شوگر ایلیٹ کے کرشمے

لیہ گائوں کی طرف جاتے ہوئے شور کوٹ موٹر وے انٹرچینج سے نیچے اترے تاکہ شور کوٹ سے گڑھ مہاراجہ اور لیہ جائیں‘ مگر رات کے اندھیرے میں گنوں سے بھری ٹریکٹر ٹرالیوں کی طویل قطاروں نے استقبال کیا۔ سڑک کے دونوں اطراف ٹرالیاں تھیں اور درمیان میں تھوڑا سا راستہ بچا تھا۔ کسی نے روک کر کچھ بتانے کی کوشش کی لیکن رانا اشرف اور میں نے غور نہیں کیا۔ آگے گئے تو ٹریکٹر ٹرالیاں پھنسی ہوئی تھیں۔ ایک گھنٹہ وہیں پھنسے رہے‘ کسی سیانے نے مشورہ دیا کہ بہتر ہے آپ واپس جائیں کیونکہ یہ تماشا تو ساری رات لگا رہے گا ۔ بڑی مشکل سے گاڑی کھیتوں سے واپس موڑی۔ دوبارہ موٹر وے پر گئے‘ وہاں سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور ملتان پہنچے اور پھر وہاں سے لیہ تک کا سفر کیا ۔ شور کوٹ سے لیہ تک کا دو گھنٹے کا سفر براستہ ملتان چار پانچ گھنٹوں میں طے ہوا ۔

بتایا گیا کہ بعض دفعہ تو پوری رات ٹریکٹر وں کے ڈرائیور ایک دوسرے کے سامنے کھڑے رہتے ہیں کہ تم پیچھے کرو ‘وہ کہتا ہے تم کرو‘ تمہاری غلطی ہے۔ پھر کچھ دیر بعد وہیں ٹریکٹر کی ڈرائیونگ سیٹ پر سو جاتے ہیں۔ آپ کو ان علاقوں میں پولیس پٹرول یا ٹریفک پلان نظر نہیں آئے گا۔ ڈی پی او کو پروا نہیں کہ مسافر کس مصیبت سے گزر رہے ہیں۔ وہ پوری رات پھنسے رہیں‘ آپ کو ضلعی انتظامیہ نظرنہیں آئے گی۔ بتایا گیا کہ شوگر ملز مالکان بہت طاقتور ہیں‘ لہٰذا پولیس جرأت نہیں کرتی کہ گنوں کے اس ٹرانسپورٹ سسٹم کو بہتر کریں۔

یہ مسئلہ صرف ایک ضلعے کا نہیں بلکہ آپ کو پورے پنجاب میں یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ اس موسم میں آپ سفر کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی خیر نہیں ۔ کوئی سسٹم نہیں کہ ایک ٹرالی پر کتنا گنا لادا جائے تاکہ راستے میں دوسرے لوگ یا مسافر خراب نہ ہوں۔ اگر راستے میں گنے کی کوئی ٹرالی خراب ہوگئی تو جہاں سڑک بلاک ہوگی اور گاڑیوں کی قطاریںلگ جائیں گی وہیں گنے کو دوسری ٹرالی میں لادنا بھی اچھا خاصا کام ہے۔

جو چیز میں نے محسوس کی‘ یہ ہے کہ اچانک ٹرکوں کی جگہ ٹرالیوں نے لے لی ہے۔ پہلے یہ ہوتا تھا شوگر ملز مالکان نے گنے کے علاقوں میں پوائنٹس قائم کیے ہوئے تھے جہاں کسان گنا لے جاتے تھے اور وہیں تول کر رکھ لیا جاتا تھا ۔ پھر بڑے ٹرک شوگر ملز مالکان خود ہائر کر کے وہاں بھیجتے اور وہ گنا اٹھا کر مل لے جاتے۔ یوں بڑے ٹرکوں کی وجہ سے ٹریفک میں وہ مسائل پیدا نہیں ہوتے تھے اور کسانوں کے لیے بھی آسانی ہوجاتی تھی۔ انہیں سب کچھ چھوڑ کر شوگر ملز کے باہر کئی روز تک انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔ لیکن اچانک شوگر ملز مالکان نے بحران کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ۔

پہلے ان علاقوں میں کسانوں کو گنا کاشت کرنے کے لیے ایڈوانس ادائیگیاں شروع کر دی گئیں اور کسانوں نے دیگر فصلیں چھوڑ کر گنے کا رخ کیا۔ گنا بھی ملز مالکان خود کھیت تک سے اٹھوا لیتے تھے اور سب اخراجات بھی خود برداشت کرتے تھے۔ کسانوں کو گنے کی طرف لایا گیا تو ہر طرف کھیتوں میں آپ کو گنے کی فصل نظر آنے لگی ۔ کسان بھی خوشحال ہونے لگا ‘ مگر یہ نہ سوچا گیا کہ آنے والے دنوں میں انہی کسانوں کا کیا حشر ہونے والا تھا۔ جوں جوں رقبہ بڑھتا گیاساتھ ہی شوگر ملز مالکان کے نخرے بھی بڑھتے گئے۔ پہلے ایڈوانس کا سلسلہ بند کر دیا گیا‘ پھر وہ پوائنٹس ختم ہونے لگے جہاں کسان گنا لے جاتے تھے۔ اب کہا گیا کہ گنا بیچنا ہے تو خود ہی ٹرک‘ ٹرالیاں کرائے پر لے کر مل کے باہر پہنچائو اور کئی دنوں تک اپنی باری کا انتظار کرو۔

فصل زیادہ ہوئی تو ساتھ ہی شوگر ملزمالکان نے کسانوں کی ادائیگیاں روکنا شروع کر دیں اور ایک ایک سال کسانوں کو رلانا شروع کر دیا۔ گنے کی سرکاری قیمت کی بجائے کم قیمت دینا شروع کی۔ کسانوں کو بلیک میل کرنے کیلئے کئی کئی دن تک شوگر ملز کا آپریشن شروع نہ کیا جاتا۔ اب کسان کے پاس اتنی جان نہیں تھی کہ وہ اتنے ماہ انتظار کر سکتے۔ جونہی کرائسس بڑھا شوگر ملز مالکان ‘جو ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں ‘نے ملز کو اربوں روپوں کی سبسڈی دینا شروع کر دی۔ کسانوں کو کچھ نہ ملا ‘لیکن مل مالکان نے جیبیں بھر لیں۔ ان حکمرانوں کا ملز قائم کر کے اپنی جیبیں بھرنے کا کام بہت پرانا ہے۔

جب نواز شریف جنرل مشرف سے ڈیل کر کے سعودی عرب نکل گئے تھے‘ اس وقت جو مقدمات ان پر قائم تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ انہوں نے شوگر ایکسپورٹ کرنے کے لیے اربوں روپے کے قریب سبسڈی شوگر ملز مالکان کو 1998ء میں دی تھی۔ میں اپنے دوست زاہد گشکوری کی ایک سٹوری پڑھ رہا تھا جس میں اس نے انکشاف کیا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں شوگر ملز مالکان کو اٹھارہ ارب روپے عوام کے پیسوں سے اکٹھے ہونے والے ٹیکسوں سے نکال کر سبسڈی کے نام پر دیے گئے۔

جنہوں نے اربوں روپے لیے ان میں کئی نامور شخصیات کی ملیں بھی شامل ہیں۔ اب یہ ایک سسٹم بن گیاہے کہ ہر سال ان ملز مالکان نے بحران پیدا کرنا ہے اور شور مچا کر کسانوں کے نام پر اربوں روپے جیب میں ڈال لینے ہیں ۔ دوسری طرف گنے پر کسانوں سے ٹیکس بھی لیا جاتا ہے‘ جسے سیس فنڈ کا نام دیا گیا تھا۔ اس سیس کا مطلب یہ تھا جن علاقوں سے گنا ملوں کو بھیجا جاتا ہے ان علاقوں میں سڑکیں اس ٹیکس سے بنائی جائیں گی۔ اس مد میں کسانوں سے اربوں روپے اکٹھے کیے گئے۔ اب پتہ نہیں وہ پیسہ کہاں گیا؟ کسی بھی ڈپٹی کمشنر کو علم نہیں کہ مل مالکان وہ پیسہ اکٹھا کررہے ہیں تو وہ کہاںجارہا ہے؟اب تو نیا رواج نکل آیا ہے کہ جہاں شوگر ملز ہیں وہاں ملز مالکان اپنی مرضی کے ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر لگواتے ہیں تاکہ کوئی ان کے خلاف کارروائی یا ان سے پوچھ گچھ کی جرأت نہ کرے۔ یوں آج تک کسی کو پتہ نہیں چلا کہ اس سیس ٹیکس سے کتنی سڑکیں کہاں بنی ہیں۔

میں ابھی لیہ سے ہوکر آرہا ہوں۔ جھنگ سے لیہ تک آپ سڑکوں کی حالت دیکھ لیں‘ آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ سب کچھ تباہ ہوچکا ہے۔ ان سڑکوں پر ٹنوں کے حساب سے لدی ہوئی ٹرالیاں چلتی ہے‘ لہٰذا سڑکیں تباہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا شوگر ملز مالکان کسانوں سے جو کٹوتیاں کرتے ہیں اس سے یہ ان علاقوں میں اچھی سڑکیں بنواتے اور ڈپٹی کمشنرز کے پاس باقاعدہ ایک ریکارڈ ہوتا کہ کون سی مل کتنا سیس فنڈ اکٹھاکررہی ہے اور وہ پیسہ کہاں خرچ ہورہا ہے۔ کسانوں سے پوچھا تو وہ رو پڑے کہ الٹا وہ پچیس سے تیس روپے فی من کے حساب سے ٹریکٹر ٹرالی کے مالک کو کرائے کی ادائیگی کرتے ہیں۔

وہ سسٹم اب کہیں نظر نہیں آتا کہ بڑے ٹرک مل مالکان خود پوائنٹس پر بھیج کر گنا اٹھوا لیں۔ پچیس روپے گنے کی چھیلائی اور صفائی مزدور کو الگ دینا پڑتی ہے‘ یوں پچاس روپے فی من گنے کی کٹائی‘ چھیلائی اور ٹرانسپورٹ پر خرچ ہوجاتے ہیں ‘ جبکہ جو دو تین دن اس کے مل کے باہر لگ جاتے ہیں‘ وہ خرچ الگ۔ دوسری طرف تیل اور کھاد کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں۔ مجھے ایک کسان نے بتایا کہ گنے کا ریٹ دو سو روپے فی من اب کیا گیا ہے جبکہ ایک سو روپے فی من ان کے اخراجات ہوجاتے ہیں۔ یوں انہیں صرف سو روپے ہی مل رہے ہیں۔ کسان وہیں کھیت میں کھڑا ہے‘ جہاں اس کے باپ دادا تھے‘ جبکہ شوگر ملز مالکان نے ایک کے بعد دوسری مل لگا لی۔ جب بھی مل مالکان کو منافع کم ہوتا ہے تو فوراً چینی کی قیمت بڑھا کر بڑے بڑے سیاستدان اور حکمران مال بنا لیتے ہیں یا حکومت سے اربوں روپے سبسڈی کے نام پر لے جاتے ہیں۔

لیکن میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ ان علاقوں میں سڑکوں کا ہے‘ جس سے کسان سے لے کر عام لوگ تک تباہ ہورہے ہیں۔ آپ کو ان علاقوں میں معیاری سڑکیں نظر نہیں آتیں۔ بارہ بارہ گھنٹے تک ٹرالیاں پھنسی رہتی ہیں‘ ان علاقوں کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی او مزے سے سوئے ہوئے ہیں۔ آپ کی پوری رات سڑک پر گزر جائے کوئی فکر نہیں۔ عوام بھی اس بدترین سلوک کے عادی ہوچکے ہیں۔ یہ بات حکمران سمجھتے ہیں اور ہمارے سرکاری بابوز بھی‘ جو ڈر کے مارے شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی کی جرأت نہیں رکھتے۔ ڈپٹی کمشنر کو چھوڑیں خود وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں ملز مالکان کو Elite capture کا نام دیا تھا۔ جس ایلیٹ اور مافیا کے سامنے وزیراعظم بے بس ہو وہاں ڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او کیا بیچتا ہے!
بشکریہ روزنامہ دنیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں