javed-chaudhry-columns

مجھے اتنی بھی توفیق نہیں

بزرگ پرہیزگار تھے‘ پوری زندگی سجدے اور شکر میں گزاری‘ اللہ تعالیٰ کے فضل کے دروازے بھی ہمیشہ ان پر کھلے رہے‘ رزق‘ شہرت‘ عزت اور اختیارات کی فراوانی تھی لیکن پھر اچانک بینائی متاثر ہونا شروع ہو گئی‘ دائیں آنکھ میں دھندلاہٹ آئی‘ عینک بدل کر کام چلانے کی کوشش کی لیکن پھر بائیں آنکھ بھی دودھیا ہو گئی‘ ڈاکٹر نے آپریشن کا مشورہ دے دیا۔

بزرگ نے آپریشن کرا لیا‘ وہ اسپتال سے جانے لگے تو ڈاکٹر نے کہا آپ پٹی کھلنے تک جھک نہیں سکتے‘ بزرگ نے وجہ پوچھی‘ ڈاکٹر نے جواب دیا‘ آپ جھکیں گے توآنکھوں پر دبائو پڑے گا‘ زخم کھل جائیں گے اور یوں بینائی ضایع ہو جائے گی چناں چہ آپ مکمل طور پر صحت مند ہونے سے پہلے جھکنے کی غلطی نہ کریں‘ بزرگ نے پوچھا ’’تو کیا میں سجدہ بھی نہیں کر سکتا؟‘‘ ڈاکٹر نے جواب دیا ’’ہرگز نہیں‘ آپ کے لیے سجدہ خطرناک ثابت ہو گا‘‘ بزرگ گھر چلے گئے۔

بچوں نے تین دن بعد ڈاکٹر سے رابطہ کیا اور بتایا ’’ہمارے والد کھانا نہیں کھا رہے‘ یہ صرف پانی پیتے ہیں اور چپ چاپ لیٹ جاتے ہیں‘‘ ڈاکٹر نے ہنس کر جواب دیا ’’یہ نارمل ہے‘ چبانے سے آنکھوں کے پٹوں پر دبائو پڑتا ہے لہٰذا زیادہ تر مریض آپریشن کے تین چار دنوں تک سخت خوراک نہیں کھا پاتے‘ آپ انھیں ’’لیکوڈ فوڈ‘‘ دینا شروع کر دیں‘‘ بچوں نے والد کے گرد لیکوڈ فوڈ کا انبار لگا دیا مگر والد نے یہ غذا کھانے سے بھی انکار کر دیا‘ خوراک کی کمی سے بزرگ کم زور ہوتے چلے گئے‘ وہ باتھ روم تک نہیں جا پا رہے تھے‘ بچے ڈاکٹر کو گھر لے آئے‘ ڈاکٹر نے زور دے کر پوچھا ’’چاچا جی آپ کھانا کیوں نہیں کھا رہے‘‘ بزرگ خاموش رہے‘ ڈاکٹر نے دوسری بار پوچھا ’’کیا آپ کا کھانا کھانے کو دل نہیں چاہتا‘‘۔
بزرگ نے آہستہ سے جواب دیا ’’ میں کھانے کا شوقین ہوں‘ میرا بہت دل چاہتا ہے‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا ’’آپ پھر کھا کیوں نہیں رہے‘‘ بزرگ نے آہستہ سے کہا ’’بیٹا میں جس خدا کو سجدہ نہیں کر سکتا مجھے اس کا رزق کھاتے ہوئے شرم آتی ہے‘ سجدہ کروں گا تو ہی کھانا کھائوں گا‘‘ ڈاکٹر نے حیران ہو کربچوں کی طرف دیکھا‘ بچوں نے بتایا ’’ہمارے والد جوانی سے نماز پڑھتے ہیں‘ اللہ کو سجدہ کرتے ہیں‘ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں اور پھر کھانے کی چیز کو ہاتھ لگاتے ہیں‘ آپ نے سجدے سے روک دیا تھا اور والد نے کھانا ترک کر دیا‘‘۔ ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

ہم سب کی آنکھوں میں بھی آنسو آنے چاہئیں‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا کیا نعمت نہیں بخشی!آپ صرف اپنے دور کو لے لیجیے‘ 2035 تک دنیا کا شان دار ترین وقت ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس شان دار ترین وقت میں پیدا کیا‘ دنیا کے 90 فیصد ناممکنات ممکن ہوچکے ہیں‘ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں جا سکتے ہیں‘ آپ کو کوئی نہیں روکے گا‘ آپ ارب بلکہ کھرب پتی بن سکتے ہیں‘ آپ کے راستے میں کوئی شخص رکاوٹ کھڑی نہیں کرے گا‘ آپ کسی بھی بیماری کا شکار ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں اس کی شفاء کا بندوبست کر دیا ہے‘ آپ دنیا کی ہرکتاب پڑھ سکتے ہیں‘ دنیا بھر کی عدالتیں بھی آپ کے لیے کھلی ہیں اور دنیا کے تمام تعلیمی اداروں کے دروازے بھی‘ آپ صرف یو ٹیوب کو اپنی زندگی کاحصہ بنا لیں‘ آپ دنیا کا ہر علم سیکھ لیں گے‘ آج سے پچاس سال پہلے تک لوگ ملیریا‘ خناق‘ تشنج‘ ٹی بی‘ خسرہ‘ کالی کھانسی اور پولیو سے مر جاتے تھے‘ ہم آج اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگواتے ہیں اور یہ زندگی بھرکے لیے ان بیماریوں سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔

انسان نے اپنی اوسط عمر میں بھی اضافہ کر لیا‘ دوسری جنگ عظیم تک اوسط عمر پچاس سال ہوتی تھی‘ لوگ 45سال کی عمر میں ریٹائر ہو جاتے تھے اور ریٹائرمنٹ سے پانچ دس سال بعد انتقال کر جاتے تھے‘ آج دنیاکی ’’ایوریج ایج‘‘ میں اضافہ ہو چکا ہے‘ جاپان میں سو سال سے زائد عمر کے 67 ہزار 824 لوگ موجود ہیں اور یہ چلتے پھرتے اور دوڑتے بھاگتے ہیں‘امریکا میں مرد 90سال اور عورتیں عموماً92سال زندہ رہتی ہیں‘ یورپ میں مردوں کی اوسط عمر80سال اور خواتین کی 84 سال ہو چکی ہے اور پاکستان میں بھی اس وقت ایک کروڑ 13 لاکھ لوگوں کی عمریں 60 سال سے زیادہ ہیں‘ یہ تعداد کل آبادی کا ساڑھے چھ فیصد بنتی ہے۔

دنیا میں پچاس سال پہلے تک یہ ممکن نہیں ہوتا تھا‘ لوگوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کر کے محاذ پر بھجوا دیا جاتا تھا اور یہ وہاں سے زندہ سلامت واپس نہیں آتے تھے‘ آج پوری دنیا میں جبری فوجی بھرتی پر پابندی لگ چکی ہے‘ آج صحت‘ تعلیم‘ روزگار اور خوراک دنیا کے ہر انسان کا بنیادی حق بن چکی ہے اور دنیا کا کوئی قانون کسی شخص کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتا‘ دنیا کی نوے فیصد حکومتیں لوگوں کے ووٹوں سے بنتی ہیں اور کون کس وقت ان کا حکمران ہو گا یہ فیصلہ لوگ کرتے ہیں‘ آپ اپنی خواہش سے اپنی شہریت تک بدل سکتے ہیں‘ آپ جب چاہیں اپنا ملک‘ اپنی زبان اور اپنا کلچر بدل لیں‘ آپ کو کوئی نہیں روکے گا‘ لوگ آج اپنی جنس تک بدل لیتے ہیں‘ اپنا رنگ تک تبدیل کر لیتے ہیں‘ اپنی نشست وبرخاست‘ اپنا وے اف تھنکنگ اور اپنا لائف اسٹائل تک بدل سکتے ہیں۔

کیا یہ مقام شکر نہیں‘ کیا ہمیں دنیا کے بہترین وقت میں موجودگی پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرنا چاہیے‘ اللہ تعالیٰ اگر ہمیں دو اڑھائی سو سال پہلے پیدا کر دیتا اور ہم کسی مہلک بیماری‘ جنگ یا کسی درندے کا رزق بن جاتے یا پھر غلام ابن غلام ہوتے اور کسی جاگیر دار کے گھوڑوں کی لید صاف کرتے کرتے مر جاتے تو ہم قدرت کا کیا بگاڑ سکتے تھے‘ کیا ہم اس دور ابتلاء میں اپنی پیدائش پر کوئی سوال اٹھا سکتے تھے؟ کیا ہم قدرت سے ٹکرا سکتے تھے! جی نہیں چناں چہ ہم اگر اکیسویں صدی میں ہیں تو یہ اللہ کی خاص مہربانی‘ یہ اس کا خصوصی کرم ہے اور ہمیں اس کرم پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

ہم روز اپنی مرضی سے سوتے اور اپنی مرضی سے جاگتے ہیں‘ ہم نیند کے لیے دوائوں کے محتاج نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو ایک چھوٹی سی گولی ہمیں نیند کی گہری وادی میں لے جاتی ہے اور ہم پھر اس وادی سے بحفاظت واپس آ جاتے ہیں‘ کیا یہ اللہ کا کرم نہیں اور کیا اس پر ہمارا سجدہ نہیں بنتا؟

ہم جو چاہتے ہیں ہم کھا لیتے ہیں اور یہ معدے اور چھوٹی اور بڑی آنت سے ہوتا ہوا باہر نکل جاتا ہے‘ ہمارا اپنا فضلا ہماری آنت میں جم کر ہمارا جسم گلانا شروع نہیں کرتا‘ ہم جو چاہتے ہیں پی لیتے ہیں اور ہمارے گردے ہماری بے احتیاطی‘ ہماری حماقت کو فلٹر کر کے باہر نکال دیتے ہیں‘ یہ اسے ہمارے خون‘ ہمارے جسم میں نہیں رہنے دیتے‘ ہم بارہ سو کیمیکل میں زندگی گزار دیتے ہیں اور ہماری ناک‘ ہمارے پھیپھڑے ان کیمیکلز کو جسم سے خارج کرتے رہتے ہیں‘ یہ انھیں ہمیں نقصان نہیں پہنچانے دیتے‘ ہماری پلکیں ہوا میں تیرتے کچرے کو صاف کرتی رہتی ہیں‘ ہمارے کانوں کی میل کیڑوں‘ مکھیوں اور مچھروں کو ہمارے دماغ سے دور رکھتی ہے‘ ہماری ناک کے غدود پلوشن کو جسم میں داخل نہیں ہونے دیتے‘ ہماری زبان سات ذائقے چکھ لیتی ہے‘ ہماری ناک خوشبوئوں کے دس پیٹرن محسوس کر لیتی ہے۔

ہم جس چیز کو چھونا چاہتے ہیں چھو لیتے ہیں‘ ہم جو آواز سننا چاہتے ہیں سن لیتے ہیں‘ ہم میں گرم اور ٹھنڈے دونوں احساس ابھی تک زندہ ہیں‘ ہم بول بھی سکتے ہیں‘ ہم اپنی بات بھی سمجھا سکتے ہیں‘ ہم اپنے اللہ کو بھی یاد کر سکتے ہیں اور ہم اچھے اور برے کی تمیز بھی کر سکتے ہیں تو پھر ہمیں مزید کیا چاہیے‘ ہمیں اپنے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے مزید کون سی نعمت‘ مزید کون سا کرم چاہیے؟

میرے ایک ارب پتی دوست ہیں‘ یہ پراسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہوئے‘ آپریشن ہوا اور ان کا پیشاب کنٹرول کرنے کا سسٹم خراب ہو گیا‘ یہ اب اپنا پیشاب کنٹرول نہیں کر سکتے‘ یہ پیمپر لگا کر سارا دن گھر میں بیٹھے رہتے ہیں‘ میں ان کے پاس گیا تو یہ دھاڑیں مار کر رونے لگے‘ میں نے تسلی دی تو یہ آنسو صاف کر کے بولے ’’میں بیماری کی وجہ سے نہیں رو رہا‘ میں اس لیے رو رہا ہوں اللہ نے مجھ سے سجدے کی توفیق بھی واپس لے لی۔

میں اب نماز پڑھ سکتا ہوں اور نہ عمرہ اور حج کر سکتا ہوں‘‘ میں یہ سن کر کانپ اٹھا اور آسمان کی طرف دیکھ کر عرض کیا ’’یا باری تعالیٰ تیرا کتنا کرم ہے‘ تم نے ہمیں سجدوں کی توفیق عطا کر رکھی ہے‘ ہم جب چاہتے ہیں تیری بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جاتے ہیں‘ دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو سجدے کی لذت سے محروم ہیں‘‘ میں نے ایک دن فٹ پاتھ پر ایک بھکاری کو دیکھا‘ وہ دو اینٹیں جوڑ کر بیٹھا تھا اور بار بار کہتا تھا ’’ یا باری تعالیٰ تیرا کتنا کرم‘ کتنا رحم ہے‘ میرا وقت صرف میرا ہے‘ میں کسی کا غلام‘ کسی کا نوکر نہیں ہوں‘‘ میں اس کے پاس رک گیا۔

جیب سے پچاس روپے نکال کر اس کے گتے پر رکھ دیے اور پوچھا ’’مجھے تمہارے شکر کی سمجھ نہیں آئی‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’میں ہر وقت مصروف لوگوں کو دائیں بائیں سے گزرتے دیکھتا ہوں‘ یہ لوگ رزق کے غلام ہیں‘ یہ رزق کے لیے اپنی زندگی تک گروی رکھ چکے ہیں جب کہ اللہ نے مجھے اس دکھ سے رہائی دے رکھی ہے‘ میرا وقت صرف میرا ہے‘ میں جہاں چاہتا ہوں بیٹھ جاتا ہوں اور تمہارے جیسا کوئی نہ کوئی شخص میرے حصے کا رزق مجھے دے جاتا ہے‘ میں اپنے اللہ کا شکر کیوں نہ ادا کروں‘‘ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں نے سوچا‘میں کتنا بدبخت ہوں‘ مجھے شکر کی اتنی توفیق بھی نہیں‘ آپ بھی سوچیں‘ آپ کو بھی احساس ہو جائے گا ہم کتنے بدبخت ہیں؟ ہم اس کا کھاتے ہیں مگر شکر کے لیے اسے سجدہ نہیں کرتے۔

مجھے اتنی بھی توفیق نہیں” ایک تبصرہ

  1. ماشاءاللہ بہت زیادہ خوبصورت تحریر ہے اللہ تعالیٰ حکمران کو بھی اس کی سمجھ عطا فرمائے خاص طور پر مسلمانوں کے حرام خور حکمرانوں کو۔اتنی دولت ہونے باوجود بوکھے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں