مچھلی کا سر گل چکا ہے

javed-chaudhry-columns

یہ چند ماہ پرانی بات ہے‘ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ مارگلہ روڈ پر واک کر رہا تھا‘ شام کا وقت تھا‘ ہم سپر مارکیٹ سے نکلے اور فٹ پاتھ پر ایف الیون کی طرف چل پڑے‘ چڑیا گھر چوک کے قریب سڑک کی طرف سے ایک گاڑی گزر رہی تھی‘ گاڑی میں شاید چار نوجوان بیٹھے تھے‘ نوجوانوں نے مجھے دیکھا‘ گاڑی روکی‘ شیشے نیچے کیے اور بآواز بلند مجھے گالی دے دی‘ میں نے نوجوانوں کی طرف دیکھا‘ مسکرایا اور آگے چل پڑا‘ میرا دوست دکھی ہو گیا۔

اس نے مجھ سے غم زدہ آواز میں پوچھا ’’کیا تمہیں اس رویے پر غصہ نہیں آتا‘‘ میں نے مسکرا کر جواب دیا ’’آتا تھا مگر اب نہیں آتا‘ میں شروع شروع میں رو بھی پڑتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب حالات کے ساتھ ایڈجسٹ ہو گیا ہوں‘‘ وہ غور سے میری طرف دیکھنے لگا‘ یہ میرا پرانا دوست تھا‘ یہ جانتا تھا میں کس قدر حساس شخص ہوں اور مجھے لوگوں کے رویے کس طرح اندر سے چھید کر رکھ دیتے ہیں لہٰذا میرے جواب پر اس کی حیرت بجا تھی‘ میں نے اس سے کہا ’’عرفان میں شروع میں بہت پریشان ہو جاتا تھا۔

ایمان‘ ایمان داری اور محنت دنیا میں میرے صرف تین اثاثے ہیں جب بھی کوئی شخص میرے ایمان‘ میری ایمان داری‘ میرے اخلاص اور میری محنت پر شک کرتا تھا تو مجھے بہت برا لگتا تھا لیکن پھر میں نے ایک دن سوچا میں اگراس ملک میں رہنا چاہتا ہوں تو پھر مجھے گالی اور ذلت دونوں کے لیے تیار رہنا ہو گا‘ پھر مجھے اپنی ترقی اور آزادی رائے کی قیمت چکانا ہو گی چناں چہ میں ذہنی طور پر قیمت دینے کے لیے تیار ہو گیا اور میں اب اپنی آزادی اور اپنی تھوڑی بہت ترقی کی قیمت روز ادا کرتا ہوں‘‘ میرا دوست خاموش رہا‘ میں نے عرض کیا ’’ہم ایک بیمار معاشرے میں رہ رہے ہیں اور بیمار معاشروں میں لوگ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے کوئی انسان اپنی محنت سے بھی ترقی کر سکتا ہے‘ لوگوں کو آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ کے ماضی کے سائیکل اور موٹر سائیکل نظر آتے رہتے ہیں۔

دوسرا بیمار معاشروں کے بیمار لوگ یہ سمجھ ہی نہیں سکتے دنیا میں کسی شخص کی رائے آزاد بھی ہو سکتی ہے‘ وہ اپنے ضمیر کے مطابق بھی بول یا لکھ سکتا ہے اور میں یہ دونوں غلطیاں کر رہا ہوں‘ میں روز کام کرتا ہوں‘ اللہ کے کرم سے میرا ہر آنے والا دن پچھلے سے بہتر ہو تا ہے اور میں اپنی رائے کا اظہار بھی کھل کر کرتا ہوں چناں چہ پھر مجھے گالی تو پڑے گی‘ لوگ مجھے بے ایمان اور بکا ہوا تو کہیں گے‘‘ ہم چلتے چلتے ایف الیون پہنچ گئے‘ میرا دوست سارا راستہ دکھی رہا۔ یہ چند ماہ پرانا واقعہ تھا‘ مجھے تین دن قبل اس سے بھی بری صورت حال کا سامنا کرنا پڑا‘ میں رات لیٹ فارغ ہوتا ہوں چناں چہ پونے بارہ بجے جم جاتا ہوں‘ میں جم میں ورزش کر رہا تھا‘ دو نوجوان آئے اور جم میں بے تحاشا شور کرنا شروع کر دیا‘ وہ قہقہے بھی لگا رہے تھے اور اونچی آوازوں میں گپ بھی کر رہے تھے۔

یہ دونوں اچھی عادتیں ہیں لیکن جم میں مناسب نہیں ہوتیں‘ لوگ ڈسٹرب ہو جاتے ہیں‘ میں نے انھیں پیار سے کہا‘ بیٹا آپ ورزش کریں یا پھر شور کر لیں دونوں اکٹھی نہیں چل سکتیں‘ لڑکوں نے سنی ان سنی کر دی‘ میں نے دوسری بار جسارت کی تو لڑکوں نے ورزش چھوڑ کر مجھ پر حملہ کر دیا‘ میرا بیٹا بھی وہاں موجود تھا‘ میں حیران ہی رہ گیا‘ میرے اپنے بیٹے ان سے بڑے ہیں‘ میرے لیے ان سے بچنا اتنا مشکل نہیں تھا جتنا ان کو اپنے بیٹے سے بچانا مشکل ہو گیا‘ میرے لیے ان لڑکوں کا رویہ ناقابل برداشت تھا چناں چہ مجھے بڑے عرصے بعد خود بھی غصہ آ گیا‘ میں گھر واپس جا کر دیر تک اکیلا بیٹھا رہا اور سوچتا رہا ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں۔

کیا مجھے اب پرائیویٹ جم میں شور کرنے والوں کو روکنے کا حق بھی نہیں‘ کیا مجھے اب ہر جگہ سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا یا پھر وہاں سے چپ چاپ نکل جانا ہو گا‘ میں یہ بھی سوچتا رہا میں دیوار کے ساتھ لگ چکا ہوں‘ میں اب گھر سے بھی باہر نہیں نکلتا‘ مجھے اپنی حساسیت‘ اپنی مشقت اور اپنی آزادی رائے کی مزید کتنی قیمت ادا کرنا پڑے گی؟ کیا یہ ملک‘ یہ معاشرہ میرا نہیں‘ کیا مجھے اس پر کوئی حق نہیں‘ کیا اس پورے نظام میں میرا کوئی ساتھی‘ میرا کوئی ہمدرد نہیں اور کیا ملک کا کوئی شخص کبھی یہ یقین نہیں کرے گا کام اور اظہار میرا بھی حق ہے! میں صبح تک جاگتا رہا لیکن مجھے اپنے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں ملا۔

یہ ملک عدم برداشت‘ شک اور توہین کا جہنم بن چکا ہے‘ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء نے کیا کیا‘ یہ دل کے غریب مریضوں کا ادارہ ہے‘ دل کے اسپتال کتنے حساس ہوتے ہیں آپ کسی نیک دل ملک میں جا کر دیکھیں‘ لوگ اسپتال کے سامنے سے گزرتے ہوئے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کرتے جب کہ ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وکلاء نے پی آئی سی پر حملہ کر دیا‘ اسپتال کے شیشے توڑ دیے‘ آئی سی یو کی بجلی بند کر دی‘ ادویات کے اسٹور کو تباہ کر دیا اور دل کے آلات پاؤں میں روند دیے‘ تین مریض جاں بحق ہو گئے۔

پولیس آئی تو اسپتال میدان جنگ بن گیا‘ اسپتال کے احاطے میں آنسو گیس بھی استعمال ہوئی‘ واٹر کینن بھی چلائی گئی‘ لاٹھی چارج بھی ہوا اور پتھراؤ بھی‘ وکیلوں نے ہوائی فائرنگ بھی کی‘ آپ پوری دنیا کو دیکھ لیں‘ آپ اس نوعیت کا واقعہ کسی جگہ نہیں دیکھیں گے‘ جنگوں کے درمیان بھی اسپتال محفوظ رہتے ہیں جب کہ لاہور میں امن کے دور میں انتہائی پڑھے لکھے وکلاء کے ہاتھوں دل کا اسپتال تباہ ہو گیا‘ آپ حملہ آوروں کے پروفائل دیکھیں‘ آپ کو ان میں پاکستان تحریک انصاف کے وکلاء بھی ملیں گے۔

ہم کیا لوگ ہیں اور یہ شدت ہمیں کہاں لے جائے گی؟ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا افتخار محمد چوہدری اور عمران خان دونوں اس کے ذمے دار ہیں‘ وکلاء افتخار محمد چوہدری کے پیچھے کورٹ روم سے نکل کر سڑکوں پر آئے تھے اور انھوں نے سپریم کورٹ پر حملہ بھی کیا اور ملک کی تمام چھوٹی بڑی عدالتوں کا بائیکاٹ بھی اور ہم میڈیا کے بے وقوف اس شدت اور بدتمیزی کو پوری آن اور شان کے ساتھ دکھاتے رہے‘ اس دور میں پہلی بار چیف جسٹس آف پاکستان اور پی سی او ججوں کو سر عام گالیاں پڑیں‘ ہم نے ان گالیوں کے ذریعے جنرل پرویز مشرف کو گھر بھجوا دیا‘ ملک میں جمہوریت بھی آ گئی اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی بحال ہو گئے لیکن ہم نے پورا سسٹم تباہ کر کے رکھ دیا‘ وکلاء اس کے بعد دوبارہ کورٹ روم واپس نہیں جا سکے۔

ہم نے پھر اپنی آنکھوں سے وکیلوں کو ججوں کو تھپڑ مارتے اور گریبانوں سے پکڑتے بھی دیکھا اور ماں بہن کی گالیاں دیتے بھی‘ دوسرے ذمے دار عمران خان ہیں‘ ہم انھیں 2014ء میں سمجھاتے رہ گئے آپ دھرنا نہ دیں‘ آپ لشکر کشی کے ذریعے حکومت کو گھر بھجوانے کی غلطی نہ کریں‘ آپ کا دھرنا دو دھاری تلوار ثابت ہو گا‘ آپ کام یاب ہو گئے تو ملک کو پھر کوئی اسٹیبل گورنمنٹ نصیب نہیں ہو گی‘ جتھے نکلیں گے اور ان کے سامنے جو آئے گا یہ اسے روند کر واپس چلے جائیں گے اور آپ اگر ہار گئے تو یہ لوگ مزید مضبوط ہو جائیں گے لیکن عمران خان باز نہ آئے اور ہم نے پھر کھلی آنکھوں سے دیکھا دھرنے میں جو گل کھلائے گئے وہ آج ہر روز کھلتے اور لہلہاتے ہیں‘ مولانا فضل الرحمن آئے اور حکومت کے کسی بازو میں انھیں روکنے کی ہمت نہیں تھی۔

یہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین کو دعائیں دیں جنھوں نے مولانا کو فروری کا لالچ دے کر واپس بھجوا دیا ورنہ مولانا وہ حشر کر دیتے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے‘ میں نے کل ٹیلی ویژن پر فیاض الحسن چوہان کی مرمت بھی دیکھی اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا گھیراؤ اور گالی گلوچ ہوتے بھی دیکھی‘ ہجوم نے انھیں خاتون کا کریڈٹ بھی نہیں دیا تھا‘ پولیس افسروں اور اہلکاروں کو بھی میدان چھوڑ کر بھاگتے دیکھا اور انتظامیہ کو غائب ہوتے بھی‘ آپ چند لمحوں کے لیے 2014ء میں جا کر دیکھیے‘ کیا یہ سلوک عمران خان کی خواہش نہیں تھا۔

کیا یہ ہجوم کو یہ نہیں کہتے تھے تم وزیروں کا گھیراؤ اور ان کا پھینٹا لگاؤ‘ یہ وزیراعظم کو بھی گھسیٹ کر وزیراعظم ہاؤس سے نکالنا چاہتے تھے اور کیا عمران خان نے آئی جی کو الٹا لٹکانے کی دھمکی نہیں دی تھی اور کیا ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کو دھرنے کے دوران مارا نہیں گیا تھا‘ یہ آج بھی نارمل نہیں ہیں لہٰذا آج کیا ہو رہا ہے؟ آج وزراء کو پھینٹا لگ رہا ہے اور پولیس دور کھڑی ہو کر تماشا دیکھ رہی ہے‘ وزیراعظم عمران خان خود کہا کرتے تھے مچھلی ہمیشہ سر سے گلنا شروع کرتی ہے۔

آج ان کے دور میں مچھلی کا سر اتنا گل چکا ہے کہ اسپتال بھی محفوظ نہیں ہیں‘ ہمیں ماننا ہو گا معاشرے میں عدم برداشت اوپر سے نیچے آئی ہے‘ عمران خان نے گالیوں کی فصل بوئی تھی اور آج میرے جیسے بے اثر لوگوں سمیت پورا ملک یہ فصل کاٹ رہا ہے‘ لوگ گلی گلی میں دست و گریباں ہیں‘ آج فیاض الحسن چوہان کا گریبان اور گردن پکڑی گئی ہے‘ آپ کو کل باقی وزراء کے گریبان بھی ہجوم کے ہاتھوں میں ملیں گے‘ملک نفرت اور عدم برداشت کے لاوے میں ڈوب رہا ہے‘ ہمیں اب اللہ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا لہٰذا توبہ کریں‘ نجات کی دعا کریں اور ہجوم سے بچنے کی کوشش کریں۔

نوٹ: ہم خیال گروپ 24 جنوری کو مصر کے ٹور پر جا رہا ہے‘ احباب گروپ میں شامل ہونے کے لیے 0331-5637981 اور 0331-3334562 پر رابطہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں