Orya-Maqbool-Jan

مسلکی جمہوری سیاست

گزشتہ پندرہ سالوں سے مجھے بارہا ایسے پرجوش، نعرہ زن اور جذباتی انسانوں کے ہجوم میں جانے کا اتفاق ہوتا رہا ہے، جن کی عقیدت اور محبت ان کی عقل و ہوش پر غالب ہوتی ہے۔ یہ سب کے سب کسی نہ کسی مذہبی فرقے، روحانی حلقے یا مذہبی سیاسی پارٹی کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ انکی عقیدت و جذباتیت کے حوالے سے کسی مسلک کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ یہ عالمِ جنون ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ اولیائے کرام کے سالانہ عرس جن کا تمام ماحول زیادہ تر میلوں ٹھیلوں والا ہوتا ہے، رنگا رنگی غالب ہوتی ہے، لیکن وہ پنڈال جہاں علمائے کرام تقاریر کر رہے ہوتے ہیں وہاں ایک ہمہ تن گوش ہجوم موجود ہوتا ہے جو وقفے وقفے سے مخصوص نعرے بھی بلند کرتا ہے۔ آپ اس ہجوم کے سامنے کسی ولی، قطب، ابدال کی کوئی بھی کرامت بیان کر دیں،جھوٹ کی حد تک مبالغہ کردیں، فرط جذبات میں امڈے ہوئے لوگ اس پر یقین بھی کرتے ہیں اور واہ واہ کے ڈونگرے برساتے ہیں۔ اسی پنڈال میں اگر کوئی شخص اولیائے عظام کے منکرین کا ذکر شروع کردے، ان کی کرتوتیں بتائے، ان کی گستاخیوں کا تذکرہ کرے، تو نفرت کے شعلے آسمانوں کو چھونے لگتے ہیں۔ اسی طرح آپ کسی دیوبندی مسلک کے جلسہ عام یا ایسے وعظ میں شریک ہو جائیں، جو عام پبلک کے لیے منعقد کیا جاتا ہے جیسے شان صحابہ کانفرنس وغیرہ تو وہاں آپ کو جو جذبات کا عالم ملے گا وہ بھی حیران کردے گا۔ وہاں بھی لیکن جب بات سلف صالحین تک آجائے تو اپنے بزرگوں کی غلطیوں کے دفاع اور مخالف گروہ کے بزرگوں کی تضحیک کا ایک ایسا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ ہجوم اپنے بزرگوں کو جنت کی وادیوں میں گھومتے اور دوسروں کے بزرگوں کو جہنم کے گڑھوں میں گرے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ کچھ حضرات تو اس معاملے میں مہارتِ خصوصی رکھتے ہیں۔ دلیل و منطق کی بھول بھلیوں میں الجھا کر وہ ہجوم کو ایک ایسے مقام پر لے آتے ہیں کہ پھر جس محترم شخصیت کے خلاف بھی وہ چاہیں نعرہ بلند کروا لیں، لعنت بھجوا دیں، تبرا کا دور شروع کروا دیں۔ لوگوں کی اکثریت کی نظر میں انکا ہر مخالف یزید سے کم قابل نفرت نہیں ہوتا اور انکا ہر فرد اپنے گناہ، قتل اور مخلوق کو ایذا رسائی کے باوجود خانوادہ رسول ﷺ سے محبت کے ناطے قابل احترام ہوتا ہے، جنت کا حقدار ہوتا ہے۔ ایک اور مسلک کے علماء جب توحید کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ مسلم امہ کی اکثریت شرک کی وادیوں میں بھٹک رہی ہے اور بدعات کی گمراہی میں غرق ہے۔ یوں تو ان کے علمائے کرام قرآن و سنت کو اپنی اصل قرار دیتے ہیں اور اسی کسوٹی پر ہر قول کو پرکھتے ہیں لیکن وہاں بھی اگر معاملہ اپنے اکابرین اور رہنماؤں کا آجائے، ان کی بتائی گئی فقہ کی تعبیر کے دفاع کا معاملہ درپیش ہو تو پھر تمام مقلدین حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، بلکہ دیوبندی،بریلوی سب کی ایسی درگت بنائی جاتی ہے کہ ہجوم اس یقین کے ساتھ جلسے سے اٹھتا ہے کہ ان کے علماء کے پیدا ہونے سے پہلے تیرہ سو سال تک تو یہ امت ضرور گمراہی کا شکار تھی۔ مسالک کی یہ تقسیم صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور ہر کوئی اپنے عقیدے پر قائم اپنی آخرت کو سنوارتا تھا۔ چند علماء کرام کو چھوڑ کر عام سادہ لوح عوام جیسی بھی نماز پڑھتے، روزہ رکھتے، حج کرتے، میلاد مناتے، عرس کرتے ہیں، وہ سب کے سب اس یقین کے ساتھ کرتے کہ سید الانبیاء ﷺ کے دین کی اصل یہی ہے۔ عام آدمی کا ایمان قابل رشک ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ یہ میرے باپ دادا، قبیلے یا برادری کا چلن ہے، اس لئے میں یہ سب کر رہا ہوں، وہ اسے اللہ کی رضا اور آخرت میں سرخرو ہونے کے لئے کرتے ہیں۔ صرف علمائے کرام کو اس کا علم ہوتا ہے کہ انہوں نے کہاں مبالغہ آرائی کی، کہاں مرچ مصالحہ تیز کیا، قصہ گوئی کی ضرورت کے تحت کس جگہ جھوٹ کا اضافہ کیا۔ آج سے ڈیڑھ صدی پہلے تک یہ تمام لوگ، گروہ، مسالک، علمائے کرام، ذاکرین، اور پیران عظام موجود تھے،لیکن ان کا تمام زوربیان اُخروی نجات اور عقیدے تک محدود تھا اور ہر کوئی اپنی دنیا میں خوش تھا۔ نفرتیں چار دیواروں میں تھیں اور محبتیں بھی اپنے اپنے آنگنوں میں کھیلتی تھیں۔ لیکن اس امت کی بدقسمتی کا آغاز اس دن ہوا جب مسالک کی فرقہ پرستی کو جمہوریت کا سائبان میسر آگیا۔ جمہوریت جس کی بنیاد ہی کسی قوم، قبیلے، نسل اور امت کو اقتدار کی ہوس میں گروہوں میں تقسیم کرنا ہے، پارٹیاں بنانا اور الیکشن کروانا ہے۔ اس جمہوریت نے پہلے سے موجود امت میں تقسیم کی آگ کو ایسا بھڑکایا کہ ان سادہ لوگوں، معتقدین، مریدین اور پیروکاروں کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ برصغیر پاک وہند میں جمہوریت کا کانٹے دار درخت جو انگریز نے لگایا تھا اس پر ہر مسلک نے اپنا خاردار گھونسلہ بنالیا اور آج یہ جمہوری سیاسی مذہبی مسلکی پارٹیاں اس امت کی تقسیم کو اس مقام پر لے آئی ہیں کہ یہاں سوائے نفرت کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ وہ چاروں سنی ائمہ کرام جن کے درمیان آپس میں احترام اور وسعت قلبی کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ جو اہل تشیع کے امام جعفر صادق و دیگر کو اپنا استاد تسلیم کرتے تھے۔ جنہوں نے صدیوں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کیا اور اپنے دین کو دوسرے کے دین پر زبردستی ٹھونسنے سے انکار کیا۔ یہاں تک کہ حکومتی سرپرستی میں بھی ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے امام مالکؒ سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ کی موطا خانہ کعبہ میں آویزاں کر دی جائے اور تمام علاقوں کے قاضیوں کو اس کا پابند کیا جائے تو امام مالک نے فرمایا ” اس طرح امت میں خرابی کا زیادہ اندیشہ ہے کیونکہ بہت سے اصحاب رسول اور بہت کچھ رسول ﷺ سے سن کر مختلف علاقوں میں پھیل گئے ہیں اور لوگ ان کے مطابق دین پر کاربند ہیں، لیکن آج کے دور میں اگر کوئی مذہبی جمہوری سیاسی لیڈر ایسی وسعت قلبی رکھے گا تو اسکے سارے ووٹ ٹوٹ جاتے ہیں۔ کونسا ایسا مسلک و مذہب ہے جس کی جمہوری سیاسی پارٹی نہیں بن چکی ہے۔ جمیعت العلمائے اسلام، جمیعت العلمائے پاکستان، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، سپاہ صحابہ، تحریک لبیک، جمعیت اہل حدیث آپ کو ایک مسلک کی کئی پارٹیاں نظر آئیں گی۔اب تو مولانا مودودی کی بنائی گئی جماعت اسلامی بھی ایک مسلک بن چکی ہے۔ ان تمام پارٹیوں کے پیچھے چلنے والے دیوانہ وار افراد ایسے خونخوار گروہ بن چکے ہیں کہ آپ سیاسی جلسے یا مسجد کے ممبر پر بیٹھ کر کسی کو بھی کافر کہیں، یہودی کہیں، یزید کہیں، شاتم رسول کہیں وہ سب ایسے ایمان لائیں گے جیسے وحی نازل ہورہی ہے۔ ان کی آنکھوں میں خون اتر آئے گا۔ وہ کوئی اوربات تک سننا گوارا نہیں کریں گے۔ مرنے مارنے پر آجائیں گے۔ کوئی مذہبی، مسلکی سیاسی لیڈران کو کبھی آزاد نہیں چھوڑے گا۔ ان کو سوچنے کا موقع نہیں دے گا۔ وہ مسجد میں ہو یا امام بارگاہ میں، سیاسی جلسے میں ہو یا دھرنے میں، بات ایسے کرے گا جیسے فتویٰ صادر کر رہا ہو۔ اس کے بعد ہجوم سے وفاداری کا حلف لے گا۔ وہ ان سادہ لوح قیدیوں کو آزاد نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ یہ قیدی نہیں، ووٹ ہیں، اسمبلی کی سیٹیں ہیں، سینٹ کا راستہ ہیں، وزارت کی سیڑھیاں ہیں اور اقتدار کے زینے ہیں۔ یہ ہے امت میں وہ بدترین تقسیم جسے اللہ نے اپنا عذاب قرار دیا ہے۔ اللہ نے فرعون کی سرکشی اور فساد کی ایک علامت یہ بتائی ہے کہ ” فرعون نے زمین پر سر کشی اختیار کی اور لوگوں کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم کر دیا۔اللہ نے سورۃ الانعام میں عذاب کی تین اقسام بتاتے ہوئے تیسری عذاب کی صورت یہ بتائی ہے کہ ” وہ تمہیں مختلف گروہوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے لڑا دے اورایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے” (الانعام: 65)۔ یہ وہ عذاب جو ہم پر مسلط ہے اور کسی بھی ملک، قوم، نسل، رنگ اور مذہب کو گروہوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے لڑانے کا طریقہ جمہوریت سے بدترین اور کوئی نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں