ایرانی فوجی جنرل کو بہت پہلے ہی قتل کردینا چاہیے تھا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو بہت پہلے ہی قتل کردینا چاہیے تھا۔

ڈنلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا کہ قاسم سلیمانی سے ‘بہت سال پہلے ہی نمٹ لینا چاہیے تھا (کیونکہ) وہ بہت سے لوگوں کو مارنے کی سازش کر رہا تھا … لیکن وہ پکڑا گیا!’

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ‘ایران نے کبھی جنگ نہیں جیتی لیکن کبھی بھی مذاکرات سے محروم نہیں ہوا’۔

دوسری جانب امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ بغداد میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کا مقصد ایک ‘انتہائی حملے’ کو روکنا تھا جس سے مشرق وسطی میں امریکیوں کو خطرہ لاحق تھا۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق مائیک پومپیو نے فاکس نیوز اور سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ‘مبینہ خطرے’ کی تفصیلات پر بات کرنے سے گریز کیا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی سے متعلق ‘انٹیلی جنس پر مبنی معلومات’ تھی جس کے بعد ایران کے ایلیٹ قدس فورس کے کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ قاسم سلیمانی خطے میں ‘سازش کی تیاری میں مصروف عمل تھے ایک ایسی بڑی کارروائی جس میں سیکڑوں امریکی جانوں کو خطرہ تھا’۔

سیکریٹری خارجہ نے سی این این کو بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ (خطرہ) قریب آ گیا تھا۔

مائیک پومپیو نے مزید کہا ‘وہ خطرہ خطے میں موجود تھا’۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ‘گزشتہ رات کا وقت تھا جب ہمیں اس بات کو یقین بنانا تھا کہ حملے میں انتہائی خطرے (قاسم سلیمانی) کو ختم کرنا تھا’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں