سعودی ساحل کے قریب ایرانی آئل ٹینکر پر راکٹ حملے

ریاض: سعودی ساحل کے قریب ایرانی آئل ٹینکر پر راکٹ حملے کے نتیجے میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی اور ٹینکر سے خام تیل سمندر میں گر کر ضائع ہوگیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی بندرگاہ سے 100 کلومیٹر فاصلے پر ایرانی آئل ٹینکر میں اچانک زوردار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی اور دھوئیں کے سیاہ بادل چھا گئے۔ آئل ٹینکر کا ایک حصہ تباہ ہونے کے باعث تیل بحیرہ احمر میں لیک ہونا شروع ہو گیا۔

سعودی میڈیا نے انکشاف کیا کہ دھماکا آئل ٹینکر کو لگنے والے دو راکٹوں کی وجہ سے ہوا تاہم یہ حملہ کس کی جانب سے کیا گیا اس حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں جب کہ سعودی حکومت نے تاحال اس معاملے پر لب کشائی نہیں کی ہے۔
یہ خبر پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز میں برطانوی آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا

ادھر ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ISNA نے جہاز میں موجود ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’دہشت گردانہ حملہ‘ ہونا خارج ازمکان نہیں تاہم ایران کی قومی آئل کمپنی نے ٹینکر پر حملے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کے کسی بیرونی حملے کے نتیجے میں ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز میں موجود عملہ محفوظ ہے، دھماکے سے جہاز میں پیدا ہونے والے سوراخوں کو بند کرکے خام تیل کے بہنے کے عمل کو روک دیا گیا ہے اور اب حالات عملے کے کنٹرول میں ہیں۔

دوسری جانب روس نے بھی دھماکے کے حوالے سے موقف اختیار کیا ہے کہ دھماکے سے متعلق کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا جب کہ بحیرہ احمر میں گشت کرنے والی امریکی نیوی کے دستوں نے دھماکے کی تصدیق کی ہے تاہم تفصیلات سے وہ بھی آگاہ نہیں۔

واضح رہے کہ ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد خلیج عمان پر سعودی بحری جہازوں پر حملے کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں جس کے دوران کسی آئل ٹینکر پر حملے کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے، اسی دوران برطانیہ کی جانب سے جبرالٹر پر ایرانی آئل ٹینکر کو ضبط کرنے پر جواباً پاسداران انقلاب نے بھی برطانوی آئل ٹینکر کو پکڑ لیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں