Orya-Maqbool-Jan

فلسفہء عذاب اور سنت الٰہی

ایک زمانہ تھا کہ اگر کہیں کوئی آفت، مصیبت، پریشانی یا بیماری آتی،تو لوگ اپنے اندر جھانکتے،کہ کہیں ان سے کوئی خطا تو سرزد نہیں ہو گئی، کسی قسم کا ظلم یا زیادتی تو نہیں ہوئی، کسی کا حق تو وہ غصب نہیں کیا کہ، آج جس کی وجہ سے ہم پریہ مصیبت نازل ہوئی ہے۔ لوگوں کے دلوں میں یہ تصورپختہ تھا کہ مظلوموں کی فریاد، بستیوں پر عذاب نازل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 1973ء میں پاکستان میں شدید سیلاب آیا تو اس دور کا خوبصورت شاعرعدیم ہاشمی جو بہت حد تک کیمونسٹ خیالات کا حامی تھا وہ بھی یوں پکار اٹھااور اسکا یہ شعر زبان زد عام ہو گیا انسان کی آنکھ خشک تھی، انسان کے ظلم پر اب جو پہاڑ روئے تو سیلاب آگیا بستیوں پر آفت و مصیبت اور بیماری و پریشانی کے نزول کے پیچھے اللہ تبارک و تعالیٰ کاایک خاص مقصد چھپا ہوتا ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ لوگ جو خوابِ غفلت میں مست ہیں، انہیں جھنجھوڑا جائے،تاکہ وہ اللہ کی جانب واپس لوٹ آئیں، اپنے اندر جھانکیں، اپنے گناہوں کا احساس کریں اور اللہ سے معافی طلب کریں۔ ہر عذاب، مصیبت، پریشانی یا آفت دراصل اسی لیے آتی ہے کہ آخرت کے عذاب کی جانب تیزی سے گامزن، غافل انسانوں کو جھنجھوڑا جائے۔ بالکل ویسے ہی، جیسے کوئی تیز رفتاری سے کسی ایسی ڈھلوان پر پھسلتا جارہا ہو جس کے آخر میں ایسی گہری کھائی ہو جس میں وہ اچانک دھڑام سے گرجائے گا، تو اس کے خیرخواہ زبردستی پکڑ کر اسے روک دیتے ہیں۔بے شک ایسا کرتے ہوئے انہیں اس شخص کی ناراضگی ہی کیوں نہ مول لینی پڑے۔ وہ باز نہیں آتے۔ اللہ چونکہ اپنے بندوں پر ازحدمہربان ہے، اسی لیے جب وہ دیکھتا ہے کہ مخلوق کا ایک بہت بڑا حصہ، غفلت میں ڈوبا ہوا ہے اور تیزی سے جہنم کی جانب بڑھ رہا ہے،تو وہ انہیں خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے آفت، مصیبت، پریشانی اور عذاب نازل کر کے جھنجھوڑتا ہے۔ اللہ اپنی اس سنت کو قرآن پاک میں یوں بیان فرماتا ہے، ” اور ہم انہیں لازماً مزا چکھائیں گے، چھوٹے عذاب کا، بڑے عذاب سے پہلے، شاید کہ یہ رجوع کرلیں (السجدہ:21)۔ عموماً یہ سوال کیا جاتا ہے کہ جن بستیوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوا، کیا وہ ساری کی ساری واقعی عذاب کی مستحق ہوتی ہیں۔ ان میں تو معصوم بچے اور نیک لوگ بھی شامل ہوتے ہیں، تو پھر سب کو ایک ساتھ ہی نیست و نابود کیوں کیا جاتا ہے۔ یہ تصور ہمارے ذہنوں میں اس لیے جنم لیتا ہے، کیونکہ ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی صرف یہی ساٹھ یا ستر سالہ زندگی ہی ہے،جس میں جزا اور سزا سب ہو جائے گی۔ نہ پہلے کچھ تھا اور نہ بعد میں کچھ ہوگا۔ اسی لیے ہم زلزلے، بیماری اور طاعون وغیرہ میں موت کو اللہ کا آخری فیصلہ قرار دے کر یہ سوال کرتے ہیں کہ اللہ نیک و بد سب کو ایک طرح کیوں ہلاک کرتا ہے۔ مگر اللہ نے توان آفتوں کو نازل کرنے کا مقصد یہ بیان کیا ہے کہ وہ لوگوں کو جنجھوڑ کر آخرت کے خوفناک عذاب سے بچالے۔ اگرآخری فیصلہ اسی دنیا میں ہی ہوجانا ہے تو پھر اللہ کو جھنجوڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ بے شمار لوگوں کے مظالم اس قدر شدید ہوتے ہیں کہ ان کی سزا اس دنیا میں ممکن ہی نہیں ہے۔ سیلاب آیا،چند ڈبکیاں کھائیں اور مر گئے، زلزلے میں عمارت گری، دب کر ہلاک ہو گئے۔ ایسے میں کیا کئی سو لوگوں کو قتل کرنے والے، ہزاروں افراد کا حق مارنے والے، لاتعداد عورتوں کو زبردستی جنسی تشدد کرکے مارنے والوں کی سزا بھی پوری ہوگئی؟ اگر دنیا کے عذاب ہی نے فیصلہ کرنا ہے تو پھر ایک ظالم کی موت اور ایک پارسا اور نیک کی موت میں تو کوئی فرق ہی نہ ہوا۔ دونوں نے چند لمحوں کی اذیت حاصل کی، دونوں چند ماہ بیمار رہے، دونوں ڈوب کر مر گئے۔معاملہ ختم۔اللہ کا انصاف ایسا نہیں اور اسکے ہاں جزا و سزا کا ایک دن مقرر ہے جسے آخرت کہتے ہیں۔زلزلے یا سیلاب اور آفت و بیماری میں مرنے والے بھی اور ان آفتوں سے زندہ بچ نکلنے والے بھی ایک ساتھ روز حشر اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ آفتوں کے نتیجے میں جو نیک، پارساافراد اور معصوم بچے مرے ہوں گے وہ جنت کے مستحق ٹھہرئیں گے اور جو ظالم ہوں گے، ان کے لئے آخرت کا درد ناک عذاب منتظر ہو گا۔ اللہ تعالی دنیا کے عذاب کو کسی صورت بھی جزا و سزا کا فیصلہ نہیں بتاتا، بلکہ اپنی ناراضگی کا اظہار یا پھر لوگوں کو موت سے پہلے خواب غفلت سے نکالنے کا ایک ذریعہ بتاتا ہے۔ اسی لیے جب وہ کسی بستی پر عذاب نازل کرتا ہے تو ہر خاص و عام پر ایک ساتھ کرتا ہے۔اس لئے اللہ فرماتا ہے ” اور ڈرو اس وبال سے جو تم میں سے صرف ان لوگوں پر نہیں پڑے گا، جنہوں نے ظلم کیا ہوگا (الانفال:28)۔ اس دنیاوی عذاب کے وقت بھی اللہ مرتے وقت جسے چاہتا ہے استغفار کی توفیق دے دیتا ہے اور اگر وہ سمجھے کہ فلاں شخص کے ظلم بے شمار ہیں تو اسے عذاب کے وقت بھی استغفار کی توفیق عطا نہیں کرتا۔ اسی لئے پوری امت کے علما و فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ اگر آفت اور پریشانی میں لوگ اللہ کی طرف رجوع کرلیں تو یہ آزمائش ہے، لیکن اگر وہ اللہ کی ذات سے منہ پھیر کر اپنی اکڑ اور طرم خانی دکھانے لگیں تو یہ عذاب ہے۔ اللہ کے ہاں موت دراصل اس کے ایک جہان سے دوسرے جہان منتقلی کا نام ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے آپ ایک بچے کو گھر میں کھیلنے کے کمرے میں کچھ دیر کیلئے چھوڑیں اور پھر اسے واپس سونے کے کمرے میں لے جائیں تو آپ کو ہر گز پریشانی نہیں ہوگی۔ کیونکہ بچہ تو آپ کی نظروں کے سامنے ہی ہے۔ اسی طرح اللہ کوبھی زلزلوں سیلابوں اور بیماریوں میں مرنے والوں کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ اسی کے پاس ہوتے ہیں، اسی کی نظروں کے سامنے، بس ایک کمرے (دنیا) سے ہے دوسرے کمرے (برزخ) میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ دراصل انسان اپنی کم عقلی اور یقین کی کمی کی وجہ سے پریشان ہوتا ہے، سمجھتا ہے کہ اللہ نے لوگوں کو مار کر ظلم کیا ہے۔مگرجو آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہ مرنے والے کو رخصت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جلد ہم تم سے ملنے والے ہیں۔ عموما انسانی بستیاں جب صورت عذاب برباد ہوتی ہیں اس کے پیچھے اللہ تبارک وتعالی کی ایک سنت یہ کارفرما ہوتی ہے کہ لوگ اس مختصر سے عذاب کو دیکھ کر عبرت پکڑیں۔ جبکہ اس کے علاوہ بھی اللہ نے گذشتہ امتوں پر بحیثیت مجموعی بھی عذاب نازل کئے اور انہیں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹادیا اور ان جگہوں کو آج تک عبرت کے طور پر محفوظ ررکھا ہوا ہے۔ قرآن پاک میں تین مقامات پر دنیا میں سیر و سیاحت کا ایک مقصد بتایا گیا ہے، فرمایا، ”ان سے کہو، ذرا، زمین میں چل پھر کر دیکھو،جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے” (الانعام:11)، پھر فرمایا ”کہو ذرا روئے زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے(النمل:69)، ایک بار پھر کہا ”اے نبی ان سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہو چکا ہے، ان میں اکثر مشرک تھے (الروم:42)۔ بحیثیت مجموعی پوری کی پوری بستیاں ظالموں اور مجرموں کہ وجہ سے برباد کی گئیں یا وہ بستیاں تباہ کی گئیں جہاں اکثریت مشرکین کی تھی۔ لیکن گذشتہ چودہ سو سال کی تاریخ میں بھی بار بار ایسا ہوا ہے کہ اللہ کا غیظ و غضب کچھ بستیوں پر بری طرح ٹوٹا اور اس نے انہیں برباد کرکے رکھ دیا۔ گذشتہ چند صدیوں کی تاریخ اس پر گواہ ہے۔(کل اس پر گفتگو ہو گی)

اپنا تبصرہ بھیجیں