ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر تعینات نہیں ہوتا جیسے آرمی چیف کو کیا جا رہا ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر تعینات نہیں ہوتا جیسے آرمی چیف کو کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار ریاض حنیف راہی عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے آج دو بار عدالت سے اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی جسے عدالت نے دونوں بار مسترد کردیا۔ وہ گزشتہ روز سماعت میں پیش نہیں ہوئے تھے اور اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی تھی جسے مسترد کردیا گیا تھا۔

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے تین امور ہیں، پہلا تقرری کی قانونی حیثیت کا ہے، دوسرا تقرری کے طریقہ کار کا ہے، تیسرا تقرری کی وجوہات ہیں، وزیر اعظم کسے آرمی چیف لگاتے ہیں یہ ہمارا مسئلہ نہیں، حکومت کل تک اس معاملے کا حل نکالے، کل کے بعد وقت نہیں رہ جائے گا پھر فیصلہ کرنا پڑے گا، اگر معاملہ غیر قانونی ہوا تو پھر ذمہ داری ہم پر آ جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس وقت نہیں ملک میں ہیجان برپا ہے، اگر آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہوا تو پھر ہم نے حلف اٹھا رکھا ہے اللہ کو جواب دینا ہے، کل کے بعد مہلت ختم ہو جائے گی، جس کے بعد ہم کو بھی فیصلہ کرنا پڑے گا اور حکومت کو بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں