javed-chaudhry-columns

مراکو میں ہم خیالوں کے سات دن

دنیا میں مسجدیں سارا دن کھلی رہتی ہیں‘ آپ کسی بھی وقت‘ کسی بھی مسجد میں نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن مراکو کے لوگ صرف نماز کے وقت مسجد کھولتے ہیں‘ نمازیوں کو آدھ گھنٹہ دیا جاتا ہے اور پھر جماعت کے بعد مسجد کو تالا لگا دیا جاتا ہے‘ میں شروع میں اس ’’سنگ دلی‘‘ اور اس غیر اسلامی حرکت پر پریشان ہوتا تھا ‘ میں نے پریشانی میں ایک دن فاس شہر کے ایک عالم دین سے اس کی وجہ پوچھ لی‘ وہ ہنس کر بولے ’’ہم یہ سمجھتے ہیں ہم میں سے جو مسلمان نماز کے لیے بھی وقت پر مسجد نہیں آتا اس کے لیے اللہ کا گھر نہیں کھلنا چاہیے‘‘ میں یہ سن کر حیران رہ گیا۔

وہ بولے ’’ہم مسلمان وقت کی پابندی نہیں کرتے‘ ہم وقت پردفتر‘ کالج یا کارخانے نہیں جاتے لیکن ہمیں نماز کے معاملے میں وقت کی پابندی ضرور کرنی چاہیے‘ ہم اگر وقت پر سجدہ نہیں کریں گے تو اس کا مطلب ہو گا ہم اللہ تعالیٰ کو اہمیت نہیں دیتے‘ مراکش کے مسلمان اچھے مسلمان ہیں چناں چہ یہ وقت پر نماز ادا کرتے ہیں‘ ہم ان کے جانے کے بعد مسجد کو تالا لگا دیتے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی نماز کو اہمیت نہ دینے والوں کو سزا مل سکے‘‘ یہ ایک حیران کن فلسفہ تھا اور یہ فلسفہ ثابت کرتا ہے مراکش کے مسلمان کس قدر شان دار اور اچھے مسلمان ہیں۔

میں 22 نومبر کو چھٹی مرتبہ مراکش آیا‘ میں پانچ مرتبہ اکیلا آیا تھا لیکن اس بار میرے ساتھ 91 لوگ تھے‘ یہ تمام لوگ ’’ہم خیال‘‘ تھے‘ ان میں ڈاکٹر‘ انجینئر‘ بزنس مین‘ صنعت کار‘ سرکاری افسر اور پروفیسر شامل تھے‘ یہ ہم خیال گروپ اور ’’آئی بیکس‘‘ کا ساتواں ٹور تھا‘ ہم لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد سے رات گئے کاسا بلانکا پہنچے اور سات دن مراکو میں رہے‘ ہم دوسرے دن رباط اور رباط سے طنجہ پہنچ گئے‘ طنجہ میں مرشد ابن بطوطہ کے مزار پر حاضری دی‘ دنیا کا پہلا امریکی سفارت خانہ دیکھا‘ مراکو دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے امریکا کو ملک کی حیثیت سے تسلیم کیاتھا‘ امریکا نے اپنا سفارت خانہ طنجہ میں کھولا‘ یہ امریکا کی امریکا سے باہر پہلی پراپرٹی تھی‘ یہ اب عجائب گھر بن چکا ہے۔

ہم نے اس کے دروازے کو چھو کر دیکھا‘ طنجہ میں بحر روم اور بحر اوقیانوس دو سمندر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں‘ یہ دنیا میں ٹھنڈے اور گرم سمندر کا پہلا بڑا ملاپ ہے‘ دونوں سمندر دور تک ایک دوسرے سے کھیلتے چلے جاتے ہیں‘ ہم بڑی دیر تک یہ کھیل دیکھتے رہے‘ طنجہ میں غار کے دور کے غار بھی ہیں‘ یہ غار ’’ہرکولیس کیو‘‘ کہلاتے ہیں‘ ہم ان غاروں میں بھی گئے اور پرانے شہر ’’مدینہ‘‘ کی گلیوں کی سیر بھی کی‘ ہم طنجہ کے بعد شیف شان (Chefchaouen) گئے‘ یہ طنجہ سے اڑھائی گھنٹے کی دوری پر ایک خاموش دل چسپ ٹاؤن ہے‘ یہ شہر 1492 میںسقوط غرناطہ کے بعد اسپین کے مسلمانوں اور یہودیوں نے آباد کیا تھا‘ غرناطہ فال کے وقت عیسائیوں نے صرف مسلمانوں کو اندلس سے جلاوطن نہیں کیا تھا بلکہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو بھی مراکش کی طرف دھکیل دیا گیا تھا‘ یہ جلاوطن طنجہ سے ہوتے ہوئے مراکو کے مختلف شہروں اور علاقوں میں جذب ہو گئے۔

یہ لوگ اسپین سے آتے ہوئے نیلا رنگ ساتھ لائے تھے چناں چہ یہ جہاں بھی آباد ہوئے یہ وہاں اپنے گھروں کی بیرونی دیواروں پر نیلا رنگ پھیرتے رہے‘ مراکو کا رنگ سفید تھا‘ لوگ بیرونی دیواروں پر سفید رنگ کرتے تھے‘ اسپین کے مہاجروں نے مقامی لوگوں کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کے لیے دیواروں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا‘یہ زیریں حصے پر نیلا رنگ کر دیتے تھے‘ اس کا مطلب ہوتا تھا اس دیوار کے پیچھے اسپین کے مہاجر رہتے ہیں اور بالائی حصے پر سفید رنگ پھیر دیتے تھے‘ اس کا مطلب ہوتا تھا ہم لوگ اب مراکشی بن چکے ہیں‘ شیف شان پورا ٹاؤن مہاجروں نے آباد کیا تھا چناں چہ اس کے تمام مکان نیلے تھے اور یہ مکان چھ سو سال سے نیلے چلے آرہے ہیں۔

یہ ٹاؤن پہاڑ کی اترائی پر آباد ہے‘ چھتیں‘ دیواریں اور گلیاں تمام نیلی ہیں‘ ہم جب ان قدیم نیلی گلیوں میں اترے تو ہمیں محسوس ہوا ہم 21 وی صدی سے پندرہویں صدی میں جا گرے ہیں‘ ہمارے قدموں کے نیچے پتھریلی گلیاں تھیں‘ دائیں بائیں نیلی دیواریں تھیں اور اوپرتاحد نظر نیلا آسمان تھا‘ یہ تمام اجزاء مل کر ماحول کو خواب ناک بنا رہے تھے‘ میں شیف شان میں پہلی مرتبہ آیا تھا‘ میں یہ شہر دیکھ کر حیران رہ گیا‘ ہمارے پورے گروپ نے دل بھر کر اسے انجوائے کیا‘ ہم ان شاء اللہ مارچ میں نیا گروپ لے کر مراکش جائیں گے‘ ہم نے فیصلہ کیا ہم اگلی مرتبہ ایک رات شیوشان میں گزاریں گے‘ یہ شہر شام اور رات کے وقت زیادہ حسین ہو جاتا ہے۔

شہر کے تمام لوگ بچوں کے ساتھ گھروں سے باہر آ جاتے ہیں‘ گلیاں آباد ہو جاتی ہیں اور پوری وادی میں آوازیں گونجنے لگتی ہیں‘ مراکو کی شان دار روایات میں سے ایک روایت شام کے وقت گھر سے باہر نکلنا ہے‘ یہ لوگ شام کو پورے خاندان کے ساتھ گھر سے باہر آتے ہیں‘ چوک میں کھڑے ہو کر کھاتے یا پیتے ہیں اور ایک دوسرے سے گپ شپ کرتے ہیں‘ فقیر بھی شام کو نہائیں دھوئیں گے‘ صاف کپڑے پہنیں گے اور دن بھر کی کمائی کھانے پینے میں اڑا دیں گے‘ شیف شان بھی شام کے وقت پورا باہر آ جاتا ہے‘ گلیاں‘ بازار اور چوک آباد ہو جاتے ہیں‘ہم ان شاء اللہ مارچ میں ان لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر شام منائیں گے۔

شیف شان کے بعد فاس شہر ہماری اگلی منزل تھا‘ یہ شہر دنیا کے پانچ قدیم اسلامی شہروں میں شامل ہے‘ ہم جس طرح مکہ اور مدینہ کے بعد دمشق‘ بغداد‘ قاہرہ اور استنبول کو اسلامی تاریخ سے خارج نہیں کر سکتے بالکل اسی طرح فاس کو بھی اسلامی تہذیب سے باہر نکالنا ممکن نہیں‘ یہ شہر 808ء میں آباد ہوا تھا اور یہ ہر دور میں اسلامی تہذیب اور تمدن کا ضامن رہا‘ یہ دنیا کاواحد قدیم شہر ہے جو بارہ سو سال سے جوں کا توں ہے‘ یہ زلزلوں میں بھی برقرار رہا‘ کیوں؟ شاید اس کی وجہ کشش ثقل ہے‘ یہ زمین کے ایک ایسے حصے میں قائم ہے جہاں زلزلے بنیادوں‘ دیواروں اور چھتوں کو نقصان پہنچائے بغیر نکل جاتے ہیں۔

شہر ہلتا ہے لیکن گرتا نہیں‘ شہر میں نو ہزار (9000) چھوٹی بڑی گلیاں ہیں‘ یہ گلیاں آنتوں کی طرح ایک دوسرے سے الجھتی سلجھتی ہوئی چلتی ہیں‘ گھر گھروں‘ دیواریں دیواروں اور کھڑکیاں کھڑکیوں سے روز گلے ملتی ہیں‘ دنیا کی تنگ ترین گلی بھی فاس شہر میں ہے اور قدیم ترین چمڑہ رنگنے کا کارخانہ بھی‘ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی بھی یہاں ہے‘ یہ یونیورسٹی قیروین کہلاتی ہے اور یہ 859ء میں قائم ہوئی تھی‘دنیا میں یونیورسٹیوں کی چاروں روایات ڈگری‘ گاؤن‘ ٹوپی اور پروفیسر کے لیے کرسی نے قیروین یونیورسٹی میں جنم لیا تھا‘ میں بات آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو مسجد اور مدرسے کا فرق بھی بتاتا چلوں‘ یہ دونوں قدیم دور میں درس گاہیں ہوتی تھیں۔
مسلمان مسجد میں نماز پڑھتے تھے اور نمازوں کے وقفوں کے درمیان تعلیم حاصل کرتے تھے جب کہ مدرسے میں طالب علم سارا دن تعلیم حاصل کرتے تھے اور نماز کے وقت نماز ادا کرتے تھے‘ یہ اس زمانے کی بات ہے جب علم کی صرف ایک ہی قسم ہوتی تھی اور وہ قسم تھی ’’علم دین‘‘ چناں چہ مدرسے اور مسجدیں دونوں برابر ہوتے تھے لیکن پھر علم دو حصوں میں تقسیم ہو گیا‘ دینی اور دنیاوی علم لہٰذا مسجدیں عبادت کے لیے وقف ہو گئیں اور مدرسے دینی علم کی طرف شفٹ ہوتے چلے گئے‘ نویں صدی میں فاس میں مدرسے بھی تھے اور مسجدیں بھی بس یونیورسٹی کی کمی تھی۔

یہ کمی ایک خاتون فاطمہ الفیری نے پوری کر دی‘فاطمہ تیونس کے شہر قیروین کے تاجر محمد الفیری کی صاحبزادی تھی‘ محمد الفیری تاجر تھا‘ یہ قحط کی وجہ سے تیونس سے فاس نقل مکانی پر مجبور ہو گیا‘ اس کی دوبیٹیاں تھیں‘ فاطمہ الفیری اورمریم الفیری‘ والد کے انتقال کے بعد بیٹیوں کو ترکے میں بے تحاشا سرمایہ ملا‘ فاطمہ الفیری نے اپنے حصے سے یونیورسٹی بنا دی جب کہ مریم الفیری نے مسجد تعمیر کر دی‘ یہ دونوں عمارتیں آج بارہ سو سال بعد بھی قائم ہیں‘ قیروین دنیا کی واحد یونیورسٹی ہے جو ایک خاتون نے مردوں کے لیے بنائی تھی‘ اس یونیورسٹی میں گیارہ سو سال صرف مرد پڑھتے رہے‘ 1940 کی دہائی میں پہلی مرتبہ خواتین کوبھی داخلہ دیا گیا تاہم آج عورتیں اور مرد دونوں یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں‘ یونیورسٹی کا نیا کیمپس شہر سے باہر شفٹ ہو چکا ہے جب کہ اولڈ کیمپس میں اسکالرز اور پروفیسرز بیٹھتے ہیں‘ یونیورسٹی کا بڑا حصہ مسجد میں ضم ہو چکا ہے‘ ہمیں یہ حصہ دیکھنے کا موقع ملا تاہم میں پچھلے سال اولڈ کیمپس کا وزٹ بھی کر چکا ہوں۔

میری دائمی عادت ہے میں ہر اجنبی شہر میں گم ہو جاتا ہوں‘ میں شام کے وقت فاس کی گلیوں میں گم ہو گیا‘ میرے ساتھ چھ سات ساتھی اور بھی تھے‘ ساہیوال کے عابد خان‘ کراچی کے مسعودچاولہ اور عامرقریشی تھے اور ایک مانچسٹر کے ساتھی بھی ہمارے ساتھ تھے‘ ہم تین گھنٹے سڑکوں پر پھرتے رہے اور ہم نے گم ہو کر فاس شہر کو پا لیا‘ یہ واقعی اولیاء کرام‘ صوفیاء اور اسکالرز کا شہر تھا‘ ابن خلدون نے مقدمہ اور ابن بطوطہ نے اپنا سفر نامہ اسی شہر میں لکھنا شروع کیا تھا‘ آخر اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تھی اور وہ وجہ اس شہر کی فضا تھی‘ فاس شہر میں علم کی خوشبو اور تہذیب کی مہک تھی‘ ایک ایسی مہک‘ ایک ایسی خوشبو جس سے علم کی خوشبوئیں جنم لیتی ہیں اور فکر کی قندیلیں جلتی ہیں اور میں نے اس رات وہ قندیلیں جلتی اور خوشبوئیں بکھرتی دیکھیں۔

فاس کے بعد مراکش ہماری منزل تھا‘ مراکو کے بنیادی طور پر تین نام ہیں‘ اہل عرب اسے المغرب کہتے ہیں‘ فرانسیسیوں نے اس کا نام میراک(Maroc) رکھا‘ یہ بگڑ کر مراکو ہو گیا جب کہ پاکستانی اسے مراکش کہتے ہیں لیکن ہمیں یہ جاننا ہو گا مراکش ملک نہیں بلکہ شہر کا نام ہے‘ یہ شہرماضی میں بربروں کا دارالحکومت رہا‘ مراکو کی67 فیصد آبادی بربروں پر مشتمل ہے‘ طارق بن زیاد بھی بربر قبیلے سے تعلق رکھتا تھا‘ یہ لوگ بہت مضبوط اور بہادر ہوتے ہیں‘ ان کی بہادری کی وجہ سے یورپ نے باربرازم یعنی بربریت کا لفظ تخلیق کیا تھا‘ مراکش بربروں کا دارالحکومت تھا اور ہم اگلے دن اس شہر کی طرف روانہ ہو گئے‘ مراکو کا پنک سٹی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں