نٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا حکم

انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے افغانستان میں طالبان، افغان اور امریکی فورسز کے ساتھ ساتھ سی آئی اے کی جانب سے کیے گئے انسانیت سوز جنگی جرائم کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی فورسز کے خلاف استغاثہ کو جرائم کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل واشنگٹن انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے عدالتی دائرہ کار کو عرصے سے مسترد کرتے ہوئے تعاون سے انکار کرتا رہا ہے۔

2018 میں اس وقت کے امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں ہونے والے مظالم کی دادرسی کے لیے 2002 میں اس عدالت کا قیام عمل میں آیا تھا جس سے خومختاری اور امریکی مفادات کو ناقابل قبول خطرات لاحق ہیں۔

گزشتہ سال اپریل میں پراسیکیوٹر فاتو بینسوداس نے افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور عدالت نے جمعرات کو ان کے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا ہے جس کے ساتھ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا امریکی مفادات سے براہ راست ٹکراؤ ہو گیا ہے۔

گزشتہ سال ٹرائل سے قبل ہی ججز نے تسلیم کیا تھا کہ افغانستان میں بڑے پیمانے پر جرائم کا ارتکاب کیا گیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر تحقیقات کو مسترد کردیا تھا کہ اس معاملے میں یہ انصاف کے مفاد میں نہیں ہو گا کیونکہ ہمیں توقع ہے کہ تعاون کی کمی کے سبب اس معاملے میں کسی پر بھی فرد جرم عائد نہیں کی جا سکے گی۔

اس فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا تھا جن کا کہنا تھا کہ عدالت نے افغانستان میں انصاف کے خواہاں متاثرہ افراد کی خواہش کو نظر انداز کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں