وائرس سے جنگ اور اللہ کی ضرورت…(2)

Orya-Maqbool-Jan

اس سے پہلے کہ ہم اس ”نسخہ کیمیا” پر گفتگو کریں جس پر عمل کرنے سے ہماری ذہنی حالت پُرسکون ہو جاتی ہے، ہم خوف و پریشانی کے عالم میں ایک اعلیٰ، ارفع اوراس کائنات کی مالک و مختار ذات پر کامل بھروسہ کر کے اطمینان کی کیفیت میں آجاتے ہیں اور ایسا کرنے سے انسانی جسم میں اہم ترین ”نشریاتی ادارہ” یعنی ”Hypothalamus” مطمئن اور پُرسکون ہوجاتا ہے، بہت سے ضروری ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ وائرس یا ”کرونا وائرس ”کیا چیز ہے۔ آج کی جدید سائنس اپنی تمام تحقیقی کاوشوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ہر قسم کا وائرس، اللہ تبارک و تعالی کی ایک ایسی تخلیق ہے جسے ابھی تک مارنے پر انسان قادر نہیں ہوسکا۔ اس لئے کہ یہ ابتدائی طور پر ہی ایک زندہ چیز نہیں ہوتا۔ اگرچہ وائرس اپنے وجود میں ایک پورا جینیاتی نظام (Genetic system) رکھتا ہے، جسے سائنس کی اصطلاح میں ”ڈی این اے” کہا جاتا ہے۔ ڈی این اے، دنیا کی ہر جاندار اور غیر جاندار مخلوق میں موجود ہوتا ہے۔ انسانی جسم کے ہر چھوٹے سے چھوٹے خلیے میں یہ ڈی این اے موجود ہوتا ہے جوپورے جسمانی نظام کو ایک قائد کے طور پر ہدایات دیتا ہے۔ انہی ہدایات کو ”Genetic instructions” کہا جاتا ہے۔ ہدایات کاایسا ہی مکمل نظام اس چھوٹے سے ”فتنے” وائرس میں بھی موجود ہوتا ہے۔ مگر اس نظام کے باوجود بھی ایک وائرس تنہا خود بخود کچھ نہیں کر سکتا،بلکہ ایک مردہ جسم کی طرح پڑا رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی یہ وائرس کسی جاندار انسان یا حیوان کے خلیے سے ملتا ہے تو پھر یہ اس کے اندر داخل ہو کرزندگی پاتا ہے۔یہ اس خلیے کے ڈی این اے پر غاصبانہ قبضہ کر لیتا ہے اور اس کے جینیاتی ہدایات کے نظام کو ”ہائی جیک” کر لیتا ہے۔ ایسا کرنے کے بعد، وہ انسانی جسم کو اپنی مرضی کی ہدایات دینا شروع کر دیتا ہے۔ یہ خود بھی اس انسانی خلیے کا حصہ بن کر زندگی پاتا ہے اور اپنی مقدار میں بھی اضافہ کرنے لگتا ہے۔ یہ انسانی جسم کے اس خلیے کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس جیسے ہزاروں وائرس تیزرفتاری سے جسم میں پیدا کرے۔ ایک وقت آتا ہے کہ وائرس اپنے اس میزبان خلیے کو بھی مار دیتا ہے اور پھر جسم پر اسی کا مکمل راج شروع ہو جاتا ہے۔ وائرس کو دنیا کی کوئی دوا اس لئے موت نہیں دے سکتی کیونکہ یہ اپنی شکلیں اور ہیئت بدلتا رہتا ہے۔ اسے صرف ایسے محدود کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک جگہ دبک کر بیٹھ جائے، خوابیدہ (Dormant) ہو جائے۔ اسکی اس حالت کو میڈیکل کی زبان میں مخفی ہونا یا چھپنا کہتے ہیں اور اس کے لئے لفظ ”Virus Latency” استعمال ہوتا ہے۔ وائرس جب خود پرانسان کے مدافعاتی نظام کی طرف سے شدید حملہ محسوس کرتا ہے تووہ اپنے آپ کو خوابیدہ کر لیتا ہے اور جیسے ہی انسانی ذہن یا جسم کمزور پڑتا ہے تو یہ جاگتا ہے اور اپنے تخریبی کام میں دوبارہ لگ جاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے ہر وائرس کی زندگی کی ایک مدت (Life cycle) مقرر کیا ہے اور اس کے مکمل ہوتے ہی اسے خودبخود موت آجاتی ہے۔ سائنسدان آج تک وائرس کے آغاز سے بھی آشنا نہیں ہو سکے۔ ایک مفروضہ یہ ہے کہ جب سے اس کائنات میں زندگی شروع ہوئی ہے، وائرس بھی اسی وقت سے ساتھ ساتھ ہی پیدا ہوگیا تھا۔ اس کے بارے میں تحقیق اس لیے بھی آگے نہیں بڑھ پائی کیونکہ جیسے ہی یہ اپنی زندگی پوری کرتا ہے تو اس کا وجود مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ یہ اپنا کوئی نام و نشان نہیں چھوڑتا۔ اجسام اپنی موت کے بعد اگر زمین کے اندر دفن ہوجائیں تو صدیاں گزرنے کے بعد ایک پتھر کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ ان پتھروں میں ڈھلے اجسام کو (Fossils) کہا جاتا ہے۔ان fossilسے سائنس یہ معلوم کر لیتی ہے کہ یہ انسان یا جانور کیسا تھا، کیسی زندگی گزارتا تھا اور اس کی موت کی وجہ کیا تھی۔ اس کے تمام خلیے، جرثومے پتھر پر نقش ہو گئے ہوتے ہیں۔ سائنس بڑے بڑے جانوروں اور قدیم انسانوں کی خصوصیات انہی پتھروں میں ڈھلے اجسام کے سائنسی مطالعے سے معلوم کرتی ہے۔ لیکن وائرس ایک ایسی تخلیق ہے کہ جب یہ مرتا ہے اس کا کوئی ”Fossil” نہیں بنتا۔ یہ اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے، جس کی گتھی کو آج تک انسان سلجھا نہیں سکا۔ وائرس کو ڈرادھمکاکر اس کو اتنا محدود کرنا کہ وہ دبک کر بیٹھ جائے، یہ بھی بنیادی طور پر کسی دوا یا ویکسین سے نہیں ہوتا۔ آدمی دوا یا ویکسین استعمال نہ بھی کرے تو اللہ تبارک و تعالی نے انسانی جسم کے اندر ایک پوری فوج تیار کر رکھی ہے جو مسلسل ہر بیماری سے لڑتی رہتی ہے اور ہر حملہ آور وجود کو ختم کرتی ہے، اسے مدافعاتی نظام (Immune system) کہتے ہیں۔ اکثر وائرس مثلا نزلہ، زکام وغیرہ اسی مدافعاتی نظام کی فوج کے ہاتھوں شکست کھا کر دبک کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر اپنی زندگی کی مدت پوری کرنے کے بعد مر جاتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے طاقتور وائرس ایسیہوتے ہیں کہ جب وہ جسم کے خلیوں میں داخل ہو کر اس کے ڈی این اے پر قبضہ کرلیتے ہیں تو پھر یہ اس تیزی سے بڑھتے ہیں کہ مدافعاتی نظام کی افواج پسپا ہونے لگتی ہیں اور ایک دن وائرس انہیں مکمل طور پر شکست دے کر آدمی یا جانور کو موت کی آغوش میں لیجاتا ہے۔’’کرونا وائرس ‘‘بھی ایسی ہی ایک خطرناک عفریت ہے جسے اللہ نے تخلیق کیا ہے۔اس طرح کے خطرناک وائرس کا علاج جس ویکسین سے کیا جاسکتا ہے، وہ بھی کوئی دوا نہیں ہوتی۔ ویکسین کے ذریعے دراصل جسمانی نظام میں ایک وائرس کی طرح کامواد داخل کیا جاتا ہے تاکہ وہ آدمی کے مدافعاتی نظام کو بے وقوف بنائے اور مدافعاتی نظام یہ سمجھنے لگے کہ جسم پر کسی وائرس نے حملہ کر دیا ہے۔ جب وہ ایسا محسوس کرنے لگتا ہے تو مدافعاتی نظام ایک دم قوت پکڑ کر اس پر حملہ آور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ جو ویکسین جتنا زیادہ مدافعتی نظام کو طاقتور بناتی ہے اتنی ہی کامیاب ہوتی ہے۔ ہر وائرس سے لڑنے کے لیے علیحدہ طاقت اور علیحدہ جنگی حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے ہر وائرس سے لڑنے کے لئے مدافعاتی نظام کو تیار کرنے کیلئے بھی علیحدہ قسم کی ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے۔ابھی تک انسان کوئی ایسی ویکسین تیار نہیں کر سکا،جو انسان کے مدافعتی نظام کو ’’کرونا وائرس ‘‘سے لڑنے اور اس پر فتح حاصل کرنے کے قابل بنا سکے۔ طبی سائنس اس بات پر متفق ہے کہ بے بسی کے ان لمحوں میں انسان کے مدافعاتی نظام کو صرف ایک ہی چیز طاقتور بنا سکتی ہے، اسے لڑنے کے لیے تیار کر سکتی ہے، جنگ کے میدان میں اتار سکتی ہے اور وہ ہے ایک ناقابل تسخیر ذاتِ خداوندی پربھروسہ۔کسی ایسی قادر مقتدر اعلیٰ ہستی کی طاقت و قوت پر ایمان و یقین اور بھروسہ ہی ہے جو انسان کومکمل صحت مند کر سکتا ہے، اسے موت سے بچا سکتا ہے، اس کے دشمن کو نیست و نابود کر سکتا ہے۔میرے اللہ کی ذات جس پر یقین ،انسان کو ایسی قوت عطاء کرتا ہے جو انسانی جسم کے مدافعاتی نظام کی فوج کو ایک نئے حوصلہ و توانائی کے ساتھ تیار کرتی ہے۔ایسا حوصلہ دنیا کی کوئی بھی ویکسین نہیں دے سکتی۔ ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ اگراللہ پر یقین سے ملنے والی توانائی نہ میسر ہو توانسان کی تیار کردہ ویکسین بھی صحیح طور پر کارگر نہیں ہوتی۔ یہ حوصلہ اور توانائی صرف اور صرف دعا سے حاصل ہوتی ہے۔ دعا ہی وہ ہتھیار ہے جو انسان کو ایک عظیم اور برتر و بالا ذات کا آسرا اور سہارا عطا کرتا ہے اور آدمی کا مدافعاتی نظام وائرس سے ایک نئے حوصلہ کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے یہاں تک کہ اسے بالآخر شکست دے دیتا ہے۔ (ختم شد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں