تاریخی ورثہ…تاریخ کی امانت

Orya-Maqbool-Jan

یہ تاریخی عمارتیں اور ثقافتی ورثہ صرف آپ کی نسل کے لیے نہیں ہے کہ آپ اسے درست کر کے، کسی حد تک گذشتہ حالت میں بحال کر کے اس کو ایک خوبصورت کھلونے کی طرح استعمال کریں اور اس کی وہ حالت کر دیں آپ کے بعد کی نسلیں اس کے کھنڈرات پر آ کر ماتم کریں اور کہیں کہ کبھی یہاں فلاں تاریخی عمارت ہوا کرتی تھی۔ لاہور کا شمال کہ جہاں کبھی دریائے راوی بہا کرتا تھا، اس کے کنارے مغلوں کا تعمیر کردہ شاہی قلعہ، اورنگزیب عالمگیر کی بادشاہی مسجد، لاہور کا روشنائی دروازہ، رنجیت سنگھ کی سمادھی، گرو ارجن کا گردوارہ ڈیرہ صاحب اور مغل عمارات سے قیمتی پتھر، ستون، محرابیں اور سنگ مرمر کے منقش تختے چرا کر رنجیت سنگھ کا تعمیر کردہ حضوری باغ،یہ سارے عجائبات ایک ساتھ چھوٹے سے علاقے میں واقع ہیں۔ ان سب کی زبوں حالی کی ایک تاریخ ہے۔ لاہور کے شاہی قلعے کے اردگرد جو اینٹوں کی سرخ دیوار نظر آتی ہے، یہ رنجیت سنگھ نے دفاعی نقطہ نظر سے بنوائی تھی جس میں انگریز نے بعد میں اضافہ کیا۔جبکہ مغلوں کے قلعے کی دیوار اسکے پیچھے ہے جو منقش ہے اور اس پر بہترین ٹائل موزیک سے نقش ونگار بنے ہوئے ہیں۔ 50 فٹ اونچا اور آدھا کلو میٹر طویل یہ شاہکار جب انگریزوں کے قبضے میں آیا تو انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ تیل کے گودام بنا دیے تاکہ اس کے نقش ونگار تباہ ہو جائیں۔ دیوان عام کو ہسپتال بناد یا گیا اور برصغیر میں اپنی نوعیت کی واحد عمارت شیش محل میں سپاہی رہنے لگے۔ سپاہیوں کے ہاتھ جہاں تک جا سکتے تھے وہاں تک دیواروں میں لگے ہوئے قیمتی پتھر انہوں نے چرالیے۔ آج بھی سنگ مرمر کے ستونوں پر گوروں کے ہاتھ سے کھدے ہوئے نام اور پتے نظر آتے ہیں۔ بادشاہی مسجد رنجیت سنگھ کے ہاتھ آئی تو اس نے اسے اصطبل بنا دیا،اور جب 1941 ء میں وزیراعلی پنجاب سر سکندر حیات نے اسکی مرمت کیلئے ایک فنڈ قائم کرکے اسے مسلمانوں کے حوالے کیا تو اس کے کسی مینار پر کوئی گنبد موجود نہ تھا اور پوری مسجد ایک جنگ سے تباہ شدہ حویلی کا منظر پیش کرتی تھی۔ اس دور میں محکمہ آثار قدیمہ کے عظیم فرزند، ولی اللہ خان نے بیس سال کی محنت سے اسے 1961 ء میں دوبارہ اصل حالت میں بحال کیا۔ یہ وہی ولی اللہ خان ہیں کہ جب وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی سکیورٹی کیلئے یہ فرمائش کی گئی تھی کہ شالامار باغ کی تقریب میں شرکت کے لیے ان کے لئے دیوار میں ایک علیحدہ دروازہ نکالا جائے تو وہ دیوار کے سامنے لیٹ گئے تھے کہ ایسا صرف میری لاش سے گزر کر ہی ہو سکتا ہے۔ آثار قدیمہ کے ساتھ ہم نے پچاس سال جو رویہ رکھا وہ کسی سوتیلی ماں سے کم نہ تھا۔ بلوچستان میں چوبیس سال گذارنے کے بعد جب میرا تبادلہ پنجاب حکومت میں ہوا تو بیوروکریسی مجھے اپنے اندر ایک عجیب الخلقت سی چیز سمجھتی تھی جو ان میں مس فٹ ہے۔ آداب حکمرانی سے واقف ہے نہ خوشامد و چاپلوسی سے آشنا۔پنجاب حکومت میں میرے لیے ڈھونڈ کر ایسی آسامی نکالی گئی جس پر کبھی کوئی سی ایس پی یا ڈی ایم جی تعینات نہیں رہا تھا۔ بیوروکریسی نے زیر عتاب افراد، ناپسندیدہ لوگوں اور شودروں کے لئے ایسے بہت سے محکمے سنبھال کر رکھے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک محکمہ آثارقدیمہ تھا،جہاں 2004ء میں مجھے ڈائریکٹرجنرل لگا دیا گیا۔ اسوقت شاہی قلعہ اور دیگرملحقہ عمارات کی حالت ایسی تھی کہ انکے لئے لفظ ”تباہ حال ” بہت کم ہے۔ عالمگیری دروازے کے سامنے سے بجلی کے تار گزر رہے تھے۔ منقش دیوار کے ساتھ شاہی قلعے کے اندر ایک بہت بڑا گندا نالہ بہتا تھا۔ دیوان عام سے اکبری گیٹ تک کا موجودہ باغ مٹی کے ٹیلوں اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں سے اٹا تھا۔ حضوری باغ پر مالشیوں کا قبضہ تھا جن کے ہاتھوں کی کرم فرمائی سے ستونوں کی بھی مالش برابر ہو رہی تھی۔ شیش محل کی چھت ایک جانب کو جھک چکی تھی اور گرا چاہتی تھی۔ ایسے میں محکمہ آثارقدیمہ کا بجٹ شاید ایک لاکھ سے تھوڑا زیادہ تھا،اور اسکے ڈائریکٹر جنرل کے پاس ایک سوزوکی کیری ڈبہ گاڑی تھی جس کے شیشے تک بند نہیں ہوتے تھے۔ اس بے سرو سامانی کی حالت اور اپنے ساتھ پنجاب بیوروکریسی کے ایسے ”حسن سلوک” کے بعد ہمت ہار جانا معمول کی بات تھی۔ لیکن اس وقت پنجاب انتظامیہ میں چند خیرخواہ ایسے میسر آگئے جنہوں نے میری ہمت بندھائی۔ چیئرمین پلاننگ کمیشن سلمان غنی اور سیکرٹری کلچر تیمور عظمت عثمان میرے لئے براہ راست حوصلہ مندی کا باعث بنے۔ سب سے پہلے شیش محل کو بچانے کا مرحلہ تھا، اس کے لئے یونیسکو کے ذریعے عالمی سطح پر مدد مانگ لی گئی،کیونکہ اس کی بحالی کے لیے عالمی سطح کے ماہرین کی ضرورت تھی۔ ناروے کی حکومت نے ”نوریڈ” پروگرام کے تحت سرمایہ فراہم کیا اور پاکستان کے بڑے بڑے ماہرین محترمہ یاسمین لاری کے ہمراہ اس ورثے کو بچانے میں لگ گئے۔ دو سال کی محنت کے بعد شیش محل آج اس قابل ہوا ہے کہ آئندہ نسلوں تک بھی یہ ورثہ منتقل ہو گا۔ورنہ لوگ یہاں آکر صرف یہ دہراتے کہ یہاں کبھی شیش محل ہوا کرتا تھا۔لاہور کے شاہی قلعہ اور شالامار باغ دونوں کی زبوں حالی پر یونیسکو کے تحت ماسٹر پلان بنوائے گئے اور پھر دونوں کے لیے آٹھ سالہ بحالی کے منصوبے تیار کئے گئے۔ اس دور میں پنجاب پر چوہدری پرویز الہی کی حکومت تھی۔ شہباز شریف اور پرویز الٰہی میں اتنا ہی فرق ہے کہ شہباز شریف نے جی ٹی روڈ وسیع کرنے کے لیے شالامار باغ کا مغلوں کا تعمیر کردہ تاریخی ہائیڈرالک سسٹم مسمار کردیا تھا جسکے نتیجے میں یونیسکونے شالاماراورشاہی قلعے کو خطرے سے دوچار (Endangered) عمارتوں میں شامل کر دیا تھا، جبکہ پرویز الہی نے ان دونوں عمارتوں کی بحالی کیلئے ساٹھ کروڑ روپے(تیس کروڑ روپے فی عمارت) مختص کیے، جو اس وقت ایک بہت بڑی رقم تھی۔جب لاہور کا یہ شاہی قلعہ اور شالامار باغ دونوں بہت حد تک بحال ہوگئے با اختیار لوگوں کی للچائی نظریں اس پر پڑنے لگیں اور یوں طویل لڑائیوں کا آغاز ہوا۔ پرویز مشرف کی طرف سے ایک خط موصول ہوا کہ اسے آغا خان کو دے دیا جائے کہ وہ اسے بہترین ہوٹل اور ریسٹورنٹ میں بدل دے۔ ایک دن چوہدری شجاعت آگئے اور کہا کہ دیوان عام کے سامنے فارمولا ون کار کی نمائش کرنا ہے، اسکی اجازت دو۔ بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیاں لاکھوں روپے کے چیک لے کر کھڑی ہو گئیں کہ ہمیں یہاں تقریب کی اجازت دی جائے۔ ان سب سے لڑنا اور ورثے کو بچانا ایسا مرحلہ تھا جس پرمجھے اللہ نے توفیق عطا کی اور یہ تاریخی ورثہ اس تباہ کن یلغار سے بچا رہا ۔دنیا بھر کے ماہرین آثار قدیمہ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ عمارتیں اس قدر نازک ہیں کہ کیمرے کی فلش لائٹ بھی انہیں نقصان پہنچاتی ہے اور لاؤڈ اسپیکر کا شور بھی انکی عمر کم کر دیتا ہے۔انکے آس پاس گاڑیوں اور فیکٹریوں کے دھوئیں کو بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اسی لئے دنیا میں تاج محل سے لے کر اہرام مصر تک اور پیسا ٹاور سے لے کر روم اور یونان کے گرجا گھروں اور عمارتوں تک کسی بھی جگہ کے بارے کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہاں تقریبات جیسی خرافات منعقد ہوں گی۔ دنیا میں ایسی عمارتوں پر اگر روشنی بھی کی جائے تو دور سے کی جاتی ہے اور ان لائیٹوں کے سامنے کئی طرح کے فلٹر لگائے جاتے ہیں تاکہ براہ راست روشنی میں ان کا رنگ ضائع نہ ہو۔ آج بھی تاج محل میں جانے کے لیے کئی میل دور سے بیٹری والی گاڑیاں چلائی جاتی ہیںتاکہ تاج محل کی چمک مانند نہ پڑ جائے۔دنیا بھر میں یہ جانا اور مانا جاتا ہے کہ یہ تاریخی عمارتیں اور ورثے کوئی کارخانے اور ملیں نہیں جن سے پیسہ کمایا جائے۔ یہ تاریخی ورثہ صرف ہمارے لیے نہیں ہے کہ ہم انہیں اپنی عیاشی کے لئے استعمال کرکے تباہ کر جائیں۔ ہم اسے ہوٹل یا ریسٹورنٹ بنادیں، کیمروں کی لائٹیں اور میوزک کے شور سے انہیں بربادی کی طرف لے جائیں۔ ہمارے ہاتھوں میں امانت کے طور پر اگر ایک ہزار سال پرانا ورثہ آگیا ہے تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے اس طرح محفوظ رکھیں کہ یہ اگلے ہزار سال تک قائم رہے۔ہم نے اس ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہے، سرمایہ کمانے کے لئے اور بہت کچھ پڑا ہوا ہے۔شاہی قلعے کو ہوٹل بنانے سے بہتر ہے اسے اپنے ہاتھوں مسمار کر دیا جائے۔ نوٹ:ایک بیمار اور مفلوک الحال کینسر کے مریض کو کیمو تھراپی کے لئے کچھ انجکشنزکی ضرورت ہے۔ صاحب حیثیت لوگ اس نمبر پر رابطہ کر کے انجکشن فراہم کرسکتے ہیں۔03134863704

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں