دہلی فسادات میں ہلاکتوں کی تعداد 38 ہوگئی

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت میں کشیدگی عروج پر ہے جہاں ہزاروں پولیس اور پیرا ملٹری اہلکار سڑکوں پر پیٹرولنگ کر رہے ہیں اور کئی روز سے جاری تشدد کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں 38 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے ساتھ ہی نئی دہلی میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات پیش آئے۔

گورو تیگ بہادر (جی ٹی بی) ہسپتال کے ڈائریکٹر سنیل کمار کا کہنا تھا کہ ان کے ہسپتال میں 34 ہلاکتیں رجسٹر کی گئی اور ‘یہ تمام ہلاکتیں گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی تھیں’۔

لوک نائک ہسپتال کے چیف ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہاں 3 افراد ہلاک ہوئے۔

لوک نائک ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کشور سنگھ کا کہنا تھا کہ 10 افراد کی حالت نازک ہے۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ جھڑپ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد، زخمیوں یا جن کے کاروبار یا گھر تباہ ہوگئے انہیں معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقے میں غذا اور دیگر معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے 500 افراد کو سوال و جواب کے لیے حراست میں لیا ہے اور بین البرادری ہم آہنگی کے لیے شہر بھر میں ‘امن کمیٹی اجلاس’ کے انعقاد کا آغاز کردیا ہے۔

خیال رہے کہ ابتدائی طور پر ہنگامہ آرائی کا آغاز اتوار کی رات کو ہوا تھا جب مشتعل ہندو گروہوں نے مسلمانوں پر حملہ کردیا تھا۔

تلوار اور بندوقوں سے لیس گروہوں نے کئی افراد کے گھروں اور گاڑیوں کو نظر آتش کردیا۔

گھر، دکانیں، 2 مساجد، 2 اسکول، ٹائر کی مارکیٹ اور پیٹرول پمپ کو نظر آتش کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں