جس کا نام جان مارٹینس ہے جو یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سانتا باربرا میں پڑھاتے ہیں۔ یہ صاحب گوگل کے اشتراک سے کوانٹم کمپیوٹنگ کے ہارڈویئر تیار کرنے کے ماہرہیں۔

مقالے میں لکھا ہے کہ یہ ڈرامائی کام ایک تجرباتی عمل ہے اس سے کمپیوٹنگ کے عمل کا نیا باب کھلے گا جس کا انتظار کیا جاتا رہا ہے۔ واضح رہے کہ خود گوگل ناسا کے ساتھ مل کر کوانٹم کمپیوٹر پر کام کررہا ہے اور اس ضمن میں 2018ء میں دونوں اداروں کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پاچکا ہے۔

مقالے میں مزید لکھا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹر پروسیسر سے اٹکل سیمپل کے مسائل حل کیے گئے ہیں جن میں حقیقی رینڈم نمبروں کی تلاش شامل ہے، روایتی کمپیوٹر یہ کام نہیں کرسکتے کیونکہ اس میں عظیم حساب کتاب کا عمل ہوتا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک ایسا کام جو دنیا کا بہترین سپر کمپیوٹر 10 ہزار سال میں کرسکے وہ کوانٹم کمپیوٹر نے صرف 3 منٹ 20 سیکنڈ میں کر دکھایا ہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں