سول سروس ریفارمز:تباہی پر مہر تصدیق ……(قسط 3)

Orya-Maqbool-Jan

قیام پاکستان کے بعد پورے ملک کا انتظام و انصرام اسی سول سروس کے ذمہ تھا، جس کی وجہ سے ایک گھنٹے کے لیے بھی امورِ سلطنت کی انجام دہی میں خلل نہیں پڑا۔ تمام کاروبار سلطنت بالکل ویسے ہی چلتا رہا، حالانکہ جیسی افتاد اس زمانے میں ٹوٹیں اور جس طرح کی بے سر و سامانی کا عالم تھا اگر سرکاری مشینری مضبوط نہ ہوتی تو یہ نو زائیدہ ملک آغاز میں ہی ہمت ہار جاتا۔ دس لاکھ لوگ سرحد کے آر پار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور لاکھوں مہاجرین کے قافلے کیمپوں میں پڑے ٹھکانوں کے منتظر تھے۔ خزانے میں سے پاکستان کے حصے کی رقم روک لی گئی تھی اور ملک کے پاس تنخواہیں دینے کے لیے بھی رقم موجود نہ تھی۔ یہ مشکل ترین دور اس بات کا گواہ ہے کہ چٹاگانگ سے لے کرجیسور تک اور کراچی سے لے کے خنجراب تک پورے ملک میں ایک دن کے لیے بھی کسی قسم کا نظام معطل نہیں ہوا۔ یہی سرکاری ملازمین تاریخ پاکستان کے وہ گمنام کارکن ہیں جن کی کہانیاں آج تک کسی نے مرتب نہیں کیں۔ حکومتی قیادت سیاسی حکمرانوں کے پاس ہوتی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ مملکت کا کاروبار دراصل چپڑاسی سے لے کر اعلیٰ سطحی افسرتک، ڈاکٹرز، انجینئرز، ڈرائیور، ڈسپنسر، کلرک اور دیگر سرکاری کارندوں کا مرہون منت ہوتا ہے۔ اس ملک کے آغاز سے ہی سیاسی طوفان آتے رہے، حکومتیں بدلتی رہیں، اسمبلیاں معطل ہوتی رہیں، صرف چند مہینوں کے وقفے سے وزیراعظم تبدیل ہوتے رہے۔ لیکن پاکستان کے پہلے دس سالوں میں اس کی ترقی کا پہیہ نہیں رکا اور صرف دس سال کے عرصے میں یہ ملک دنیا کے نقشے پر ایک ابھرتی ہوئی معیشت اور طاقت کے طور پر سامنے آ گیا۔ صرف ایک مثال دیتا ہوں کہ 1947ء میں اس ملک میں سات لاکھ پچیس ہزار افراد پر ایک ڈاکٹر تھا لیکن صرف دس سال بعد یہ تعداد صرف گیارہ ہزار رہ گئی۔ یہ سب اسی گمنام سول سروس اور سرکاری ملازمین کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکا۔ یہی دور تھا جب اس سول سروس کی تباہی کی بنیاد بھی رکھ دی گئی تھی۔ قائداعظم نے سول سروس کو پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور انہیں ”حکومت نہیں ریاست” کا ملازم قرار دیا۔ قائداعظم نے بار بار سرکاری افسران سے خطاب فرمایا۔ حیرت کی بات ہے کہ ہر خطاب کا آغاز تقریبا ایسے ہوتا ہے ” میرا پختہ یقین ہے کہ ہماری کامیابی اور فلاح اسلام اور حضرت محمد ﷺجو عظیم قانون دان تھے کے مرتب کردہ سنہری اصولوں کو اپنانے میں پنہاں ہے”۔ یہ الفاظ گیارہ اکتوبر 1947 کو کہے گئے۔ اس کے بعد چودہ فروری 1948 کو قائد اعظم نے کہا ” میں چاہتا ہوں کہ آپ خدا کے حضور پیش ہوں تو آپ پورے اعتماد سے کہہ سکیں کہ میں نے اپنا فرض انتہائی ایمانداری، وفاداری اور صمیم قلب سے ادا کیا۔ اسلامی قوانین کی بالادستی اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس دلانے والے قائداعظم نے 14 اپریل 1948 کو پشاور میں انہی افسران سے کہا ” آپ کو کسی قسم کے سیاسی دباؤ میں نہیں آنا چاہیے۔ آپ کو کسی سیاسی جماعت یا کسی سیاستدان کا اثر قبول نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ واقعی پاکستان کا وقار بلند کرنا چاہتے ہیں تو کسی طرح کے دباؤ کا شکار نہ ہوں اور عوام و مملکت کے سچے خادم کی حیثیت سے اپنا فرض بے خوفی اور بے غرضی سے ادا کریں”۔ آج یہ ریڑھ کی ہڈی مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اس سول سروس کو لاتعداد چھوٹے چھوٹے مرض لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے جن میں کرپشن کا ناسوربھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کی بنیادی وجہ ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی وہ جائیدادیں تھیں جن کی الاٹمنٹ کے لیے مہاجرین کلیم داخل کر رہے تھے۔ ان مہاجرین کی آبادکاری نے اس طرح اس نوزائیدہ ملک کی سرکاری مشینری کو کرپشن کی دیمک سے اسقدر کرم خوردہ کیا کہ 1959ء میں اس سروس کی اصطلاحات کا جب پہلا کمیشن جسٹس کارنیلس کی سربراہی میں بنا تو اس نے 1962ء میں اپنی رپورٹ کے آغاز میں ہی یہ حقیقت لکھی کہ ” اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کوئی محکمہ بھی اس سے بچا ہوا نہیں۔ برطانوی دور میں یہ دعویٰ درست تھا کہ انڈین سول سروس کرپشن سے پاک ہے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ موجودہ سی ایس پی آفیسر ان میں سے بھی تین کے خلاف اینٹی کرپشن کے مقدمے قائم ہیں جن کا اس سے پہلے تصور بھی ممکن نہ تھا”۔ جسٹس کارنیلس کی 478 صفحات پر مشتمل رپورٹ مرض کی تشخیص کرتی تھی،اور اس کا علاج بھی بتاتی تھی۔ لیکن چونکہ اس وقت تک پاکستان کی سول سروس کو ایک سیاسی اکھاڑہ بنا لیا گیا تھا اور کوئی اسکی سمت درست کرنے میں مخلص نہ تھا، اسی لیے یہ رپورٹ الماریوں کی زینت بنا دی گئی اور اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ ایوب خان کا مارشل لاء لگ چکا تھا اور اب سیاست میں سول بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ ملٹری بیوروکریسی بھی داخل ہوچکی تھی، بلکہ اب یہ ایک سینئر پارٹنر تھی۔ ان دونوں نے مل کر نہ صرف سیاست دانوں سے وقتی آزادی حاصل کی بلکہ انہیں اپنے اشاروں پر چلانا بھی شروع کر دیا۔ یہ ملک اب ایک ایسی دلدل میں جا گرا تھا جہاں سیاستدان، فوج اور بیوروکریسی مفادات کی جنگ لڑ رہے تھے اور ملک کا مفاد اوجھل تھا۔ بیوروکریسی چونکہ کام جانتی تھی، بلکہ صرف وہی کام جانتی تھی اور اس کے بغیر ملک کی گاڑی چلانا مشکل تھا اس لیے یہ سیاستدانوں اور جرنیلوں کی ایک ایسی محبوبہ بن گئی جو ہر آنے والے حکمران کے لئے سیج سجاتی، عشوہ و ا دا دکھاتی اور اسے شیشے میں اتار کر اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتی۔یہ ہر دور میں ہر حکمران کی آنکھوں کا تارا بنی رہی۔ اسے قابو میں کرنے، زیر دام لانے اور مستقل وفادار بنانے کے لیے کبھی اسے ڈرایا گیا اور کبھی لالچ دیے گئے۔ یحییٰ خان نے اقتدار میں آتے ہی اعلی ترین 303 آفیسران فارغ کر دیئے جن میں قدرت اللہ شہاب اور مصطفی زیدی جیسے لوگ بھی تھے۔ بھٹو برسراقتدار آیا تو اس نے چودہ سو آفیسران نکال دیے جن میں الطاف گوہر جیسے افراد بھی تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک ڈھانچہ ابھی تک قائم تھا، جسے قائداعظم نے ریڑھ کی ہڈی کہا تھا۔ اس لیے کہ اس سول سروس میں ایماندار رہنے، حکمرانوں کے ناجائز کاموں سے انکار کرنے اور سر اٹھا کر نوکری کرنے کے لئے انہیں آئینی تحفظ حاصل تھا۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے نئے پاکستان کے نئے آئین میں اس تحفظ کو ختم کرکے بیوروکریسی کو ایک زرخرید لونڈی میں تبدیل کر دیا جس کو جس طرف چاہے موڑ دیا جائے اور جب چاہیں نکال دیا جائے۔ اس کے بعد کے سینتالیس سال سول سروس کے زوال کے سال ہیں۔ ضیاء الحق نے اسے واپس درست کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے بھی انہیں آئینی تحفظ دینے سے انکار کیا، کیونکہ اسی تحفظ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہی تو آج سول سروس اسکی غلام تھی۔ بینظیر اور نواز شریف نے ان غلاموں کو دو سیاسی پارٹیوں میں بدل کر رکھ دیا۔ مشرف نے انہیں مکمل طور پر بے اختیار کرنے کی کوشش کی، ناظم کا نظام لایا گیا،اور بیوروکریسی کی حیثیت ایک گھریلو ملازمہ جیسی بنا دی گئی۔ لیکن چونکہ اس سول سروس کے بغیر سرکار کا کاروبار چلنا مشکل تھا۔اسی لیے یہ واپس گھریلو ملازمہ سے دوبارہ منظورنظر محبوبہ بن گئی۔ عمران خان صاحب کے ریفارمز بھی اس عشوہ طراز محبوبہ کی نوک پلک سوار کر اسے تابع فرمان لونڈی کی حیثیت دینا چاہتی ہیں۔ ایک ایسی بیوروکریسی جو ان کے اشاروں پر رقص کرتی ہو۔ ان اصلاحات میں سے ایک بھی ایسی نہیں ہے جو نئی ہو۔ ایسی اصلاحات کئی بار نافذ ہوئیں اور بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔ لیکن اس دفعہ شاید انکی ناکامی انتہائی شدید ہو۔ اس لیے کہ پہلی اصلاحات کے وقت سول سروس میں کچھ اخلاقیات و اصول باقی تھے۔ اب توان اصلاحات نے دلدل میں غرق اس سول سروس کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا مکمل بندوبست کر لیا ہے۔ (جاری ہے)

سول سروس ریفارمز:تباہی پر مہر تصدیق (آخری قسط)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں