Orya-Maqbool-Jan

بلوچستان بدل رہا ہے

نواب خیر بخش مری بلوچستان کی قبائلی اور سیاسی تاریخ کا بہت بڑا نام ہے۔ آج بھی ان کی سیاست کی پرچھائیاں یہاں کی قوم پرست قیادت کی تحریر و تقریر میں نظر آتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب بلوچستان کی منتخب حکومت کو ختم کر کے غداری کے مقدمے قائم کیے۔ نواب صاحب کو حیدر آباد جیل میں ڈالا اور ان کے خلاف مقدمے کی سماعت بھی جیل میں منتقل کی تو ایسے میں مری قبیلہ نواب صاحب کے حکم پر پہلے اس آمرانہ مسلم ریاست ایکشن کے خلاف پہاڑوں پر جا کر مسلح جدوجہد کرنے لگا اور پھر وہیں سے افغانستان منتقل ہو گیا۔ نواب صاحب کی اولادیں بھی افغانستان منتقل ہوئیں لیکن پھر وہ یادش بخیر سوویت یونین چلی گئیں جہاں انہیں شاندار رہائش گاہیں اور ماہانہ وظائف میسر تھے جن کی بدولت وہ سوویت یونین جیسے کمیونسٹ ملک میں بھی شاہزادوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔ افغانستان میں روس کو شکست ہوئی مجاہدین کا غلبہ قائم ہوا تو سب لوگ واپس آ گئے۔ نواب صاحب کے دو بیٹے نوابزادہ چنگیز مری اور نوابزادہ گیزین مری 1993ء کی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر بھی بنا دیے گئے۔ گیزین مری وزیر داخلہ تھا کہ میری اس سے سلام شروع ہوئی۔ اس کا گھر بولان میڈیکل کالج کے ساتھ ایک انتہائی دشوار قسم کی ڈھلوان پر بنایا گیا تھا لیکن اپنے ڈیزائن اور حسن ذوق کی وجہ سے دل کو موہ لیتا تھا اور نظریں اس کا بار بار طواف کرنے کو چاہتی تھیں۔ اس گھر میں پہلی دفعہ میں دوپہر کے کھانے پر نوابزادہ گیزین مری کی دعوت پر گیا اور پھر میں اس گھر کے حسن کا شیدائی اور گیزین مری کے حسن ذوق کا اسیر ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد میں سبی میں ڈپٹی کمشنر ہو گیا۔ سبی نوابزادہ چنگیز مری جو اب نواب کا صوبائی حلقہ تھا اور مریوں کے علاقے کی بنیادی گزرگاہ اور مارکیٹ۔ اس دوران گیزین مری سے میری ملاقاتیں بڑھتی گئیں۔ اس کے پاس گفتگو کرنے کے لئے لاتعداد موضوعات تھے اور میں اس کے ساتھ بے تکان گفتگو کر سکتا تھا‘ لیکن سب سے اہم بات اس کا حسن ذوق تھا۔ بلوچستان کے خوبصورت اور دلکش مناظر کی گفتگو کرتے کرتے اس نے کاہان کی طرف جانے والی سڑک پر ایک مقام کے بارے میں بتایا کہ یہ بیابان میں نخلستان ہے۔ اس نے بتایا کہ سبی سے کاہان کے درمیان خشک اور سنگلاخ پہاڑوں میں پکی سڑکوں پر گاڑی چلاتے ہوئے آپ اچانک ایک چڑھائی پر آتے ہیںکہ سامنے یہ جنت نظیروادی نظر آتی ہے۔ پھر اس کے بعد خود ہی ہنسنے لگا اور کہا کہ جب میں پہلی دفعہ اس وادی میں اترا تو میرے ساتھ گاڑی میں ایک وڈیرہ بھی بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے گاڑی روکی اور منظر سے لطف اندوز ہونے لگا۔ پھر میںنے وڈیرے سے سوال کیا، کیسی ہے یہ جگہ‘ اس نے کہا اگر یہاں پانچ ہزار دنبے اور بکرے لاکر رکھے جائیں تو وہ دنوں میں موٹے تازے ہو جائیں گے اور پھر وہ اس وڈیرے کی بات پر بے ساختہ ہنسنے لگا آج تقریباً پچیس سال بعد یہ قصہ اس لئے یاد آ رہا ہے کہ میں اس وقت کوئٹہ میں تین روزہ لائیو سٹاک ایکسپو میں موجود ہوں۔ بلوچستان یونیورسٹی کا آڈیٹوریم جہاں ایک زمانے میں ملک کے نامور ادیب شاعر سیاست دان گفتگو کیا کرتے تھے۔ اس آڈیٹوریم میں یونیورسٹی سٹوڈنٹ کی حیثیت سے ایوب کھوسہ کو ڈرامہ سٹیج کرنے‘ جمال شاہ اور فریال گوہر کو فائن آرٹس کے استاد کی حیثیت سے تصاویر کی نمائش کرتے میں نے دیکھا ہے۔ اسی آڈیٹوریم کے پڑوس میں موجود یونیورسٹی میں پانچ سال میں نے تدریس کے فرائض انجام دیے ہیں۔ آج اس ماحول میں وہ سب کچھ یاد آ رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے دادا جام غلام قادر جب وزیر اعلیٰ تھے تو میں نے سول سروس کا آغاز کیا تھا۔ لیکن یونیورسٹی کے ماحول میں لائیو سٹاک ایکسپو ایک بالکل انوکھا تجربہ تھا۔ اس طرح کی بڑی تقریب جس میں دنیا بھر سے مندوب تشریف لائے ہوں۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے اس کا تصور بھی بلوچستان یونیورسٹی خصوصاً سریاب روڈ پر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ نواب اکبر بگٹی کے سانحہ کے بعد 2007ء میں جب میں جائنٹ سیکرٹری ہیلتھ کی حیثیت سے سریاب روڈ پر واقعہ شیخ زید ہسپتال کے دورے پر اسلام آباد سے آیا تو ایئر پورٹ سے یہاں آنے کے لئے ڈرائیور نے سبز نمبر پلیٹ بدل کر کالی لگا دی تاکہ کوئی اسے نشانہ نہ بنائے۔ حالانکہ گاڑی میں میرے ساتھ بلوچستان کے واحد جرنیل اور سابقہ گورنر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ کا بھائی بھی بیٹھا تھا جو اس ہسپتال کا انچارج تھا۔ یونیورسٹی تو ایک قسم کا نوگوایریا تھا لیکن آج کوئٹہ بدل چکا ہے۔ خوف سے بہت حد تک آزاد ہو چکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس تبدیلی میں صدیوں سے آباد پنجابی یہاں سے ہجرت کر کے جا چکے ہیںاور ان کی جگہ کسی پاکستانی بلوچ یا پشتون نے نہیں بلکہ افغانستان سے یہاں آ کر آباد ہونے والے مہاجروں نے پُر کی ہے۔ جب یہ ہجرت کا سفر شروع ہوا تھا اور خوفزدہ سٹیلر کوئٹہ چھوڑ کر جا رہے تھے تو میں نے خوف کے عالم میں لکھا تھا’’کیا کوئٹہ قندھار بن جائے گا‘‘ اور آج لوگ عمارتوں کی طرف اشارے کر کے بتاتے ہیں کہ یہ فلاں شخص کی ہے جو فلاں سال قندھار سے یہاں آیا۔ شادی کی ‘ بچوں کی شادیاں کیں اور اب یہ کئی منزلہ پلازہ اس کا ہے۔ اس سب کے باوجود کوئٹہ پرامن ہے اور نظر آتا ہے۔ رات گئے جہاز اترا تو پورا کوئٹہ جیسے جگمگا رہا تھا۔ پہلے جہاز رات کو نہیں اترتا تھا۔ ایسا منظر مستونگ سے آتے ہوئے چڑھائی سے نظر آتا تھا۔ یہ کوئٹہ صرف اس لئے نہیں بدلا کہ یہاں امن عامہ کی ایجنسیوں نے کام بہت اچھا کیا۔ یہ بھی ایک وجہ ہے اور اس کا تمام کریڈٹ ان لوگوں کو جاتا ہے جو بے گناہی میں امن عامہ کی ذمہ داریاں نبھاتے یا عام شہری کی حیثیت سے جان سے گئے۔ لیکن کوئٹہ اس لئے بھی بدلا ہے اس لئے پرامن ہوا ہے کیونکہ بلوچستان کا وہ بلوچ علاقہ جو صدیوں کا پسماندہ تھا اور جسے پسماندہ رکھ کر دنیا بھر کو بلیک میل کیا جاتا تھا۔ وہ تبدیل ہو رہا ہے ایک زمانہ تھا جب میں 1982ء میں اٹھائیس گھنٹے کے سفر کے بعد کوئٹہ سے گوادر پہنچا تھا۔ آج یہ سفر صرف نو گھنٹے کا رہ گیاہے اور سڑک ایسی کہ پانی بھی نہ چھلکے۔ مکران کے سب سے اہم شہر تربت پر کسی جدید شہر کا گمان ہوتا ہے۔ وہ تربت جہاں صرف چھ گھنٹے کے لئے بجلی آتی تھی۔ ایک سناٹا تھا چاروں طرف۔ پنجگور سرسبز توتھا لیکن کسی اجڑے ہوئے قصبے کی طرح لگتا تھا۔ خضدار کوئٹہ کراچی شاہراہ پرچند سرکاری عمارات کی وجہ سے آباد لگتا تھا۔ اس وقت یہ کوئٹہ سے زیادہ خوبصورت شہر ہے‘ آواران‘ خاران ‘ مشکے‘ ناگ ‘ وڈھ اور دیگر علاقے جو خوف کی علامت تھے وہاں سولر پینل کی بجلی انقلاب لے آئی ہے۔ جن کا دھندا چھوٹی موٹی سمگلنگ تھی اب زمیندار ہیں۔ آواران سے ڈاکٹر خدائے نذر کے زمانہ میں بلوچ بھی علاقہ چھوڑ کر بھاگے تھے اب واپس آ کر اس جدید شہر میں زندگی گزار رہے ہیں۔ میرا دوست اور بلوچستان کے سابق ہوم سیکرٹری کا بیٹا‘ سابق وائس چانسلر اور سابق کمشنر کا بھتیجا جو پورے بلوچستان میں مسلسل گھومتا رہتا ہے کہ شکار اس کا شوق ہے، وہ یہ سب بتا رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں ایک مسرت تھی۔ ایک سرخوشی تھی۔ لائیو سٹاک کانفرنس میں میرے ساتھ بیٹھا تھا اور ہم سوچ رہے تھے کہ شاید آسٹریلیا میں دنبوں اور بکروں کی افزائش کے وہ مواقع نہ ہوں جو یہاں بلوچستان میں ہیں۔ پھر ایک دم وہ افسردہ ہو گیا، کہنے لگا میں پشتون ہوں تربت‘ خضدار‘ گوادر اور پنجگور بدل گئے لیکن میرا پشین ‘ لور الائی اور چمن ویسا ہی ہے شاید وجہ یہ ہے کہ وہاں یامحمود خاں اچکزئی کی پشتونخوا میپ جیتتی ہے یا مولانا فضل الرحمن کی جمعیت۔ آپ کوئٹہ سے گوادر نو گھنٹے میں جا سکتے ہیں جو اٹھائیس گھنٹے کا سفر تھا لیکن کوئٹہ سے چمن جو دو گھنٹے کا سفر ہے آپ دس گھنٹے میں بھی طے نہ کر سکیں گے کیونکہ راستہ میں مولانا اورمحمود خان کا دھرنا آتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں