کورونا کے خلاف بہترین دفاع باہمی تعاون ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کا کہنا ہے کہ کورونا کے خلاف بہترین دفاع آئسولیشن سے زیادہ باہمی تعاون ہے۔

میڈیا بریفنگ کے دوران میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ‘آج کورونا وائرس نے پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، حتیٰ کہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں، 23 مارچ 1940 قیام پاکستان مقصد تھا منزل تھی، اب ایک مرتبہ پھر ہمیں محفوظ پاکستان کے لیے یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت کورونا وائرس کا چیلنج درپیش ہے، یہ حقیقت ہے کہ چیلنجز کا سامنا کرکے ہی قومیں آگے بڑھتی ہیں، ان حالات میں عوام کا ریاست پر بھرپور اعتماد ہی اس صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘افواج پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور اس سلسلے میں ہر کوشش اور تمام وسائل بروئے کار لائیں گے، کل شام ایک خصوصی کور کمانڈر کانفرنس میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان کی سول اداروں کی امداد کے لیے تیاری اور لائن آف ایکشن کا جائزہ لیا گیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت افواج پاکستان کو مدد کے لیے طلب کر لیا ہے، پاکستان آرمی کی لائن آف کنٹرول اور مغربی سرحد پر بھاری نفری کی تعیناتی کے باوجود آرمی چیف نے تمام دستیاب نفری اور افواج پاکستان کے تمام دستیاب طبی وسائل کو ضرورت کے مطابق تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں’۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ‘وفاق اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات کے تحت صرف ہسپتالوں، کھانے پینے کا سامان فروخت کرنے والی دکانیں، کھانے پینے اور طبی سامان تیار کرنے والی فیکٹریاں اور میڈیکل اسٹورز کھولے جاسکیں گے، تمام اسکولز، ریسٹورنٹس، سنیما، شادی ہالز، سوئمنگ پولز بند رہیں گے، ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہوگی، انٹرسٹی ٹرانسپورٹ صرف فوڈ سپلائی چین کے لیے استعمال ہوگی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘شہروں کے اندر ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی، تمام ایئرپورٹس بین الاقوامی پروازوں کے لیے 4 اپریل تک بند رہیں گے، پیٹرول پمپس اور منڈیاں صوبائی حکومتوں کے نوٹی فکیشنز کے مطابق کھل سکیں گی، اس حوالے سے صوبائی حکومتیں اپنے اپنے صوبوں میں مزید گائیڈ لائنز جاری کریں گی جنہیں سول اداروں کے ساتھ مل کر یقینی بنایا جائے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حفاظتی اقدامات کے تحت تمام سرحدوں کو بند کر دیا گیا ہے لیکن اصل بارڈر انسان اور کورونا وائرس کے درمیان ہے جس پر ہم نے قابو پانا ہے، یہ انفرادی، خاندانی، برادری اور معاشرے کے طور پر مشکل اور سخت فیصلے کرنے کا وقت ہے، انفرادی نظم و ضبط اور باہمی تعاون تمام اداروں کی کوششوں کو کامیاب کرے گا۔’

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ‘کورونا وائرس کے خلاف بہترین دفاع آئسولیشن سے بھی زیادہ باہمی تعاون ہے، یہ چیلنج بہت بڑا اور مشکل ہے لیکن دنیا نے 2005 کے زلزلے، 2010 کے سیلاب اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس قوم کے عزم و ہمت کو بخوبی دیکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ چیلنج نے ایک بار پھر قومی طاقت و حوصلے کو آزمایا ہے لیکن اس بار خطرہ بلکل مختلف نوعیت کا ہے جو پہلے ہم نے اپنی زندگیوں میں نہیں دیکھا، تاہم اس خطرے پر قابو پانے کے لیے افواجِ پاکستان قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘دنیا کی بہترین پریکٹسز کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی نقل و حرکت کو محدود رکھنا ہی وائرس کے خلاف مؤثر ترین بچاؤ ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسکریننگ اور ٹیسٹنگ بھی بہت اہم ہیں، اس سلسلے میں افواجِ پاکستان دیگر اداروں کے ساتھ مل کر تمام داخلی پوائنٹس پر اس طریقہ کار کو یقینی بنا رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ بہادر اور غیور پاکستانی قوم ایک مرتبہ پھر افواجِ پاکستان کے ساتھ مل کر اس چیلنج کو بھی عبور کر لیں گے، آرمی چیف نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ، بریگیڈیئرز سے لیفٹیننٹ جنرل تک 3 دن، کرنل تک کے عہدے کے افسران نے 2 دن اور سولجرز اور جے سی اوز نے اپنی ایک، ایک دن کی تنخواہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے ایمرجنسی فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا ہے’۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ‘آج کا دن کشمیری بہن بھائیوں کو یاد کرنے کا دن ہے، وہ بدترین ریاستی دہشت گردی اور اس قدرتی آفت میں بھی بے یارومددگار ہونے کے باوجود اپنے حق خود ارادیت کے لیے مزاحمت کی مثال بنے ہوئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام اس جدوجہد میں ضرور کامیاب ہوں گے’۔

واضح رہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے اسلام آباد اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کی انتظامیہ کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے فوج کی تعیناتی کی درخواست کی منظوری دی تھی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پاک فوج کے دستے تعینات ہوں گے جس کے لیے سول انتظامیہ نے درخواست کی تھی۔

نوٹی فکیشن میں واضح کیا گیا کہ پاک فوج کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت طلب کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں