Orya-Maqbool-Jan

مولانا عبدالرشید غازی سے مولانافضل الرحمٰن تک

عبدالرشید غازی جو بعد میں مولانا کہلائے، قائداعظم یونیورسٹی سے 1988 ء میں انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو میں ملازم ہوگئے۔ ان کے والد لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبداللہ غازی تھے۔ جن دنوں سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد چل رہا تھا تو ان کی مسجد اسلام آباد میں اس جہاد کی نقیب اور اس میں حصہ لینے والوں کا ایک مرکزومحور ہوتی تھی۔ عبدالرشید غازی جب ایم اے کی ڈگری حاصل کر کے عملی زندگی میں آئے تو روس افغانستان چھوڑ چکا تھا اور مجاہدین کے مختلف گروہ آپس میں برسرپیکار تھے اور پورا افغانستان خانہ جنگی کی آگ میں جل رہا تھا تھا۔ پاکستان میں موجود علمائے کرام بھی اپنی پسند اور اپنی نیابت والے مجاہدین کا ساتھ دیتے تھے۔ قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمٰن کے اپنے اپنے محبوب افغان مجاہدین کے گروہ تھے۔ اسی دوران افغان سرزمین کو اللہ تبارک و تعالی نے ملاعمرمجاہد جیسا فرزند عطا فرمایا جس نے 1994 ء کے آخر میں اس خانہ جنگی اور تشدد کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور صرف چند مہینوں میں ایک پرامن حکومت قائم کرکے دکھائی۔ایسی حکومت جس نے افغانستان کو عدل وانصاف سے بھر دیا۔ مولانا عبداللہ غازی اپنے اس جدید تعلیم یافتہ بیٹے عبدالرشیدغازی کو ہمراہ لے کر ملامحمد عمرمجاہد سے ملاقات کے لئے اکتوبر 1998ء میں قندھار چلے گئے۔ اس دوران انکی ملاقات اسامہ بن لادن سے بھی ہوئی۔ عبدالرشید غازی کو افغانستان میں امن وامان، خوشحالی اور انصاف نے اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی نوکری چھوڑ کر شریعت کے نفاذ کے لیے زندگی وقف کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ملاقات کے دوران اسامہ بن لادن ایک گلاس سے آہستہ آہستہ پانی پی رہا تھا۔ عبدالرشید غازی نے اس کا گلاس اٹھایا اور اس میں سے بچا ہوا پانی پی لیا۔ اسامہ نے سوال کیا ”تم نے ایسا کیوں کیا ”تو عبدالرشید غازی نے جواب دیا ” تاکہ اللہ تبارک و تعالی مجھے آپ جیسا مجاہد بنا دے”۔ پاکستان واپسی پر عبدالرشید غازی کے سر پر عمامہ تھا اور داڑھی بڑھ چکی تھی۔ لیکن پاکستان واپسی کے صرف ایک ہفتے بعد ان کے والد مولانا عبداللہ غازی کو شہید کر دیا گیا۔ اب عبدالرشیدغازی کی زندگی بدل چکی تھی۔یونیسکو کی ملازمت ترک کرکے وہ لال مسجد کا مکین ہوگیا۔ ادھر پوری دنیا ملا محمد عمر کی افغانستان میں حکومت کے خاتمے کے درپے ہو چکی تھی۔ گیارہ ستمبر 2001 ء کا ورلڈ ٹریڈ سنٹرپر حملہ ایک بہانہ تھا جس نے افغانستان پر چڑھ دوڑنے کا راستہ ہموار کیا۔ پاکستان پر اسوقت مشرف کی حکومت تھی جس نے افغان مسلمانوں کے خلاف اس عالمی اتحاد اور امریکہ کا بدترین انداز میں ساتھ دیا۔مشرف کے اس فیصلے کے خلاف پہلی آواز مولانا عبد الرشید غازی نے بلند کی۔ حکومت امریکی حملوں میں مددومعاونت میں اس قدر مصروف تھی اس نے اس آواز کو دبانے پرفوری طور پر دھیان نہ دیا۔ ظاہر ہے جو ملک چھ سو کے قریب مسلمان پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر کے پیسے کمائے اور جس ملک کے تین ہوائی اڈوں سے 57 ہزار مریکی ہوائی جہازوں نے اڑان بھرکر افغانوں پر بم برسائے ہوں، اسے امریکی ہمراہی کے نشے میں فرصت ہی کہاں تھی۔ تین سال بعدجب افغانستان میں حملوں کی گرد بیٹھی تو اگست 2004 ء میں عبدالرشید غازی کے بارے میں حکومت نے اعلان کیا کہ وہ صدر مشرف، پارلیمنٹ اور فوج پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے۔ عبدالرشید غازی کے خلاف اعلان کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے آمنہ مسعود جنجوعہ اور خالد خواجہ کے ساتھ ملکر 2004 ء میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ایک تنظیم بنائی تھی۔ یہ وہ احتجاج تھا جو مشرف اور اس کے ملکی و غیر ملکی ساتھیوں کو ہضم نہیں ہورہا تھا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ ایک تاریخ ہے۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا آپریشن اس مملکت خداداد کا سیاہ ترین باب ہے۔ آپریشن کے بعد مشرف نے سوالات سے تنگ آکر کہا تھا کہ ’’کیا قتل و غارت کا شور مچایا ہوا ہے صرف نوے لوگ ہی تو مرے ہیں‘‘۔ انسانی جانوں کی یہ تذلیل اس سانحہ کا بدترین منظر تھا۔ جس دوران لاپتہ افراد کی بازیابی سے اٹھنے والی عبد الرشید غازی کی اس تحریک کے نتیجے میں حکومت لال مسجد پر ایکشن کر رہی تھی تو مولانا فضل الرحمٰن کی جے یو آئی اور قاضی حسین احمد کی جماعت اسلامی کا باہم اتحاد متحدہ مجلس عمل کی صورت اسمبلی میں براجمان تھا اور سرحد کی حکومت کے مزے لوٹ رہا تھا۔ اپریل 2007 ء میں جب تمام اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ سیکولر لبرل میڈیا کے ہر اینکر نے مشرف کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر لال مسجد کے خلاف محاذ بنایا تو اس وقت مولانا فضل الرحمٰن ایسے خاموش ہوئے کہ انہوں نے اپنا ٹیلی فون کسی عبدالستار نامی شخص کو تھما دیا جو ہر صحافی اور میڈیا کے آدمی کو یہ جواب دیتا تھا کہ ”مولانا جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر کوئی بیان نہیں دیں گے”۔ پھرانکی اس بدترین خاموشی کے دوران جب ایک دن لال مسجد پر آپریشن ہورہا تھا تو اس لمحے مولانا جمہوریت کی بقا، آئین کے تحفظ اور سسٹم کے تسلسل کے لیے خاموشی سے ملک سے ہی باہر چلے گئے تھے۔ آج بارہ سال بعد مولانا نے ایک کوشش کی کہ شریعت، تحفظ ناموس رسالت اور ختم نبوت کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کر سکیں۔ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز جیسا نعرہ مستانہ بھی لگایا۔لیکن بلاول زرداری کی سرعام ڈانٹ اور شہباز شریف کی پراسرار خاموشی کے بعد دبک کر بیٹھ گئے اور واپس اسی جمہوریت کی بقا، آئین کے تحفظ اور حکمرانوں سے نجات پر تحریک چلانے کیلئے راضی ہو گئے۔ ظاہر ہے جس دسترخوان سے آپ نے پچاس سال کھایا، جس سسٹم کی مراعات پر آپ کا گزر بسر ہوا، جس سسٹم نے آپ کو عوام الناس، میڈیا اور سیاست میں پہچان عطا کی، اب اسے کون چھوڑنے دے گا۔ جمہوریت کا کمال یہ ہے کہ یہ ہر اس شخص کی رگوں میں میٹھے زہر کی طرح سرایت کرتی ہے جو کسی بھی نظریے کے تحت انقلاب کا نقیب ہوتا ہے، سیٹس کو توڑنا چاہتا ہے، مروجہ نظام معیشت و سیاست و معاشرت کو بدلنا چاہتا ہے۔ کیمونسٹ تو کہا کرتے تھے کہ جمہوریت،انقلابی سوچ کے غبارے میں چھوٹا سا سوراخ کرکے اس میں سے آہستہ آہستہ ہوا نکال دیتی ہے،جسکی وجہ سے وہ ایک دم طاقتور قوتوں کے منہ پر نہیں پھٹتا۔ جمعیت علماء اسلام گذشتہ ستر سال سے پاکستان میں سیاست کر رہی ہے۔ اسے معلوم ہے کب اسٹیبلشمنٹ کے جھولے پر جھولنا ہے اور کب جمہوریت کی بس پر سوار ہونا ہے۔ مولانا کو بخوبی علم ہے کہ جمہوریت کی بس کا انجن اسٹیبلشمنٹ کی مشینری سے تیار ہوتا ہے اور اسے وہی ڈرائیور چلا سکتا ہے جو مقرر سپیڈ سے آگے نہ جائے۔ اگر کوئی ڈرائیور سپیڈ سے آگے بڑھنے لگے یا مقررہ روٹ سے کسی دوسری سمت گاڑی کو موڑ لے تو اول توگاڑی کے مسافرہی اسے بدل دیتے ہیں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو سکے تو گاڑی کے اردگرد رکاوٹیں کھڑی کرکے ڈرائیور کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ راستہ بدلے اور نہ ہی سپیڈ بڑھائے۔ اگر ایسا بھی ممکن نہ ہو تو گاڑی کو روکنے کے لیے ہجوم اس کے سامنے لا کھڑا کیا جاتا ہے جو تیز رفتار گاڑی کے پہیوں تلے کچلا جاتا ہے۔ لیکن تھوڑی دور جاکر گاڑی بھی خراب ہو کر رک جاتی ہے۔پھر نئی گاڑی، نیا انجن،نیا ڈرائیور، نیا روٹ۔ مولانا کو گاڑی کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز اور عبدالرشید غازی کے ساتھ ایسا ہی کیا گیاتھا۔ تصادم ہوا اور عبدالرشید غازی اور ان کے ساتھی اللہ اور اس کے رسول کے دین کی سربلندی کے نعرے لگاتے اگلے جہان جا پہنچے۔ ان نعروں کو میرا اللہ پہچانتا ہے اور عرش والے بھی خوب جانتے ہیں۔ لیکن مولانا فضل الرحمٰن کے جمہوریت، آئین اور سسٹم کی بقاء کے نعروں کو بھی عرش والے خوب جانتے ہیں۔ ہر کوئی روز قیامت اسی پرچم تلے اٹھایا جائے گا جس کے لیے اس نے جان دی تھی۔اللہ مولانا فضل الرحمٰن پر رحم کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں