افغانستان میں طالبان کے دو حملوں میں 19 اہلکار ہلاک

کابل: طالبان جنگجوؤں کے دو حملوں میں افغان فوج کے 19 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دو صوبوں تخار اور زابل میں طالبان جنگجوؤں نے فوجی چیک پوسٹوں پر دھاوا بول دیا جس کے دوران دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے میں مجموعی طور پر 19 اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں حملے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تخار میں 13 اور زابل میں 6 اہلکار ہلاک ہوئے۔ زابل میں حملہ فوج میں موجود طالبان کے ہمدردوں کی مدد سے کیا گیا۔ حملہ آور جاتے ہوئے افغان فوج کا اسلحہ بھی لے گئے اور 4 فوجی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔

دوسری جانب طالبان کی جانب سے ان حملوں پر کسی قسم کا تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے تاہم ان علاقوں میں عملاً طالبان کا تسلط برقرار ہے اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور یہاں کچھ چھوٹے گروہ بھی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

واضح رہے کہ 29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے باوجود تاحال افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکا ہے۔ ایک طرف کابل حکومت اور طالبان کے درمیان اختلافات بڑھتے جارہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی بحران کی وجہ سے بھی انٹرا افغان مذاکرات تعطل کا شکار ہو رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں