javed-chaudhry-columns

آپ کیوں نہیں کر سکتے؟

دہلی کے مضافات میں 416 گائوں ہیں‘ اسولا نام کا چھوٹا سا گائوں بھی ان میں شامل ہے‘ یہ گجر برادری کا گائوں ہے‘ گائوں کے ایک نوجوان وجے تنوار نے پندرہ سال پہلے اپنے گھر میں اکھاڑا بنایا اور یہ نوجوانوں کو پہلوانی کی ٹریننگ دینے لگا‘ دہلی میں نئی نئی دولت آئی تھی‘ بے شمار مالز‘ سینما‘ ڈسکوز اور پب بن رہے تھے۔

شہر میں پرائیویٹ پارٹیوں کا ٹرینڈ بھی شروع ہو چکا تھا لہٰذا دہلی میں گارڈز اور بائونسرز کی ضرورت تھی‘ کسی کمپنی نے وجے تنوار سے ایک دن کے لیے چھ پہلوان کرائے پر لے لیے‘ یہ پہلوان پرائیویٹ پارٹی کے لیے بائونسرز بنا دیے گئے‘ وجے کو ایک رات میں ساٹھ ہزار روپے مل گئے‘ یہ 60 ہزار روپے وجے تنوار کو بزنس کا نیا آئیڈیا دے گئے‘ اس نے اکھاڑے کو جم میں تبدیل کیا‘ گائوں کے لمبے تڑنگے مضبوط کاٹھی کے 50 نوجوان لیے‘ انھیں ٹریننگ دی اور شاپنگ مالز میں بائونسرز اور سیکیورٹی گارڈ بھرتی کرا دیا‘ مزید نوجوان بھرتی کیے‘ ٹریننگ دی اور انھیں بھی بھرتی کرا دیا۔

کاروبار چل پڑا یوں پورے گائوں میں جم بن گئے اور نوجوان ٹریننگ لے کر بائونسرز اور سیکیورٹی گارڈز بنتے چلے گئے یہاں تک کہ پورے دہلی میں اسولا گائوں اور وجے تنوار کی مناپلی ہو گئی‘ اسولا گائوں کے تمام گارڈز اور بائونسرز وجے تنوار کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ تنوار لکھتے ہیں‘ آپ دہلی کے کسی مال‘ سینما ہال یا ڈسکو میں چلے جائیں‘ آپ کسی پرائیویٹ آفس کا چکر لگا لیں‘ آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر تنوار کا نعرہ لگائیں‘ وہاں موجود تمام گارڈز فوراً مڑ کر آپ کی طرف دیکھیں گے۔

گارڈز کا مڑنا ثابت کرتا ہے سیکیورٹی میں اسولا گائوں اور وجے تنوار دونوں برینڈ بن چکے ہیں‘ وجے کے گائوں میں اب کوئی ایک بھی ایسا گھر نہیں جس کے نوجوان سیکیورٹی گارڈ یا بائونسر نہ ہوں‘ یہ لوگ عادتوں کے لحاظ سے بھی بڑے شان دار ہیں‘ یہ سگریٹ اور شراب نہیں پیتے‘ لڑائی جھگڑا نہیں کرتے ‘ خاندان کی مرضی کے بغیر شادی نہیں کرتے اور یہ اپنی ساری آمدنی بھی گائوں میں خرچ کرتے ہیں یوں ایک شخص نے پورے گائوں کا مقدر بدل دیا۔

آپ کیرالہ کے گائوں ماروتی چل کی مثال بھی لیجیے‘ اس گائوں میں شراب اور جواء عام تھا‘ خواتین اور بچے تک شراب پیتے اور جواء کھیلتے تھے‘ گائوں کا ایک شخص اونی کرشنن شہر گیا‘ وہاں سے شطرنج سیکھ کر آیا‘ گائوں میں چھوٹا سا چائے خانہ کھولا‘ چائے خانے کے سامنے شطرنج رکھی اور لوگوں کو یہ کھیل سکھانا شروع کر دیا‘ اونی کرشنن کی وجہ سے پورا گائوںشطرنج کا کھلاڑی بن گیا‘ لوگوں نے شراب اور جواء بھی چھوڑ دیا‘ یہ دنیا کا واحد گائوں ہے جس کا ہر شخص شطرنج کا ماہر ہے‘ یہ لوگ سارا دن شطرنج کھیلتے ہیں ‘ دنیا بھر سے لوگ ان کو دیکھنے آتے ہیں‘ حکومت نے شطرنج کو بچوں کے سلیبس کا حصہ بھی بنا دیا‘ بچوں کو اسکول میں شطرنج پڑھائی اور سکھائی جاتی ہے یوں صرف ایک شخص اور ایک کھیل نے پورے گائوں کا مقدر بدل دیا۔

سیاٹل امریکا کا مشہور شہر ہے‘ یہ شہر بوئنگ کارپوریشن‘ مائیکرو سافٹ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی وجہ سے مشہور تھا‘ سیاٹل کے ایک پادری نے اپنے چرچ میں ٹائنی ہائوس ویلج کے نام سے بے گھر لوگوں کے لیے چھوٹا سا گائوں بنا دیا‘ گائوں میں چھوٹے چھوٹے کمرے اور مکان ہیں‘ بے گھر لوگ تھوڑا سا کرایہ دے کر گھروں میں رہ سکتے ہیں‘ یہ گائوں بھی اپنے آئیڈیا کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہو گیا۔

تھائی لینڈ میں ایک گائوں ہے‘ رین بو ویلج‘ یہ ایک تباہ حال گائوں تھا‘ حکومت نے اسے گرانے کا حکم دے دیا لیکن گائوں کے ایک86 سالہ بوڑھے ہوانگ یونگ فواسی نے دیواروں کو پینٹ کرنا شروع کر دیا‘ یہ مسلسل گیارہ سال پینٹ کرتا رہا یہاں تک کہ گائوں رین بو میں تبدیل ہو گیا‘ سیاحوں کو پتہ چلا تو یہ گائوں میں آنا شروع ہو گئے یوں دیکھتے ہی دیکھتے یہ پوری دنیا میں مشہور ہو گیا‘ گائوں میں ہر سال 20 لاکھ لوگ آتے ہیں اور ان لوگوں کی وجہ سے گائوں کا مقدر بدل گیا۔

اس طرح روس میں بھی سوکارہ نام کا ایک گائوں ہے‘ اس گائوں کے لوگ ٹائیٹ روپ واکر یعنی رسے پر چلنے کے ایکسپرٹ ہیں‘ گائوں کے تمام لوگ حتیٰ کہ بچوں‘ خواتین اور بوڑھوں کو بھی رسے پر چلنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے‘ یہ لوگ بعد ازاں سرکس میں کام کرتے ہیں‘ روس میں سرکس میں رسے پر چلنے والے تمام لوگوں کا تعلق سوکارہ گائوں سے ہوتا ہے‘ گائوں کے چار سو لوگ مختلف علاقوں اور شہروں میں رسے پر چل کر روز گار کما رہے ہیں ۔

ہالینڈ کا ایک چھوٹا سا گائوں ہوگ وے (Hog way) ڈیمنشیا کے مریضوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ ڈیمنشیا کے مریض بیمار ہوتے ہیں لیکن یہ خود کو صحت مند سمجھتے ہیں چنانچہ ایک ڈاکٹر نے ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے پورا گائوں تعمیر کرا دیا‘ یہ گائوں ایک بڑا نرسنگ ہوم ہے‘ اس نرسنگ ہوم کے تمام ڈاکٹرز‘ نرسز اور سپورٹنگ اسٹاف مالی‘ ڈرائیور‘ ویٹر‘ شاپ کیپر‘ کک اور ڈومیسٹک ورکرز کے کپڑے پہن کر گائوں میں پھرتے رہتے ہیں‘ مریض عام نارمل زندگی گزارتے ہیں اور عملہ انھیں چلتے پھرتے دوائیں کھلا دیتا ہے‘ اس گائوں میں کافی شاپس‘ باربر شاپس‘ شاپنگ اسٹورز‘ ریستوران اور گروسری اسٹورز بھی موجود ہیں۔

مریض عام نارمل زندگی گزارتے گزارتے علاج کراتے رہتے ہیں۔ انڈین ریاست مہاراشٹر میں ایک گائوں ہے حیوڑے بازار‘ یہ گائوںخشک سالی اور قحط کا شکار تھا‘گائوں کے ہر گھر میں دیسی شراب کی بھٹی تھی‘ شراب نوشی‘ بیماریوں اور دشمنیوں کی وجہ سے گائوں کی اوسط عمر 45 سال تھی‘ گائوں پانی کی شدید کمی کا شکار بھی تھا‘ بارش نہیں ہوتی تھی‘ گائوں میں اسکول اور اسپتال بھی نہیں تھا‘ گائوں کے سردار کے بیٹے پوپٹ رائو نے کامرس میں ماسٹر کیا اور وہ گائوں واپس آ گیا‘ پوپٹ نے گائوں میں تین کام کیے‘ شراب پر پابندی لگا دی‘ دو‘ مٹی اور پتھر کے ڈیم بنانا شروع کر دیے۔

اس نے مٹی کے 52 اور پتھروں کے 32 ڈیم بھی بنائے اور دو بڑے واٹر ٹینک بھی تعمیر کیے اور تین‘ پوپٹ رائو نے گائوں میں تین تین خاندانوں کے گروپ بنائے‘ زمینوں کو مختلف یونٹوں میں تقسیم کیا اور ہر یونٹ ایک ایک گروپ کے حوالے کر دیا‘ پورے گائوں کا مقدر بدل گیا‘ گائوں میں اس وقت 236 خاندان ہیں‘ یہ تمام لوگ خوش حال بھی ہیں اور صحت مند بھی۔ 60 خاندان لکھ پتی ہیں‘ ان کے پاس اپنے ٹریکٹر‘ اپنی گاڑیاں اور ذاتی پکے مکان ہیں‘ گائوں کے تمام خاندان ذاتی گھروں‘ ذاتی جانوروں اور سال بھر کے ذاتی اناج کے مالک ہیں‘ گائوں میں اسکول بھی ہیں۔

اسپتال بھی‘پکی سڑکیں بھی‘ سیوریج سسٹم بھی‘ پارک بھی اور مارکیٹ بھی‘ فی کس آمدنی 450 امریکی ڈالر ہے‘ پوپٹ رائو کے گائوں کو انڈیا کے امیر ترین گائوں کا ٹائٹل مل چکا ہے‘یہ گائوں اس اعزاز کے بعد پوری دنیا میں مشہور ہو گیا اور اسی طرح بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے گائوں بدھیلا کے ایک باسی وی پی شرما نے کسی میگزین میں پڑھا بھارت کے سابق صدر ڈاکٹر راجندر پرساد دونوں ہاتھوں سے لکھنے کا فن جانتے تھے‘ وی پی شرما گھر گیا اور اس نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی پریکٹس شروع کر دی‘ وہ پریکٹس کرتا رہا یہاں تک کہ وہ دونوں ہاتھوں سے لکھنے کا ایکسپرٹ ہو گیا‘ وہ اپنی کام یابی پر خوش تھا‘ اس نے اس کام یابی کو سیلی بریٹ کرنے کے لیے اپنے گائوں میں ایسا اسکول بنانے کا فیصلہ کیا جس کا ہر بچہ دونوں ہاتھوں سے لکھنے کا ماہر ہو۔

وی پی شرما نے تھوڑی تھوڑی رقم جمع کی اور گائوں میں دنیا کے انوکھے اسکول کی بنیاد رکھ دی‘ یہ اسکول مدھیہ پردیش کے ضلع سنگرالی کے گائوں بدھیلا میں قائم ہے‘ اسکول میں تین سو طالب علم ہیں ‘ یہ تمام طالب علم نہ صرف دونوں ہاتھوں سے لکھ سکتے ہیں بلکہ یہ دو ہاتھوں سے دو مختلف زبانیں بھی تحریر کر سکتے ہیں‘ اسکول کے تمام طالب علم چار چار زبانیں بھی جانتے ہیں‘ یہ بچے یہ زبانیں بول بھی سکتے ہیں اور لکھ بھی سکتے ہیں‘ پوری دنیا کے ایکسپرٹ حیران ہیں ایک عام درمیانے پڑھے لکھے شخص نے کس طرح گائوں میں اسکول بنایا‘ تین سو قبائلی بچے اکٹھے کیے اور کس طرح ان بچوں کو دونوں ہاتھوں سے دو مختلف زبانیں لکھنے کا ماہر بنا دیا۔

مجھ سے اکثر نوجوان پوچھتے ہیں ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں؟ میں انھیں یہ مثالیں دیتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں اگر یہ لوگ اکیلے اپنے اپنے علاقوں کا مقدر بدل سکتے ہیں تو آپ کیا کیا نہیں کر سکتے! آپ بھی اپنے دائیں بائیں دیکھیں‘ آپ کے گائوں کے لوگ اگر لمبے تڑنگے ہیں تو آپ اپنے گائوں کو سیکیورٹی گارڈز کی فیکٹری بنا دیں‘ اگر خواتین زیادہ ہیں تو آپ انھیں سلائی کڑھائی سکھائیں اور پورے گائوں کو بوتیک بنا دیں‘ گائوں میں اگر برتن بنانے والے زیادہ لوگ ہیں تو آپ گائوں کو سرامک فیکٹری بنا دیں۔

گائوں میں اگر موچی زیادہ ہیں تو آپ گائوں کو شو فیکٹری بنا دیں اور اگرآپ کے گائوں میں کوئی بھی خوبی موجود نہیں تو آپ پورے گائوں کو کسی ایک کھیل کا ماہر بنا دیں‘ آپ نوجوانوں کو فٹ بال‘ والی بال‘ کشتیوں اور کچھ نہیں تو بندر نچانے کا فن تو سکھا سکتے ہیں‘ آپ پورے گائوں کو ویٹروں‘ نرسوں‘ مالشیوں‘ ڈرائیوروں‘ سیکیورٹی گارڈز‘ ککس‘ کلرکس‘ ایڈمنسٹریٹرز اور اکائونٹنٹس کا گائوں تو بنا سکتے ہیں۔

آپ صرف سوئمنگ لے لیں اور پورے گائوں کو سوئمر بنا دیں‘ آپ انھیں تاش‘ شطرنج یا لڈو کا ایکسپرٹ بنا سکتے ہیں اور اگر یہ بھی ممکن نہیں تو آپ کم از کم اپنے گائوں کو کسی ایک رنگ میں ہی رنگ کر اسے یونان کا سینٹو رینی‘ اٹلی کااوسٹونی‘ مراکش کا شیف شاون اور تھائی لینڈ کا رین بو فیملی ویلج تو بنا سکتے ہیں‘ آپ پورے ملک‘ پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ تو کر سکتے ہیں‘ وجے تنوار سے لے کر وی پی شرما تک یہ لوگ بھی آپ جیسے لوگ ہیں‘ اگر یہ کر سکتے ہیں تو پھر آپ کیوں نہیں کر سکتے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں