پرفیکٹ پریکٹس

javed-chaudhry-columns

فرٹز کریسلر (Fritz Kreisler) وائلن نواز تھا‘ یہ آسٹریا میں پیدا ہوا‘ وائلن بجاتا بجاتا امریکا پہنچا اور پھر پوری دنیا کو دیوانہ بنا لیا‘ وائلن کرہ ارض کے ہر کونے میں بجایا جاتا ہے‘ ہزاروں لاکھوں لوگ اس کے ایکسپرٹ بھی ہیں لیکن وائلن کو جس طرح کریسلر نے بجایا اور اس نے اس کے بدن سے جو آوازیں اور جو جذبات نکالے یہ اعزاز شاید ہی کسی اور کو نصیب ہوا ہو۔

وائلن سن کر دنیا کا ہر شخص خوش ہوتا ہے لیکن وائلن جس کے ہاتھوں میں پہنچ کر خوش ہوتا تھا وہ صرف اور صرف کریسلر تھا‘ وہ وائلن سے دلوں کی دھڑکنیں روک دیتا تھا اور رکے ہوئے دل چالو کر دیتا تھا لیکن فرٹز کو اس لیول‘ اس معراج تک پہنچنے کے لیے کیا کیا کرنا پڑا یہ جاننے کے لیے صرف ایک واقعہ کافی ہو گا۔

وہ نیویارک کے اوپرا ہائوس سے وائلن بجا کر نکلا‘ سیڑھیاں اتر رہا تھا تو کسی خاتون نے اس کا راستہ روک کر کہا ’’کریسلر میں تمہارے جیسا وائلن بجانے کے لیے اپنی پوری زندگی دے سکتی ہوں‘‘ کریسلر نے یہ سنا تو وہ ہنسا اور بولا ’’آپ ابھی زندگی دینے کا ارادہ کر رہی ہیں جب کہ میں وائلن کو اپنی پوری زندگی دے چکا ہوں‘‘ وہ رکا‘ گلے کا مفلر درست کیا اور کہا ’’میری زندگی میں چالیس سال سے وائلن کے سوا کچھ نہیں لیکن اس کے باوجود میں اگر 30 دن پریکٹس نہ کروں تو آپ جیسے سننے والوں کو فرق محسوس ہو جائے گا۔

میں اگر ایک ہفتہ مشق نہ کروں تو میرے خاندان‘ میرے دوستوں اور میرے عزیزوں کو پتہ چل جائے گا اور میں اگر ایک دن وائلن نہ بجائوں تو مجھے اسی شام معلوم ہو جائے گا میں وہ کریسلر نہیں ہوں جو کل شام تک تھا‘‘ وہ رکا اور بولا ’’فن کو روز پوری زندگی چاہیے ہوتی ہے‘ آپ اگر فن کار بننا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو روز اسے اپنا خون پلانا پڑتا ہے‘ آپ کو اسے روز اپنی زندگی دینا پڑتی ہے‘ آپ مجھ سے زیادہ زندگی دے دیں آپ مجھ سے اچھا وائلن بجا لیں گی‘‘۔

ہم میں سے اکثر لوگ شکوہ کرتے ہیں ہم موٹی ویشنل لیکچر سنتے ہیں‘ ہم سیلف ہیلپ کی کتابیں بھی پڑھتے ہیں اور ہم نیک لوگوں کی صحبت بھی اختیار کر لیتے ہیں لیکن ہم پر ان کا زیادہ دیر تک اثر نہیں رہتا‘ ہم ایک آدھ دن میں دوبارہ ’’ڈی موٹی ویٹ‘‘ ہو جاتے ہیں‘ یہ اعتراض درست ہے‘ ہم انسان اسپرنگ کی طرح ہوتے ہیں‘ ہم جتنے بھی کھچ جائیں ہم بہت جلد اپنے سائز پر واپس آ جاتے ہیں‘ ہم ’’ڈی موٹی ویٹ‘‘ ہو جاتے ہیں‘ میں ایسے حضرات سے اکثر عرض کرتا ہوں ہم انسان چولہے‘ فائر پلیس کی طرح ہوتے ہیں‘ ہمیں روز ایندھن چاہیے ہوتا ہے۔

ہم اگر چولہے میں تازہ لکڑیاں نہیں ڈالیں گے تو یہ جلد بجھ جائے گا‘ آگ ٹھنڈی ہو جائے گی‘ تنور میں بھی اگر ایندھن نہ ڈالا جائے تو یہ بھی برف بن جاتا ہے‘ موٹی ویشن اور پریکٹس خوراک کی طرح ہوتی ہے‘ جس طرح ہمارے ہر کھانے کی ایک خاص انرجی ہوتی ہے‘ ہم جوں ہی یہ انرجی خرچ کر دیتے ہیں ہمیں دوبارہ انرجی کی ضرورت پڑ جاتی ہے‘ ہم ایک کھانے کے بعد دوسرا کھانا کھاتے ہوئے یہ کیوں نہیں سوچتے ’’ہم نے ابھی تین گھنٹے پہلے تو کھانا کھایا تھا‘ ہم دوبارہ کیوں کھا رہے ہیں؟‘‘ ہم یہ نہیں سوچتے‘ کیوں نہیں سوچتے؟

کیوں کہ ہم جانتے ہیں ہم انسان ہیں اور انسان کو گاڑی کی طرح مسلسل توانائی چاہیے ہوتی ہے‘ موٹی ویشن اور پریکٹس بھی ایک ایسی ہی انرجی ہوتی ہے‘ یہ بھی ہمیں روز چاہیے ہوتی ہے اور یہ انرجی کھانے کی طرح روز خرچ ہوتی ہے‘ آپ کچھ نہ کریں آپ بس کوئی ایک فن پسند کریں اور روز اس پر آٹھ دس گھنٹے لگا دیں‘ یہ آٹھ دس گھنٹے آپ کو فرٹز کریسلر بنا دیں گے‘ آپ ان آٹھ دس گھنٹوں سے کریسلر کیسے بنیں گے؟

اس کا جواب بابا بلھے شاہ نے دیا تھا‘ ان کا ایک مرید صوفی بننا چاہتا تھا‘ بابے نے اس سے پوچھا ’’تمہیں پوری دنیا میں سب سے اچھی کیا چیز لگتی ہے‘‘ مرید دیہاتی تھا‘ گجر تھا‘ اس نے تھوڑی دیر سوچ کر جواب دیا ’’مجھے اپنی بھینس اچھی لگتی ہے‘‘ بابے نے جواب دیا ’’تم نے روز سارا دن صرف بھینس کو دیکھنا ہے اور دو مہینے بعد میرے پاس آ جانا ہے‘ میں تمہیں صوفی بنا دوں گا‘‘ مرید گائوں گیا اور دو ماہ بعد بابے کے پاس واپس آ گیا‘ وہ بابا بلھے شاہ کے دروازے پر کھڑا ہو گیا‘ بابے نے اشارے سے اسے اندر بلایا‘ وہ اندر آ گیا۔

بابے نے اسے دیکھ کر کہا ’’مجھے لگتا ہے تم بھینس کو دیکھتے ضرور رہے لیکن تم ساتھ ساتھ دوسرے کام بھی کرتے رہے‘‘ مرید نے ادب سے عرض کیا ’’جی باباجی میں بھینس کو سامنے باندھ کر روز مرہ کے کام کرتا رہتا تھا‘‘ بابے نے ہنس کر کہا ’’میں نے تمہیں کہا تھا تم نے صرف بھینس کو دیکھنا ہے‘ کوئی اور کام نہیں کرنا‘‘ مرید واپس گیا اور چھ ماہ یہ وظیفہ کرتا رہا‘ وہ چھ مہینے بعد واپس بابا جی کے ڈیرے پر پہنچا تو دروازے کی چوکھٹ کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا‘ بابے نے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا۔

مرید نے منہ سے بھینس جیسی آواز نکالی اور ڈکرا کر بولا ’’میں اندر کیسے آ سکتا ہوں‘ آپ کا دروازہ تنگ ہے‘ میرے سینگ پھنس جائیں گے‘‘ بابا بلھے شاہ ہنسا اور ہنس کر بولا ’’تم صوفی بن چکے ہو‘ تم اب لوگوں کو بیعت کرنا شروع کر دو‘‘ باقی مرید حیران رہ گئے اور عرض کیا ’’جناب ہماری پوری زندگیاں آپ کے ڈیرے پر جھاڑو دیتے گزر گئیں‘ ہم جیسے آئے تھے ہم ویسے رہ گئے مگر یہ دیہاتی آیا‘ آپ کے پاس دو دن رہا اور صوفی بن گیا‘ کیا یہ کھلا تضاد نہیں‘‘۔

بابا جی ہنسے اور بولے ’’میں نے اسے صوفی نہیں بنایا‘ اس کی پیر بھینس ہے‘ یہ بھینس کو دیکھ دیکھ کر خود بھینس بن گیا‘ اسے محسوس ہو رہا ہے‘ اس کے سر پر سینگ اگ آئے ہیں اور ولایت کی پہلی نشانی یہ ہے آپ خود کو اپنے محبوب جیسا محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں‘ تم برسوں سے میرے ساتھ ہو لیکن تم میرے جیسے نہیں ہوئے‘ یہ چھ ماہ بھینس کو دیکھتا رہا اور بھینس ہو گیا چناں چہ یہ صوفی بن گیا اور تم پیچھے رہ گئے‘‘۔ یہ کیا تھا؟

یہ فرٹز کریسلر تکنیک تھی‘ آپ اتنا وائلن بجائیں‘ آپ اتنی پریکٹس کریں کہ آپ سر سے پائوں تک خود وائلن بن جائیں‘ دھنیں آپ کے جسم کے اندر سے پیدا ہوں اور وائلن کے منہ سے نکلیں‘ آپ‘ آپ نہ رہیں‘ آپ وائلن بن جائیں اور جس طرح انسان خوراک اور پانی کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا‘ آپ بھی اس طرح وائلن کے بغیر سانس نہ لے سکیں‘ یہ آپ کی آکسیجن بھی ہو‘ خوراک بھی اور پانی بھی۔

ہم اس صوفیانہ کیفیت کو عام لفظوں میں پریکٹس کہہ سکتے ہیں‘ یہ کتنی بڑی چیز ہوتی ہے آپ یہ جاننے کے لیے جمیل نقش کی مثال لیجیے‘ جمیل نقش پاکستان کے مشہور مصور تھے‘ یہ 1939میں پیدا ہوئے اور 16مئی 2019 کو لندن میں انتقال کیا‘ جمیل نقش نے 60 سال مصوری کی‘ مصوری ان کے خون میں رچ بس چکی تھی‘ ان کے ہاتھ سوتے ہوئے بھی چلتے رہتے تھے‘ یہ آخری دنوں میں کومے میں چلے گئے لیکن یہ کومے میں بھی اپنی انگلیاں ہلاتے رہتے تھے‘ ان کا پورا جسم سن ہوتا تھا‘ پلکیں تک نہیں ہلتی تھیں لیکن انگلیاں تھرکتی رہتی تھیں۔

جمیل نقش کو انتقال سے چند لمحے پہلے ہوش آ گیا‘ ہوش کے یہ لمحے بھی انھوں نے مصوری کو دے دیے‘ مصور نے مرتے مرتے اپنا دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا‘ انگلیوں کو برش بنایا اور ہوا میں تصویریں بنانا شروع کر دیں‘ یہ ہوا میں انگلیاں چلاتے چلاتے دنیا سے رخصت ہو گئے‘ میں مارک سپٹز کی کہانی سیکڑوں مرتبہ آپ کو سنا چکا ہوں‘ مارک سپٹز تیراک تھا‘ یہ 1968 میں میکسیکو کے اولمپکس میں آدھ سیکنڈ سے ہار گیا‘ (جی ہاں صرف آدھ سیکنڈ) اس نے میکسیکو میں کھڑے کھڑے فیصلہ کیا یہ چار سال بعد اگلے اولمپکس میں ورلڈ ریکارڈ قائم کرے گا اور یہ چار سال بعد تاریخ میں بیک وقت 7 گولڈ میڈل حاصل کرنے والا دنیا کا پہلا تیراک بن چکا تھا۔

یہ واقعہ 1972میں میونخ کے اولمپکس میں پیش آیا‘ یہ اسپورٹس کی دنیا کا حیران کن واقعہ تھا‘ پریس کانفرنس ہو رہی تھی‘ ایک صحافی نے مارک سپٹز کو مخاطب کر کے کہا ’’آج کا دن آپ کی زندگی کا خوش قسمت ترین دن ہے‘‘ مارک سپٹز کو کرنٹ لگا‘ اس نے اسے اسٹیج پر بلایا اور کہا ’’تم پھر میری خوش قسمتی کی داستان سنو‘ میں 1968 میں صرف آدھ سیکنڈ سے ہار گیا تھا‘ میں نے اس دن فیصلہ کیا تھا میں اپنی آدھ سیکنڈ کی یہ کمی ہر صورت پوری کروں گا‘‘ وہ رکا اور بولا ’’تم جانتے ہو مجھے آدھ سیکنڈ کی یہ کمی پوری کرنے کے لیے کتنا وقت لگا اور مجھے کتنی محنت کرنا پڑی‘‘ صحافی خاموش رہا۔

وہ بولا ’’میں نے مسلسل چار سال دس ہزار گھنٹے پانی میں گزارے‘ یہ سال میں اڑھائی ہزار گھنٹے اور روزانہ آٹھ گھنٹے بنتے ہیں‘ میں نے ان چار سالوں میں ایک بھی چھٹی نہیں کی‘ میری ہر چیز بک گئی‘ مجھے طلاق تک ہو گئی لیکن میں پانی سے باہر نہیں نکلا لیکن تم کہتے ہو آج کا دن میرے لیے خوش قسمت ہے‘ ارے بے وقوف انسان تم مجھ سے زیادہ پانی میں رہ لو‘ تم مجھ سے زیادہ خوش نصیب ہو جائو گے‘‘۔

وہ رکا اور آہستہ سے بولا ’’میں جتنی محنت کرتا چلا گیا میں اتنا خوش نصیب ہوتا چلا گیا‘ دنیا کہتی ہے پریکٹس میکس اے مین پرفیکٹ‘ میں کہتا ہوں نہیں‘ پرفیکٹ پریکٹس میکس اے مین پرفیکٹ‘ آپ بھی پرفیکٹ پریکٹس کر لو‘ آپ مجھ سے بھی آگے نکل جائو گے‘‘ اورآپ بھی آج سے پرفیکٹ پریکٹس شروع کردیں ‘ آپ بھی پرفیکٹ خوش نصیب ہو جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں