Orya-Maqbool-Jan

کیا عمران خان کا خواب چکنا چور ہو گیا (آخری قسط)

گورنر ہاؤس، وزرائے اعلیٰ ہاوس، وزیراعظم ہاؤس اور ان سے ملحقہ بڑے بڑے سیکریٹریٹ مختصر کرنے جس قدر آسان تھے، لیکن عمران خان کے لیے ان پر عملدرآمدایک پہاڑ بنا دیا گیا۔ یہ ایسا اقدام تھا جس نے اس کی ساکھ پر پہلی کاری ضرب لگائی۔ یہ تمام سیکرٹریٹ اگر محدود کردیے جاتے تو آج پاکستان کی بیوروکریسی کی کارکردگی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا۔ ہر محکمے کے سیکرٹری کو یقین ہوتا کہ اس پرمکمل اعتماد کیا جا رہا ہے اور اس سے ہی کارکردگی کے بارے میں سوال بھی کیا جائے گا۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ کوایک بالاتر (Supra) ادارہ بنانے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہاں کوئی ایک فرد ایک طاقتور بیوروکریٹ کی صورت ڈپٹی پرائم منسٹر یا ڈپٹی چیف منسٹر کی صورت پیدا ہو جاتا ہے۔ انور زاہد سے فواد حسن فواد، امتیازشیخ اور توقیر شاہ، سلیمان فاروقی اور سعید مہدی جیسی شخصیات کا طاقتور ہونا دراصل انہی بڑے سیکرٹریٹ کی مرہون منت ہے۔ تمام وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ ان لوگوں کے ہاتھوں میں بیوروکریسی کی لگامیں پکڑا دیتے ہیں اور یہ کایاں بیوروکریٹ وہ تمام اختیارات استعمال کرتے ہیں جو وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کا ہوتا ہے۔ انکا خوف پوری بیوروکریسی پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ ان لیڈروں کے کان، زبان اور ہاتھ بن جاتے ہیں۔ بڑے بڑے ممبران اسمبلی ان کے دروازوں کی چوکھٹ پر کھڑے ہونے کو بھی اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔ یہ جس بیوروکریٹ کی حسن کارکردگی کی تعریف کر دیں وہ وزیراعظم کا منظور نظر ہوجاتا ہے اور جس کے کام میں نقص نکالیں وہ نظروں سے گرنے لگتا ہے۔ گذشتہ چالیس سال سے پاکستان کی ساری سیاست اور انتظامی مشینری دراصل بیوروکریسی کے انہی ”افراد واحد ” کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کا وجود ہی ان بالاتر (Supra) وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے بڑے بڑے سیکرٹریٹ کے دم قدم سے قائم ہوتا ہے۔ ان ہی کی وجہ سے بیوروکریسی میں گروپ بندی بنتی ہے،کیونکہ ان کی پسند و ناپسند کے معیارات پر فیصلے ہوتے ہیں۔ گذشتہ چالیس برسوں سے پاکستانی بیوروکریسی کے یہ ”گھنٹہ گھر” ہی ہیں جو سیاسی پارٹیوں سے اپنی وفاداریوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اور انہی وفاداریوں کی بنا ء پریہ تمام بیوروکریسی کو نچاتے رہتے ہیں۔ ایک واضح اور پراعتماد بیوروکریسی اسی وقت قائم ہوسکتی تھی اگر یہ بڑے بڑے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سیکرٹیریٹ ختم کرکے انتظامیہ کو اس کی اصل پر واپس لے جایا جاتا جہاں ہر سیکرٹری براہ راست وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کو جواب دہ ہوتا۔ لیکن ان ”بونوں” نے اپنے بڑے سیکرٹریٹ قائم کرکے ان میں مزید چند بونے رکھے ہوئے ہیں جو محکمہ کی ہر فائل پر ناقد بن بیٹھتے ہیں، کیڑے نکالتے ہیں یا تعریفیں کرتے ہیں۔ محکمے کا سربراہ اپنے ہی ایک جونئیر کے ہاتھوں عزت پاتا ہے یا رسوا ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ اس جونیئر کو اس بڑے سیکرٹیریٹ میں وہ اختیار حاصل ہوتا ہے جو دراصل وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کا اختیارہوتا ہے۔ یہی بنیادی وجہ تھی کہ عمران خان کو گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس ختم کرنے دیا گیا اور نہ وہ وزیر اعظم سکریٹریٹ کو مختصر کر سکا۔ عمران خان کا اگلا خواب یکساں نظام تعلیم تھا۔ اسکی ایچی سن کالج میں گھومتے ہوئے وہ ویڈیو بہت عام ہوئی تھی جس میں وہ ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ انگریزی نظام تعلیم کو قرار دیتا تھا۔ لیکن اس بیچارے کو اس بات کا اندازہ شاید نہیں تھا کہ وہ اس یکساں نظام تعلیم کا خواب اس وقت تک پورا نہیں کر سکتا جب تک وہ بیک جنبش قلم یہ فیصلہ نہ کرے کہ آج سے پاکستان کے دفاتر میں اسی زبان میں سرکاری کام ہوں گے جو زبان دفتروں میں بولی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہوگی کہ پٹواری، تھانے داراور کسٹم آفیسر سے لے کر وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے دفاتر میں عمومی طور پر اردو زبان میں گفتگو ہوتی ہے۔ گوادر سے لے کر گلگت تک چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی میٹنگ کی کارروائی اردو میں ہوتی ہے لیکن شرم کا مقام یہ ہے کہ یہ تمام محکمے اپنی ساری کارروائی انگریزی میں درج کرتے ہیں۔ بینکوں کے ننانوے فیصد گاہک اردو بولتے ہیں، چیک انگریزی میں لکھتے ہیں۔ عدالتوں میں ساری بحث اور گواہیاں اردو میں ہوتی ہیں فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں۔ سزا کا حکم، رہائی کا پروانہ سب انگریزی میں، لیکن ہتھکڑی لگانے اور کھولنے والا گفتگو اردو میں کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ساری منافقت ان چند ہزار افراد کی وجہ سے ہے جو پاکستانی بیوروکریسی پر چھائے ہوئے ہیں۔ جن کے والدین نے انہیں ایچیسن سے ہاورڈ اور آکسفورڈ میں تعلیم دلوائی ہوتی ہے۔ یہ لوگ عمران خان جیسے شخص کو خوفزدہ کرتے ہیں کہ اگر ہم نے ایک دفعہ اردو میڈیم افراد کو اپنے دفاتر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی تو نالائقی راج کرنے لگے گی۔ پہلے ہی یہاں نا اہلی پر قابو نہیں پایا جا رہا، اس فیصلے کے بعد تو اہل شخص ملنا ہی مشکل ہوجائے گا۔ ان تمام لوگوں نے اہلیت کا معیار یہ بنا رکھا ہے کہ کون اچھی سمری تحریر کرتا ہے اور کون اچھا نوٹ پورشن لکھ سکتا ہے۔ اس سارے انگریزی دفتری نظام کا کمال یہ ہے کہ سیکشن آفیسر سے فائل چلتی ہوئی سیکرٹری تک پہنچتی ہے اور پھر وہ اس پر لکھتا ہے ”Pl discuss” اور کسی اہلکار کو بلا کر کہتا ہے کہ یار مجھے اردو میں سمجھاؤ، کیا کہنا چاہتے ہو۔ اردو میں دفتری کاروبار کا فیصلہ صرف ایک دن میں نافذ ہوسکتا تھا۔سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود تھا۔ پاکستان کا ہر ملازم اردو لکھنا پڑھنا جانتا ہے۔ وہ یہ سب آسانی سے کر سکتا تھا۔ سول سروس کے امتحانات میں لازمی مضامین اردو میں لینے کا فیصلہ بھی ایک گھنٹے میں کیا جاسکتا تھا۔اگر وہ یہ فیصلہ کر لیتا تو ملک بھر میں تمام گائیڈز وغیرہ ایک ہفتے میں اردو میں مارکیٹ میں آجاتیں۔تمام اکیڈمیاں اپنا قبلہ بدل لیتیں اور والدین بچوں کے لئے اردو ٹیوٹر ڈھونڈنے میں لگ جاتے۔لیکن بیوروکریسی نے انگلش کاونٹی کھیلنے والے اور مغرب میں پروان چڑھنے والے عمران خان کو ایسا شیشے میں اتارا کہ وہ گھبرا گیا اور فیصلہ نہ کرسکا، لیکن وہ یاد رکھے کہ اگر اس نے یہ فیصلہ نہ کیا تو پھروہ بھول جائے کہ اس ملک میں کبھی یکساں نظام تعلیم رائج کر سکے گا۔ جو بیوروکریسی خود طبقاتی نظام کی پیداوار ہو وہ یکساں نظام تعلیم کیسے رائج ہونے دے گی۔ یہ دونوں فیصلے عمران خان کی ساکھ کو مضبوط کرنے میں اہم کردار تو ادا کرتے ہی مگر اسکے ساتھ ساتھ یہ بیوروکریسی کے سامنے اس کے قد کو بہت بلند کر دیتے۔ بیوروکریٹ جان لیتے کہ یہ شخص ان کی لچھے دار گفتگو میں نہیں آئے گا۔ لیکن ان دونوں فیصلوں پر پسپائی کے بعد انہوں نے اب عمران خان کو اب اس پرندے کی طرح اپنے دام میں گرفتار کر لیا ہے جسے وہ جس طرح چاہیں اور جیسی چاہیں پرواز کروائیں گے۔ بالکل ویسے ہی جیسے عرب عقاب کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کی ساری پھرتی، تیزی اور آزاد زندگی کو اپنے اشاروں پر لے آتے ہیں۔ ان دونوں بنیادی فیصلوں پر یو ٹرن کے بعد سے عمران خان نے جتنے بھی فیصلے کیے وہ سب کے سب عالمی مالیاتی نظام اور عالمی سیاسی بالادست قوتوں کے عین مطابق کیے کیونکہ اب وہ ان عالی دماغ مغرب زدہ بیوروکریسی کے شکنجے میں تھا۔ لیکن بیوروکریسی کا کمال یہ ہے کہ عمران خان انکی باتوں میں آکر یہ سوچتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ اس کے سب فیصلے دراصل پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ حالانکہ یہ تمام فیصلے دراصل اس عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے اور مفاد میں ہوتے ہیں اور جب انکا مفاد پورا ہو رہا ہوتا ہے تو وہ تھوڑا بہت فائدہ آپ کو بھی پہنچاتے رہتے ہیں۔ ان کا اور ہمارا معاملہ اب ایک ساہوکار جیسا ہے۔ اگرساہوکار کے کسی مقروض کا کاروبار تباہ ہوجائے تو پھر ساہوکار کو اپنی رقم ڈوبنے کی فکر لگ جاتی ہے۔ وہ فورا اس مقروض کی دکان میں اپنی جیب سے نیا مال ڈالواتا ہے، تاکہ یہ شخص کمائے اور میرا قرضہ واپس کرتا رہے۔ البتہ تھوڑا بہت اپنے بیوی بچوں کے لئے ضرور لے جائے۔یہ ان ذمہ داریوں سے بے فکر ہو گا تو میرا قرضہ چکاتا رہے گا۔ (ختم شد)

اپنا تبصرہ بھیجیں