وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کی برطانوی جیل میں حالت تشویشناک

لندن: برطانوی حکومت کے نام 60 ڈاکٹرز نے کھلے خط میں وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کی جیل میں صحت مسلسل گرنے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ خرابی صحت کے باعث ان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق وکی لیکس سائٹ کے بانی جولیان اسانج گرفتاری دینے کے بجائے برطانیہ میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لیکر سات سال قیام کرنے کے جرم میں برطانوی جیل میں 50 ہفتوں کی قید کاٹ رہے ہیں جس کے بعد انہیں امریکا کے حوالے کردیا جائے گا۔

امریکا میں جولیان اسانج کیخلاف ملک کے حساس راز افشا کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا اور جرم ثابت ہوجاتا ہے تو جولیان اسانج کو 175 سال تک کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ جولیان اسانج کی برطانیہ میں سزا آئندہ برس فروری تک ختم ہوجائے گی۔

برطانوی حکومت نے ڈاکٹرز کے تشویش بھرے کھلے خط کے جواب میں تاحال کسی قسم کا ردعمل نہیں دیا ہے اور ابھی یہ بات بھی واضح نہیں کہ جولیان اسانج کو خرابی صحت کی وجہ سے رہا کردیا جاتا ہے تو ان کا قیام کہاں ہوگا اور کیا انہیں فوری طور پر امریکا بھیج دیا جائے گا۔

جولیان اسانج نے 2012 میں اپنے خلاف مقدمات بننے پر برطانوی عدالت سے ضمانت حاصل کرلی تھی تاہم موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ لاطینی ملک ایکواڈور کے سفارت کار چلے گئے اور پناہ حاصل کرلی تھی جس کے بعد ایکواڈور نے 2018 میں انہیں شہریت دے دی تھی تاہم اپریل 2019 میں شہریت کو منسوخ کردیا تھا۔

شہریت کی منسوخی کے بعد برطانیہ میں ایکواڈور کے سفیر نے جولیان اسانج کو پولیس کے حوالے کردیا تھا اور اب وہ 50 ہفتے کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں