افغان جنگ جیتی نہیں جا سکتی، واشنگٹن پوسٹ

واشنگٹن: امریکہ کے موقر اخبار واشنگٹن پوسٹ نے افغان جنگ کے متعلق حاصل کی گئیں خفیہ حکومتی دستاویزات کی بنیاد پر رپورٹ شائع کی ہے کہ امریکی حکومت اور جرنیل جنگ کے متعلق سچ بتانے میں ناکام رہے ، وہ جانتے تھے یہ جنگ جیتی نہیں جا سکتی لیکن پھر بھی واضح اور ناقابل تردید ثبوت اورشواہد چھپاتے رہے ۔’’دی افغانستان پیپرز‘‘: اے سیکرٹ ہسٹری آف دی وار‘‘ نامی رپورٹ میں وہ خفیہ ریسرچ سٹڈی بھی شامل ہے جو امریکہ کی طویل ترین جنگ کی ناکامی کی بنیادی وجوہات تلاش کرنے کیلئے کی گئی تھی جبکہ 400 سے زائد اعلیٰ حکام، حکومتی عہدیدار، جرنیل، عسکری تجزیہ کاروں کے انٹرویوز بھی شامل ہیں جنہوں نے افغانستان میں کی جانیوالی غلطیوں کی نشاندہی کی اور بتایا کہ امریکہ کیسے افغان جنگ کی دلدل میں گھسا اور تین صدور جارج بش، اوباما اور ٹرمپ اور انکے ملٹری کمانڈرز اپنے عزائم اور وعدوں کی تکمیل میں کیسے ناکام ہوئے۔

امریکی صدور ، کمانڈروں اور سفیروں نے عوام کو مسلسل جھوٹا یقین دلایا کہ ہم جنگ میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ کابل میں امریکی فوجی ہیڈکوارٹرز اور وائٹ ہاؤس میں اتفاق تھا کہ اعدادوشمار اور حقائق کو اس طرح توڑ مروڑ کر پیش کیا جائیگا جس سے ظاہر ہو کہ امریکہ جنگ جیت رہا ہے ۔اعلیٰ سول و فوجی عہدیداروں کے مطابق ہماری جنگی حکمت عملی میں فاش اور سنگین غلطیاں تھیں، واشنگٹن نے افغانستان کو ایک جدید قوم بنانے ،تعمیر و ترقی اور استحکام کیلئے اور افغان فوج اور پولیس کو جدید بنانے کیلئے انتہائی خطیر رقم خرچ کی لیکن حساب نہیں مانگا اور کرپشن سے آنکھیں پھیر لیں جسکی بھاری قیمت چکانی پڑی۔استحکام کیلئے بنائی گئی حکمت عملی افغانستان کے تناظر میں تھی ہی نہیں۔ اوباما کے دور میں تھری سٹار جنرل ڈگلس لوٹ نے انٹرویو میں کہا اٹھارہ سال سے ہم بنیادی طور پر افغانستان کو سمجھنے میں ہی مکمل ناکام رہے اور بالکل نہیں جانتے تھے ہم وہاں کر کیا رہے ہیں ۔محقق نیٹا کرافورڈ کے مطابق امریکہ اب تک 978 ارب ڈالر کے قریب خرچ کر چکا ہے اور اس میں سی آئی اے پر کئے گئے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ ایک ٹریلین ڈالر خرچ کر کے ہم نے کیا حاصل کیا؟ اسامہ بن لادن سمندر میں اپنی قبر میں ہنستا ہوگا کہ ہم نے افغانستان پر کتنے اخراجات کئے ۔ریٹائرڈ کرنل اور کاؤنٹر انسرجنسی ایڈوائزر باب کراؤلی نے بتایا کہ بیشتر سروے مکمل طور پر ناقابل اعتبار تھے لیکن ان میں بتایا گیا کہ ہم بالکل ٹھیک سمت میں جا رہے ہیں۔ بش اور اوباما دور میں افغانستان کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی جیمز ڈبلنز کے مطابق ہم غریب ملکوں پر انہیں امیر بنانے کیلئے حملہ نہیں کرتے ، نہ آمریت والے ممالک پر کہ انہیں جمہوری بنایا جائے ،ہم انتہاپسند ملکوں پر حملہ کرتے ہیں تاکہ انہیں پرامن بنایا جائے لیکن ہم واضح طور پر افغانستان میں ناکام ہو چکے ہیں۔سابق وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے ٹاپ جرنیلوں کو میمو میں لکھا کہ جب تک استحکام نہیں آ جاتا ہم کبھی افغانستان سے اپنی فوج نہیں نکال سکتے۔

امریکی حکام میں شدید اختلافات تھے اور وہ کنفیوژ تھے ، کچھ افغانستان کو جمہوریہ میں تبدیل کرنا چاہتے تھے ، کچھ افغان ثقافت کو تبدیل اور کچھ خواتین کو حقوق دینا چاہتے تھے ، بعض چاہتے تھے کہ پاکستان، بھارت،ایران اور روس کے درمیان طاقت کے توازن کو تبدیل کیا جائے ۔دشمن القاعدہ تھی یا طالبان؟ کیا پاکستان ایک دوست تھا یا مخالف؟ داعش اور مختلف تنظیموں سے جدا ہونیوالے جنگجوؤں کا کیا کیا جائے ؟ ان سوالوں کے جواب امریکی حکومت نے کبھی نہیں دئیے ، جسکے باعث کبھی بھی واضح فوجی حکمت عملی نہیں بنائی جا سکی جسکے باعث رمزفیلڈ کو بھی کہنا پڑا کہ مجھے واضح طور پر پتہ نہیں کہ ہمارے لئے برا کون ہے ؟یو ایس ایڈ کے مطابق ہمیں فنڈز دیکر کہاجاتا کہ خرچ کرو اور ہم نے کئے لیکن بغیر کسی وجہ کے ۔امریکی کرنل اور فوجی مشیر کرسٹوفر کولینڈا نے بتایا کہ کرزئی کی حکومت چاروں اور کرپٹ افراد پر مشتمل تھی، یہ حکومت معاشرے کیلئے کینسر کی مانند تھی۔ امریکی جرنیل عوام سے مسلسل جھوٹ بولتے رہے کہ افغان آرمی اور پولیس بتدریج بہتر ہو رہی ہے لیکن حقیقت اسکے برعکس تھی۔ پولیس میں ایک تہائی اہلکار نشئی تھے یا طالبان جنگجو۔ انسداد منشیات کیلئے امریکہ نے 9 ارب ڈالر خرچ کئے لیکن بدترین ناکامی ہوئی، افغان کسان پہلے سے زیادہ افیون کاشت کر رہے ہیں۔جنرل مائیکل فلین کہنے پر مجبور ہو گئے کہ فوجی اور سول حکمت عملی خامیوں سے بھرپور ہوتی ہے اور ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے تھے کہ اگر سب ٹھیک ہے تو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم ہار رہے ہیں؟۔

اپنا تبصرہ بھیجیں