ملکی آمدن کا آدھا حصہ قرضوں کے سود میں چلا جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملکی آمدن کا آدھا حصہ قرضوں کے سود میں چلا جاتا ہے، وزیراعظمکا مزید کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کرنا مشکل تھا لیکن اپوزیشن نے آرڈیننس پڑھے بغیر واویلا مچایا۔

اسلام آباد میں سول سرونٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 2019 مشکل سال تھا، ملک اس وقت قرضوں تلے دبا ہوا ہے، 2008 کے بعد ملک پر 24ہزار ارب روپے کے قرضے چڑھے جب کہ ملکی آمدن کا آدھا حصہ قرضوں کے سود میں چلا جاتا ہے، معاشی استحکام کے لیے گورننس کے نظام کوبہترکرنا ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں پیسہ اس وقت آئے گا جب صنعتیں چلیں گی، ٹیکس کیسز ایف بی آر کے ہیں، کاروباری معاملات میں نیب کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے، نیب کے خوف سے ترقیاتی منصوبوں میں بیوروکریسی کا کردار محدود ہوگیا تھا جب کہ اپوزیشن نے نیب ترمیمی آرڈیننس پڑھے بغیر واویلا مچایا، نیب آرڈیننس میں ترمیم کرنا مشکل تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں سیاسی مشاورت سے اوراتفاق رائے چلنا ہوتا ہے، پارٹی کے اندر اتفاق رائے کرنا ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں