ابلیس کے سیاسی فرزند

Orya-Maqbool-Jan

دو ہزار صفحات پر مشتمل یہ سچ جس بات کی گواہی دے رہا ہے وہ ایسی کڑوی گولی ہے جسے امریکہ تو گذشتہ کئی برسوں سے نگل چکا ہے، لیکن میرے ملک کا وہ دانشور جس نے اپنے قلم کی سیاہی اور اپنی زبان کی قوت سے گذشتہ اٹھارہ برسوں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ دنیا اب صرف اور صرف ایک ہی سپرپاور کی محکوم اور دست نگر ہے اور اب اس دنیا پر صرف ٹیکنالوجی کے خدا کا راج ہی مستحکم ہوچکا ہے، وہ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔اس کا تذکرہ تک نہیں کرتا کیونکہ اس کا ایمان ٹیکنالوجی پر متزلزل ہو جاتا ہے یہ دو ہزار صفحات افغانستان میں امریکی شکست کے متعلق ایک دستاویز کے اوراق ہیں ۔ مردانِ حرّ کی یہ سرزمین جس کے بارے میں اقبال نے اپنی نظم ”ابلیس کا فرمان، اپنے سیاسی فرزندوں کے نام” میں لکھا تھا۔ افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج ملا کو اس کے کوہ و دمن سے نکال دو ابلیس کے اس مشورے پر اس کے سیاسی فرزندوں نے عمل کرتے ہوئے تین بار افغان سر زمین سے” ملاّ”کو بے دخل کرنے کی پوری کوشش کی، لیکن آخرکار اسی ” ملاّ”سے بدترین شکست کھائی۔ برطانیہ جس کی سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اپنی پوری طاقت اور اپنے زمانے کی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ 6 جنوری 1842ء کو کابل سے جلال آباد کے راستے پر واقع گندمک کے مقام پر اسی افغان قوم سے جا ٹکرایا۔ اس واقعے کو Massacre of Ephinstone Army کہتے ہیں۔ تین ہزار افراد پر مشتمل یہ دستہ جس میں 690 برطانوی اور 16,500 ہندوستانی سپاہیوں کے ساتھ ساتھ کئی ہزار سویلین مددگار بھی شامل تھے، ہندوکش کے برف پوش پہاڑوں میں سات دن تک لڑتا رہا اور بالآخر 13 جنوری کو شکست فاش کے بعد بھاگ کھڑا ہوا۔ ایک برطانوی ڈاکٹر ولیم برائیڈن چند بھارتی سپاہیوں کے ساتھ جان بچاکر جلال آباد پہنچا اور خبر دی کہ بیس ہزار قتل ہوچکے ہیں، سو برطانوی اور دو ہزار ہندوستانی سپاہی غمال بنا لیے گئے ہیں اور مجھے یہ کہہ کر چھوڑ دیا گیا کہ جاؤ اور اپنی ذلت آمیز شکست کی خبر اپنے زمانے کی سپر پاور اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس برطانیہ تک پہنچا دینا۔ اس کے بعد 137سال کی خاموشی ایک بار پھر دسمبر 1979 میں ٹوٹی، جب کیمونسٹ سوویت یونین نے افغانستان سے اسی ” ملاّ”کو نکالنے کے لیے ”ابلیس کے فرمان” پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی۔ ” ملاّ”تو نہ نکل سکا لیکن سوویت یونین بحیثیت ایک کیمونسٹ نظریاتی ملک، دنیا کے نقشے سے نیست و نابود ہوگیا۔ اس جنگ کے دوران بہت سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو چکی تھی کہ یہ جنگ دراصل امریکی ٹیکنالوجی نے جیتی ہے۔ تبصرہ نگاروں کی زبانیں اور تجزیہ کاروں کے قلم اس ٹیکنالوجی کے بت کی مدح سرائی میں دن رات مشغول تھے۔ لیکن میرا اللہ بھی اس کھلے شرک پر مسکرا رہا ہوگا۔ جب انسان ایسے غرور میں مبتلا ہوتا ہے تو میرے اللہ کی ایک سنت ہے جس کے بارے میں وہ فرماتا ہے ”اللہ ان سے مذاق کرتا ہے، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں” (البقرہ:15)۔ سوویت یونین کی شکست کو اپنی ٹیکنالوجی کی فتح سے تعبیر کرنے والے یہ لوگ اسی سرکشی میں ایسے اندھے ہوئے کہ ایک بار پھر اپنی تمام قوت کو اکٹھا کیا،پوری دنیا کے تمام ممالک کو ساتھ ملایا اور اکتوبر 2001ء میں ابلیس کے فرمان کی تعمیل میں افغانستان میں براہ راست ” ملّا ” سے جا ٹکرائے۔ فتح کا یقین اور ٹیکنالوجی پر بھروسے کا تکبر ایسا تھا کہ انہیں سب کچھ بس چند لمحوں کا کھیل نظر آتا تھا۔ میرے ملک کے سیاسی و عسکری حکمران اسے آخری معرکہ تصور کر رہے تھے اور کالم نگار، دانشور، تجزیہ کار،یوں اللہ پر توکل کرنے والوں پر طعنہ زن تھے کہ جیسے وہ سمجھتے تھے کہ جوں ہی امریکہ نے افغان سرزمین پر نصرت کا پرچم گاڑ دیا، اس دن ابلیس کی وہ اہم خواہش پوری ہو جائے گی، ” ملاّ”افغان سرزمین سے نکل بھاگے گا، اور اگر ” ملاّ”افغانستان سے بھاگ گیا تو پھر مسلم دنیا اور پاکستان میں ہم اللہ کی حاکمیت و بادشاہت کا اعلان کرنے والوں اور اسی کی طاقت پر بھروسے کی گفتگو کرنے والوں کو خود زیر کر لیں گے۔ شروع شروع کے دن بہت تکلیف کے تھے۔ ہر طرف مایوسی تھی۔ گھر گھر امریکی سپاہی پاکستانی ساتھیوں کے ہمراہ مجاہدین کی بو سونگھتے پھرتے، انہیں پکڑتے اور امریکیوں کے حوالے کردیتے۔ کابل میں چند کلومیٹر کے علاقے میں ایک علاقہ برنگ ِمغرب آباد ہوگیا۔ رقص و سرور سے ناؤنوش تک سب کچھ وہاں پر تھا۔ تمام میڈیا اس تبدیلی کو ایسے پیش کر رہا تھا جیسے اب افغانستان مغربی تہذیب اوڑھ لے گا اور اس کے دامن سے ایک مختلف ”جدید” افغان قوم برآمد ہوگی۔ لیکن آج اٹھارہ سال بعد میرے اللہ کا اپنے اوپر توکل کرنے والوں کے ساتھ کیا گیا وعدہ سچ ہوگیا۔ یہ دو ہزار صفحات امریکی حکومت کے اس پروجیکٹ کی رپورٹ کے اوراق ہیں جو انہوں نے افغانستان میں شکست کے اسباب کے لیے بنایا تھا۔ یہ رپورٹ سپیشل انسپکٹرجنرل فار افغان ری کنسٹرکشن (SIGAR) نے مرتب کی ہے۔ اس رپورٹ کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے امریکی عدالتوں میں باقاعدہ تین سال تک ”معلومات تک رسائی” کے قانون کے تحت جنگ لڑی گئی۔ ان 2000 صفحات میں چھ سو سے زیادہ اعلی سطح کے لوگوں کے انٹرویو کیے گئے جن میں جنرل، سفارت کار، افغان حکمران اور مدد فراہم کرنے والے شامل تھے۔ ان کاغذات کو چند دن پہلے واشنگٹن پوسٹ نے اس عنوان سے شائع کیا کہ ”امریکی حکومت افغانستان کے معاملے میں عوام سے جھوٹ بولتی رہی ہے ”۔ امریکی فوج مسلسل شکست کھا رہی تھی لیکن لوگوں کو فتح کا تاثر دیا جاتا تھا۔ 2001ء سے لے کر اب تک امریکہ نے وہاں سات لاکھ پچھتر ہزار سپاہی بھیجے جن میں 2300 مارے گئے اور 20,589 شدید زخمی ہوئے۔ ایک ہزار ارب ڈالر اس جنگ میں جھونک دیا اور ساری کارروائی کا خلاصہ یہ تھا کہ We were devoid of fundamental understanding of Afghanistan ”ہم افغانستان کی الف ب سے بھی واقف نہ تھے”ـ۔ حالت یہ ہے کہ جارج جب نے جس یہ جنگ شروع کی تھی اس نے ورجینیا ملٹری انسٹیٹیوٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا ” افغانستان کے فوجی آپریشن میں شروع میں کامیابیاں ہوئیں اور پھر مسلسل شکست ہمارا مقدر بن گئی”۔ امریکی انتظامیہ کے لوگ تین اہداف پر منقسم تھے ایک گروہ کہتا تھا افغانستان میں جمہوریت کا نظام نافذ کرنا ہے، دوسرا کہتا افغانستان کی تہذیب کو تبدیل کرکے عورتوں کے حقوق کا بول بالا کرنا ہے، اور تیسرا کہتا تھا،اسے روس، ایران، بھارت اور پاکستان کے درمیان طاقت کے توازن کے لیے استعمال کرنا ہے۔سب ناکام ہو گئے، ان تینوں میں سے ایک ہدف بھی حاصل نہ ہوسکا ۔جنگ عظیم اول کے بعد پورے یورپ کی تعمیر نو کے لئے مارشل پلان کے تحت 125 ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے لیکن افغانستان پر 130 ارب ڈالر خرچ ہوئے لیکن اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ 18برسوں میں 1,57,000 لوگ مارے گئے جن میں 64,124 افغان فوجی، 43,074 سویلین، امدادی کارکن 3,814، صحافی 67، امریکی سپاہی 21,300، نیٹو اور دیگر 42,100۔ رپورٹ کا اہم فقرہ وہ ہے جو ایک جنرل اور وائٹ ہاؤس میں اوباما اور بش کے ساتھی جیفری ایگرز نے بولا ہے کہ ”آج اسامہ بن لادن سمندر میں اپنی قبر میں کھڑا مسکرا رہا ہوگا کہ دیکھو اس قدر سرمایہ خرچ کرنے کے بعدبھی امریکہ کی ذلت کا کیا عالم ہے”۔ یہ ذلت امریکہ کی نہیں ہے بلکہ ان سب کی ہے جو اٹھارہ برس پہلے اسے واحد عالمی طاقت مانتے تھے اور اسی کی ٹیکنالوجی کو سجدہ کرتے تھے۔ ابلیس کے فرمان پر تو عمل درآمد نہ ہو سکا لیکن میرے اللہ کا پرچم افغانستان کے کوہ و دمن میں اسی ” ملاّ”نے سربلند کردیا،جسکو افغانستان سے نکالنے کا خواب دو سو سال سے دیکھا جارہا ہے”۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں