Orya-Maqbool-Jan

آمدن سے زیادہ اثاثے

کیا بددیانتی اور کرپشن کے ناسور کا خاتمہ مروجہ جمہوری نظام میں ممکن ہے، جس کی جڑیں استحصال اور بددیانتی سے حاصل کردہ سرمائے سے توانائی لیتی ہوں۔یہ نظام انتہائی خوبصورت اور جاذب نظر بھی ہو جائے تو چہرے پر اگنے والے کیل مہاسوں جیسی کرپشن اور بددیانتی کو دور کرکے خود کو خوبصورت تو بنا لیتا ہے،لیکن اسکا پورا جسم کرپشن اور استحصال کے ناسور کی گلٹیوں سے بھرا ہوتا ہے اور اسکی رگوں میں جو خون دوڑ رہا ہوتا ہے وہ بد دیانتی کے خلیوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ جس نظام کے بنیادی ستون یعنی ممبران اسمبلی اگر دیانت کے ساتھ اپنے الیکشن پر ہونے والے اخراجات کا حساب مرتب کریں تو ان کے پاس موجودہ آمدن کے ذرائع سے ایسے اخراجات کا کوئی جواز موجود نہیں ہوتا،ایسے جمہوری نظام میں آپ کسی بددیانت شخص کا گریبان تھام کر یہ سوال کیسے کر سکتے ہیں کہ تم نے جو ایک کروڑ کی گھڑی باندھی ہوئی ہے، جس تین کروڑ کی گاڑی میں تم اسمبلی آئے ہو، تمہارے بچے جن سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، تمہاری بیوی جس سٹور سے شاپنگ کرتی ہے، تمہارے پاس جو ایکڑوں پر پھیلا ہوا گھر ہے، تم اور تمہارا خاندان ہر سال جو بیرون ملک سفر کرتے ہواور تم بچوں کی شادیوں پر دھوم دھام سے جو اخراجات کرتے ہو،یہ سب تم کہاں، کیسے اور کس طرح سے پورا کرتے ہو۔آپ ہرگز سوال نہیں کر سکتے۔کسی سے بھی نہیں کر سکتے، سیاستدان، جرنیل، صحافی، کسی سے بھی نہیں۔ اگر آپ یہ سوال کریں گے تو وہ منہ پھاڑ کر کہیں گے کہ تم ثابت کرو کہ ہم نے یہ پیسہ کرپشن سے کمایا ہے۔ جیسے ہی کوئی بھی یہ سوال کرے گا،تمام طبقات، برساتی مینڈکوں کی طرح ایک ساتھ یہ راگ الاپنے میں سیاستدانوں کے ہم نوا ہو جائینگے۔ اس قدر تمسخر اور تضحیک سے ہر سیاست دان بلکہ اب تو ہر تجزیہ نگار بھی یہ فقرہ بولتا ہے ”بھلا آمدن سے زائد اثاثے بھی کوئی کیس ہے”۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگرکسی بھی ملک سے بددیانتی اور کرپشن کے ناسور کا خاتمہ کرنا ہے تو صرف یہی ایک کیس ہو سکتا ہے۔ بددیانتی اور کرپشن کے جرم کی واحد ایک نشانی باقی رہتی ہے ورنہ دنیا کے ہر جمہوری نظام پر مسلط کرپشن مافیا اپنی کرپشن کا کوئی نشان تک نہیں چھوڑتا۔ کرپشن یا بد دیانتی ایک انفرادی فعل نہیں ہوتا بلکہ یہ دو یا دو سے زیادہ لوگوں کی ملی بھگت سے وجود میں آتا ہے۔ یہ سب کے سب اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں۔ اسی لئے کوئی بددیانتی اور کرپشن پر گواہی نہیں دیتا۔ اگر کوئی جرآت کرکے یہ کام کر بھی گذرے تو وہ ثبوت فراہم نہیں کر پاتا۔۔ کیا کسی دفتر میں خاموشی سے دی جانے والی رشوت یا بیرون ملک جمع کروائی جانے والی کمیشن کا کوئی ثبوت ہوتا ہے، نہ رسید، نہ تصویر۔ادھر سرمایہ دیا،ادھر غائب۔ اس پورے نظام کو بنایا ہی اس طرح گیا ہے کہ کوئی ڈھونڈے سے بھی بد دیانتی کا سراغ نہ لگاسکے۔ دنیا بھر میں الیکشن جس سرمائے سے لڑے جاتے ہیں اس کا حساب اول تو ناممکن ہے اور اگر لیا بھی جائے تو اس کیلئے ایسے گنجھلک حساب کتاب مرتب کیے جاتے ہیں کہ کوئی ادارہ ڈھونڈ نہیں پاتا کہ اتنا زیادہ سرمایہ آیا کہاں سے اور کیوں فراہم کیا گیا۔ امریکہ کی کسی ایک سیاسی پارٹی کے الیکشن اخراجات عموما چھ ارب ڈالر ہوتے ہیں۔ انہیں اکٹھا کرنے کیلئے سیاستدانوں کو کبھی کوئی تردد نہیں کرنا پڑتا۔ پورے ملک کے کارپوریٹ سرمایہ کاروں نے اپنی آمدن کا پول بنا رکھا ہے جس سے ہر سیاسی پارٹی کو مناسب سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے جس سے وہ الیکشن لڑتی ہے۔ یوں کوئی بھی سیاسی پارٹی جیت کر برسر اقتدار آجائے وہ اپنے ڈونرز کے مفادات کا مسلسل تحفظ کرتی ہے۔ بلکہ یہ منتخب حکومتیں یہاں تک چلی جاتی ہیں کہ اگر افریقہ کے ممالک میں سونا چاندی یا لیتھیئم یا مشرق وسطیٰ میں تیل کی تجارت سے انکے ڈونرز نے فائدہ اٹھانا ہیتووہاں فوجیں بھی اتاری جا سکتی ہیں، تاکہ یہ سرمایہ کار کمپنیاں لوٹ مار کریں اوراپنی اس آمدن سے اگلے ا لیکشن کیلئے اس بددیانت نظام کی جڑوں کیلئے اس استحصالی حرام کی کمائی کا گندا پانی مہیا کریں۔ ایسا صرف امریکہ اور یورپ میں نہیں ہندوستان جیسے غریت زدہ معاشرے میں بھی ہوتا ہے اور پاکستان جیسے بے یقین اور ہر دم بدلتے نظام والے ملک میں بھی ہوتا ہے۔ یہاں کا کارپوریٹ سرمایہ دار بھی باہم میل جول سے مذہبی، سیکولر، جمہوری اور فاشسٹ ہر طرح کی سیاسی پارٹی میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ ان کے لیڈروں کے خرچے اٹھاتا ہے، ان کی پارٹی سرگرمیوں کے لیے سرمایہ فراہم کرتا ہے اور ان کے الیکشنوں کی مہمات کو اپنے پیسوں سے رنگین بناتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں تو پھر بھی حساب کتاب برابر کر لیا جاتا ہے۔عوام اور انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے پارٹی اخراجات دکھائے جاتے ہیں۔ لیکن اگر پاکستان میں کسی سیاسی پارٹی کے سال بھر کے اخراجات کی ایماندرانہ فہرست مرتب کی جائے تو اسے اس کا حساب دینا مشکل ہوجائے۔ لیڈروں کے دورے، جلسے، دفاتر، گاڑیاں، دھرنے، بینرز، اشتہارات، ڈنرز اور آخرکار الیکشن کے اخراجات۔یہ اخراجات صرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں تک محدود نہیں بلکہ وکلاء کی بار کے الیکشن کے خرچے بھی اب کروڑوں تک جا پہنچے ہیں۔ نمونے کے طور پر اگر ہر صوبے سے ایک ایم این اے یا ایم پی اے کی سیٹ کے الیکشن کے اخراجات کسی غیر جانبدار اور ایماندار ٹیم سے مرتب کروائے جائیں، جن میں جلسوں ریلیوں کارنر میٹنگوں، پوسٹروں، بینروں، کھانوں، گاڑیوں اور ایسے لاتعداد اخراجات کا حساب ہو تو اس چکاچوند والے الیکشن پر اٹھنے والی رقم کا کوئی امیدوار ایمانداری سے حساب نہیں دے سکے گا۔ البتہ نجی محفلوں میں فخر سے یہ ضرور بتاتا پھرے گا کہ میرے اس الیکشن پر اتنے کروڑ خرچ ہوگئے۔اگر ایسے ایم این اے کا خرچہ کسی شوگرمل، ٹیکسٹائل مل، پراپرٹی ٹائیکون یا سمگلر نے اٹھایا ہے تو کیا وہ کبھی بھی اسمبلی کے ایوانوں میں ان کے جرائم کے خلاف آواز اٹھائے گا۔ اس کی آواز تو پہلے ہی گروی رکھی جاچکی ہوتی ہے۔ یہ صرف پاکستان کا قصہ نہیں ہے، امریکہ کی اس وقت جی ڈی پی 21 ہزار ارب ڈالر ہے جبکہ امریکہ پر قومی قرضہ 19 ہزار ارب ڈالر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکی کمپنیوں نے تقریبا 35 ہزار ارب ڈالر امریکہ سے چھپاکر آف شور کمپنیوں میں رکھا ہوا ہے جس کا وہ اگر ٹیکس ہی ادا کریں تو ڈھائی ہزار ارب ڈالر سالانہ بنتا ہے۔ چونکہ یہ سرمایہ دار الیکشنوں کا خرچہ اٹھاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کبھی کوئی ممبر کانگریس اس سرمائے کی واپسی کے لیے آواز نہیں اٹھاتا۔ یہ ٹیکس چوری کی واردات صرف جمہوری استحصالی نظام میں ہی ممکن ہے۔ کیونکہ اسی چوری سے حاصل کردہ سرمائے سے ہی تو پورا سیاسی نظام چلتا ہے۔ ایران کا اسلامی انقلاب آیا تو ہر گلی کی نکڑ پر میز کرسی لگاکر پاسداران کا ایک شخص بیٹھ گیا اور اس نے وہاں آباد لوگوں سے صرف ایک سوال کیا ” آپ کا جو یہ گھر، جائیداد، کاروبار زیور اور بینک بیلنس ہے، اس کا ذریعہ آمدن بتادو سرمایہ کہاں سے آیا، کیسے کمایا اور کتنا کمایا۔حساب دے دو اور اپنی جائیداد کے ساتھ عمر بھر اطمینان سے رہو”۔ جس شخص کے پاس جواب موجود تھا وہ تو وہاں رہا،اور باقی سب بد دیانتوں کا سرمایہ،سرکار کے پاس ضبط ہوا۔کچھ خانماں برباد ہوئے اور باقی ملک چھوڑ گئے۔خس کم جہاں پاک۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا نے پینتیس سال ایران پر اقتصادی پابندیاں لگایں لیکن اسکے باوجود ایران کی رعایا پر عسرت اور بدحالی کا سایہ نہ پڑ سکا۔ ایک جمہوری نظام میں،جس گلی سے ووٹ لینے ہوں اس کی نکڑ پر ایسی کرسی لگاکر لوگوں سے یہ سوال نہیں پوچھا جاسکتا کہ تم نے دولت کیسے بنائی ہے۔ وہاں صرف ”این آر او ”ہی کیے جاتے ہیں اور سیاستدان منہ پھاڑ کر یہی کہتے ہیں ”آمدن سے زیادہ اثاثے بھی کوئی کیس ہے”۔یہ تو مذاق ہے۔ بتاؤ، ثبوت دو ہم نے کرپشن کہاں کی ہے۔ پورا ملک انکی کرپشن پر گواہ ہوتا ہے کہ تھانے اور پٹوار خانے سے لے کر وزیرو ں کے دفاتر تک کرپشن کا بازار بھی گرم رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں