کوئٹہ: مسجد میں دھماکا، ڈی ایس پی سمیت 15 افراد جاں بحق

کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن کی مسجد و مدرسہ میں دھماکے سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) اور مسجد امام سمیت 15 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق دھماکا سیٹلائٹ ٹاؤن کے نواحی علاقے غوث آباد کی ایک مسجد و مدرسہ میں نماز مغرب کے دوران ہوا جس کی نوعیت معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے دھماکے میں ڈی ایس پی امان اللہ کے شہید ہونے کی تصدیق کی۔

دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری جائے وقوع پر پہنچی جبکہ ریسکیو عملے نے زخمیوں کو سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے میڈیا سے گفتگو میں دھماکے میں 15 افراد کے جاں بحق اور 19 کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘مدرسے میں دھماکہ خودکش ہوسکتا ہے جبکہ دہشت گردوں نے مسجد کو آسان ہدف سمجھا۔’

انہوں نے کہا کہ ‘سیکورٹی انتظامات کا ازسر نو جائزہ لے رہے ہیں، امن کے لیے سیکیورٹی فورسز نے بے شمار قربانیاں دیں لیکن دشمن ملک کو ہمارا امن ایک آنکھ نہیں بھا رہا۔’

ابتدائی طور پر دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔

دوسری جانب افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبی اللہ مجاہد نے کوئٹہ کے دھماکے میں طالبان رہنما کے ہلاک ہونے کی تردید کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے مقام پر نہ تو کوئی طالبان رہنما موجود تھا اور نہ ہی وہاں کوئی اجلاس جاری تھا، جبکہ اس طرح کی خبریں من گھڑت ہیں۔

واضح رہے کہ دھماکے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس طرح کی خبر گردش کرنے لگی تھی کہ دھماکے میں طالبان رہنما بھی ہلاک ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں