غامدی صاحب کا نیا فلسفہ

انسانی تاریخ ہمیشہ سے اس بات پر گواہ ہے کہ وہ مسلسل دو گروہوں میں تقسیم رہی ہے۔ کبھی یہ طاقتور اور کمزور کے درمیان کشمکش کا شکار رہی ہے اور کبھی یہاں حق و باطل کے میدان سجتے رہے۔ دنیا کے تمام الہامی مذاہب اسے ازل سے لے کر ابد تک ھدایت خداوندی کے ماننے والوں اور اس سے انکار کرنے والوں کے درمیان معرکہ قرار دیتے ہیں۔ اس مسلسل معرکے کو اقبال نے ایک شعر میں سمویا ہے ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی اسلام کی تعلیمات کے نزدیک بھی یہ معرکہ ء خیر و شر، ازل سے برپا ہے۔ اللہ پوری دنیا کو دو گروہوں میں تقسیم کرتا ہے، ایک حزب اللہ یعنی اللہ کے دھڑے کے لوگ اور حزب الشیاطین، یعنی شیطانوں کے دھڑے کے لوگ۔ یہی وجہ ہے کہ ہادیٔ برحق رسول اکرم ﷺ نے پوری انسانیت کو دو ملّتوں میں تقسیم فرماتے ہوئے کہا ہے ”الکفر ملتہ واحدہ”، پورا کفر ایک ملت یعنی ایک گروہ ہے۔ اسکا مفہوم ہے کہ وہ لوگ جو آسمانی ہدایت سے انکار کرتے ہیں وہ خواہ سیکولر لبرل ہوں، کیمونسٹ ہوں، جمہوریت پرست یا فاشسٹ ہوں، سب کے سب ایک قوم ہیں۔ جبکہ ان کے مقابلے میں ہدایت یافتہ لوگ ”جسد واحد” یعنی ایک جسم کی طرح ان سے مختلف ایک دوسری قوم ہیں۔ اسلام کے پیش کردہ اس ازلی و ابدی دو قومی نظریے کو سوویت یونین کے خاتمے اور کیمونزم کے زوال کے بعد مسلم دنیا میں بہت زیادہ پزیرائی ملی۔ فلسفیانہ تاریخ کے ماہرین کا یہ خیال تھا کہ اب تاریخ اور نظریے کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ جاپانی فلسفی اور سیاسی مورخ فرانسس فوکویاما (Francis Fokoyma) نے 1989ء میں اپنا مشہور مضمون، تاریخ کا خاتمہ ”End of History” تحریر کیا۔ یہ مضمون افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کے نکلنے کے چند ماہ بعد لکھا گیا۔ اپنے اس نظریے کے جواز میں اس نے 1992ء میں ایک تفصیلی کتاب (The end of History and the last man) ”تاریخ کا خاتمہ اور آخری آدمی” تحریر کی۔ کتاب اس بات کی طرف اشارہ کرتی تھی کہ اب دنیا پر صرف اور صرف سرمایہ دارانہ نظام،جمہوریت اور سیکولرازم کا راج ہی رہے گا اور اس کے مقابلے پر کوئی نظریہ نہیں آسکتا۔ لیکن سوویت یونین کے خاتمے، کیمونزم کے زوال اور امریکی طاقت کے عروج کے تمام تر شواہد کے باوجود جب تیونس سے لے کر برونائی تک مسلم دنیا ایک نظریاتی اور تہذیبی انگڑائی لیتی ہوئی نظر آئی، جگہ جگہ اور ملک ملک،اسلام کے غلبے کی گفتگو شروع ہوئی، نظریاتی اور عسکری تنظیمیں وجود میں آئیں تو 1993ء میں امریکی رسالے فارن افیئرز (Foreign Affairs) نے ہارورڈ یونیورسٹی کے سیاسی فلسفی سموئل ہنٹنگٹن (Samuel Huntungton) کا مضمون تہذیبوں کا ٹکراؤ (Clash of civilizations) شائع کیا۔ اس کے نزدیک سرد جنگ جو کبھی دنیا کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں آباد اقوام کے درمیان ستر سال سے زیادہ عرصہ چلتی رہی ہے، اب اس کے خاتمے کے بعد، دنیا میں آخری فیصلہ کن لڑائی اسلام، مسلمان دنیا اور اسلامی تہذیب کے ساتھ ہوگی۔ اپنے اس مضمون میں پیش کردہ نظریے کو جواز دینے کے لیے اس نے 1996 میں ایک تفصیلی کتاب ” تہذیبوں کا ٹکراؤ اور ورلڈ آرڈر کی دوبارہ تخلیق” (clash of civilization and remaking of world order) تحریر کی۔ اسکی اس تحریر کے بعد کی دنیا میں جو تبدیلیاں آئیں اس سے یوں لگتا ہے کہ دنیا اب اسی کی بتائی گئی نظریاتی اور تہذیبی جنگ کا مرکز بن چکی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب تاریخ کا اختتام بلکہ انسان کا خاتمہ بھی اسی تہذیبی جنگ کی فتح و شکست کے ساتھ ہی ہوگا۔ صدیوں پہلے سے یہی نظریہ تینوں ابراہیمی مذاہب، یہودیت، عیسائیت اور اسلام دنیا کے سامنے رکھتے چلے آئے ہیں۔ان تینوں مذاہب کے مطابق دنیا میں اختتام سے قبل آخری بڑی جنگ دراصل حق و باطل کا سب سے بڑا معرکہ ہوگی جس میں حق کھل کر سامنے آجائے گا اور پوری دنیا پر بلا شرکتِ غیرے حکومت کرے گا۔ گذشتہ دنوں جاوید احمد غامدی صاحب نے سلیم صافی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک نئی اختراع کے طور پر ایک فلسفیانہ ارتقائی نظریہ پیش کرکے حق و باطل کی اس ازلی جنگ سے مسلمانوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آج کی دنیا میں دو نظریے اپنے پورے مربوط اور مضبوط نظاموں کے ساتھ دنیا کے سامنے آچکے ہیں اور آئندہ مستقبل میں انہی کی آپس میں جنگ ہو گی۔ ایک جمہوریت ہے اور دوسرا آمریت۔ ان کے نزدیک جمہوریت کے اصول وضوابط تو دنیا کے سرمایہ دارانہ معاشرے نے بڑی تفصیل کے ساتھ کئی سو سال سے وضع کردیے ہیں، جبکہ آمریت کے اصول و قوانین مرحوم کمیونزم نے مرتب کیے تھے، جسے وہ مزدور کی آمریت ”Proltorate Dictatorship” کہتے تھے۔ اس آمریت میں ایک پارٹی، پولیٹ بیورو اور محدود انتخاب وغیرہ مل کر آمریت کے نظام کا ایک ضابطہ بناتے ہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک ایسی آمریت اس وقت صرف چین میں ہے۔ وہاں سے کیمونزم تو رخصت ہوچکا اور اسکی جگہ کپیٹل ازم نے لے لی،مگر آمریت مضبوط اور مستحکم رہی۔ اسی لیے کہ یہ آمریت ماضی کی شہنشاہیت کی طرح نہیں ہے بلکہ اب یہ ایک مربوط نظام بن چکی ہے۔ یوں تو بحث کرنے، کتابیں تحریر کرنے اور فلسفیانہ منطقیں بھگارنے کے لیے غامدی صاحب کی یہ اختراع ایک بہترین موضوع ہے ۔ لیکن غامدی صاحب سے اس طرح کی بات کی توقع اس لیے نہیں تھی کہ وہ اپنے علوم کا ماخذ قرآن وحدیث کو بتاتے ہیں جہاں ایسی لایعنی بحثوں کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جہاں تک محسوس ہوتا ہے، غامدی صاحب کی درفنطنی کا مقصد شاید اس آنے والی بڑی جنگ یعنی ملحمتہ الکبریٰ سے انکار کو ایک فلسفیانہ بحث میں الجھانا تھا ۔ کیونکہ ایسے تمام مفکرین جو سیدنا عیسی علیہ السلام کی دنیا میں دوبارہ آمد سے لے کر مشرق وسطیٰ میں برپا ہونے والی آخری جنگ کے منکر ہیں انکے سامنے حضور نبی کریمﷺ کی پیشین گوئیاں اب روز روشن کی طرح واضح ہوتی جارہی ہیں۔ دنیا ٹھیک اسی سمت میں رواں دواں ہے اور وہی ملک اور مقامات آج آگ و خون کے دریا میں ڈوبے ہوئے ہیں جہاں اس معرکے کے برپا ہونے کی خبر دی گئی تھی۔ ایسے میں حدیث کے راویوں پر بحث کرنے سے معاملہ حل نہیں ہوسکتا۔اب اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ اسی لئے بحث کو ایک اور سمت موڑ کر اسے الجھانا بہت ضروری تھا۔ کیونکہ احادیث کے مطابق اس آخری جنگ کے نتیجے میں ایک عالمی حکومت کا قیام ہونا ہے، ایک سیاسی اسلام کی فتح ہے اور غامدی صاحب کے ہاں تو سیاسی اسلام ایک شجر ممنوعہ ہے۔اس لیے انہوں نے ارتقائی نظریاتی فلسفیانہ جنگ کا میدان سجا کر امت کو فلسفہ جہاد اور معرکہ حق و باطل کی تیاری سے روکنا بہت ضروری خیال کیا ہے۔ اگر غامدی صاحب کا یہ فلسفہ تسلیم کرلیا جائے کہ اب آمریت اور جمہوریت ہی دو الگ نظام ہیں جن کی بالآخر جنگ ہونا ہے تو پھر ہمیں علم ِسیاسیات کا ازسرنو نصاب مرتب کرنا ہوگا۔جمہوریت کی کوکھ سے جنم لینے والے ہٹلر، نریندر مودی اور اسرائیل کے قوم پرست ڈکٹیٹروں کو کس صف میں کھڑا کریں گے۔ امریکہ اور یورپ میں اٹھنے والی نسل پرستی کی لہر کی جمہوری تائید کس نظام کا حصہ تصور ہو گی۔ یہودی جو پوری دنیا کے سے اپنے آسائش و آرام والے مسکن اور کاروبار چھوڑ کر بے آب و گیاہ اور بے وسائل اسرائیل میں آباد ہو رہے ہیں اور وہ جس جنگ کی تیاری میں مصروف ہیں اور جس عالمی حکومت کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ آمریت اور جمہوریت دونوں میں کس پلڑے میں تصور ہو گی۔جمہوری طور پر منتخب آمر اور انسان دوست ڈکٹیٹر کس کھاتے میں جایئں گے ۔ غامدی صاحب کا یہ فلسفہ دراصل ایک حجاب ہے، جس کے پیچھے وہ اس حقیقت سے منھ چھپانا چاہتے ہیں کہ سید الانبیاء ﷺ کی آخر الزماں، ملحمتہ الکبری، دجال کے ظہور اور سیدنا عیسی ؑ کی دنیا میں آمد کی جن احادیث کو وہ جرح و تعدیل اور عقل کی کسوٹی پر رکھ کر انکار کرتے تھے، آج کے واقعات نے ان احادیث کی سچائی روز روشن کی طرح واضح کر دی ہے۔ امت کا ایک وسیع طبقہ آج دین کے اس آخری غلبے کا منتظر بھی ہے اور اس میں حصہ لینے کا خواہاں بھی۔ ایسے میں اگر فلسفیانہ نظریاتی بحث کی چادر میں غامدی صاحب خود کو نہ چھپائیں تو کیا کریں۔ایک فلسفی کے لئے ہار ماننا بہت مشکل ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

غامدی صاحب کا نیا فلسفہ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں