Orya-Maqbool-Jan

کون ہے جو طاقت میں ہم سے زیادہ ہو

یوں لگتا ہے کہ پوری دنیا قومِ عاد کی بستی میں تبدیل ہوچکی ہے جس پر اللہ نے ایسی خوفناک آندھیاں مسلط کی تھیں جو سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہیں۔ مگر وائرس کی آندھی ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس کا انجام تک معلوم نہیں۔ آج سے صرف ایک ماہ پہلے تک وسیع و عریض امریکہ کے دیہاتی علاقوں، جنگلی اور صحرائی آبادیوں کو اس لیے محفوظ تصور کیا جا رہا تھا کہ وہاں لوگوں کی زندگیاں اپنے علاقوں اور دائروں تک محدود ہیں۔ لاتعداد ایسے امریکی ہیں جنہوں نے عمر بھر کبھی اپنی ریاست کے دارالحکومت کی بھی شکل نہیں دیکھی ہوتی۔ یہ لوگ چند ہفتے پہلے تک گھروں میں سکون سے بیٹھے ٹیلی ویژن پر نیویارک اور شکاگو میں ہونے والی اموات دیکھ رہے تھے اور خود کو محفوظ خیال کر رہے تھے۔ مگر آج یہ اطمنان باقی نہیں رہا۔آج وائرس، اٹھانوے لاکھ چونتیس ہزار مربع میل پر پھیلے امریکہ کے دو تہائی حصے پر اپنے پر پھیلا چکا ہے۔ دیہاتی علاقوں میں دس لوگ اگر اس وائرس کا شکار ہوتے ہیں تو ان میں سے ایک موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی دیہاتی علاقوں میں میڈیکل سہولیات شہروں جیسی تو دور کی بات ہے، مناسب بھی نہیں۔ وہاں ہسپتالوں کی تعداد کم ہے۔ وینٹی لیٹر نہ ہونے کے برابر ہیں اور نرسز کی تعداد بھی محدود ہے۔ بیالیس ریاستوں نے لاک ڈاؤن کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لاکھوں ماسک اور ہزاروں حفاظتی لباسوں کی فوری ضرورت ہے جو اس وقت ہمارے پاس میسر نہیں ہیں۔ آج سے صرف چھ دن قبل امریکہ کے دیہی، جنگلی اور صحرائی علاقوں میں ایک اطمینان تھا کہ ہم تک یہ بلا نہیں پہنچے گی، لیکن آج نیویارک ٹائمز سمیت امریکہ کے ہر بڑے اخبار کی شہ سرخیوں میں یہ خوف نظر آرہا ہے کہ پورا امریکہ اس کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ 31 دسمبر 2019 ء کو چند لوگوں کو لگنے والے اس مرض کا اس وقت 16 لاکھ انسان شکار ہیں اور ایک لاکھ کے قریب اموات ہو چکی ہیں۔ عام انسان تو بے بس ہوتا ہی ہے، طاقتور حکومتیں بے بسی اور لاچاری کی تصویر بنی بیٹھی ہیں۔ سائنسدانوں کی تحقیق دم بخود ہے، کل تک وہ الحاد پرست یا الحاد پسند دانشور، جو نوبل انعام یافتہ سائنسی شخصیات کو ولی، پیر، غوث اور ابدال کہا کرتے تھے، آج ان سب سائنسی پیروں کی ولایت اور تصرفات ایک حقیر سے جرثومہ کے سامنے بے بس ہیں۔ عاد کی بستی پر تو آندھیاںصرف آٹھ دن اور سات راتیں چلنے کے بعد انہیں نشانِ عبرت بنا کر ختم ہو گئیں تھیں، لیکن لگتا ہے کہ وائرس کی یہ خاموش آندھی دیر تک چلے گی، اس لئے کہ یہ اس دنیا کو غرق کرنے کا عذاب نہیں بلکہ اللہ چاہتا ہے کہ ہر متکبر کو ایک دفعہ یہ احساس ضرور دلادے کہ اس کائنات پر موجود سائنس و ٹیکنالوجی کے نشے میں دھت انسان سے بڑی طاقت بھی موجود ہے۔ آج انسان اپنے تکبر کی سزا بھگت رہا ہے اللہ نے قرآن پاک میں عاد پر عذاب کی وجہ بھی یہی بیان کی ہے، ” جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ کون ہے جو طاقت میں ہم سے زیادہ ہو، کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتوں (نشانیوں) کا انکار کرتے رہے (حٰم السجدہ:15)۔ ”استکبار”، ”تکبر”، ”انسان عظیم ہے”، یہ ہے وہ جرم جو اللہ کے غیض و غضب کو دعوت دیتا ہے۔ جب انسان بحیثیت مجموعی تکبر کرنے لگتا ہے اور معاشرے انسانی بالادستی پر استوار ہو جاتے ہیں تو وہ اللہ عاد و ثمود کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے، ” اور شیطان نے ان کے اعمال کو خوشنما بنا کر انہیں راہ راست سے روک دیا تھا، حالانکہ وہ سوجھ بوجھ کے لوگ تھے (العنکبوت:38)۔ شیطان، انسانوں کے اعمال اسطرح خوبصورت بناتا ہے کہ وہ ان کے دلوں میں یہ ڈال دیتا ہے کہ انہوں نے اپنے اردگرد جو دنیا آباد کر رکھی ہے وہ کس قدر خوبصورت، جاذب نظر اور دلکش ہے۔ اس میں زندگی کی حرارت ہے، عیش وعشرت ہے، لہو و لعب ہے، بالکل ایسے ہی اس نے عاد کی قوم کے دل میں ڈالا کہ وہ بھی اس طرح کی جنت زمین پر بنا سکتے ہیں جیسی جنّت کا نقشہ حضرت ہود علیہ السلام بتاتے ہیں۔ جنت تعمیر ہو گئی جو بے مثال خوبصورت تھی۔ لیکن اللہ نے شداد کو جنت میں داخل ہونے کی مہلت نہ دی اور عین دروازے پر اس کی روح قبض کرلی۔ قوم عاد اس نشانی پر بھی نہ سنبھلی کیونکہ انہیں اپنے اقتدار، فنون اور طاقت و قوت پر بہت غرور تھا۔ اللہ ایسی تمام اقوام کے بارے میں ایک مثال دیتا ہے، ” ان کی مثال مکڑی کی سی ہے جس نے کوئی گھر بنا لیا ہو، اور کھلی بات ہے کہ تمام گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے (العنکبوت:41)۔ آج پوری دنیا مکڑی کا گھر معلوم ہورہی ہے۔ انسان نے اپنے اردگرد جو کچھ تعمیر کیا تھا آج وہ خود اس سے لطف اندوز ہونے کے قابل بھی نہیں ہے۔ وہ بڑے بڑے عشرت کدے کہ جن میں لاکھوں لوگوں کے میوزک کنسرٹ ہوا کرتے تھے، وہ بازار جہاں انسانی طلب کی ہر چیز میسر تھی، سیروتفریح کے وہ دلکش مقامات جہاں لوگوں کا ہجوم امڈا رہتا تھا، ویران ہیں اس مکڑی کے گھر کی تمام زیبائش و آرائش اور تمام عیش و عشرت سے خود اس کو تخلیق کرنے والا انسان خوفزدہ ہے۔ اسے اپنی ہی بنائی ہوئی چیزوں سے خوف آرہا ہے۔ لیکن ان تمام نشانیوں کے باوجود آج بھی وہ لوگ کہ اللہ نے جن کے دلوں پر مہریں لگا رکھی ہیں، ماننے کو تیار نہیں۔ آج کا ملحد بھی اللہ کو اس لیے نہیں مانتا کہ اسے یقین نہیں ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے۔ اسے اندازہ ہے کہ اسقدر منظم نظام کائنات کے خالق کا انکار نہیں ہو سکتا۔ یہ وجہ ہے کہ آج کا دانشور جب وائرس کا تذکرہ کرتا ہے تو ایک نام گھڑتا ہے،۔ ماں فطرت (Mother Nature)اور خود کو تسلی دینے کے لئے دلیل یہ دیتا ہے کہ چونکہ انسان نے اس زمین پر بہت گندگی پھیلا دی تھی، اوزون کی سطح میں سوراخ ہو گیاتھا، جنگل اجڑ گئے تھے، سمندری حیات اور جانور مرتے جا رہے تھے اس لئے اس ماں فطرت (Mother Nature) نے انتقام لیا ہے۔دیکھوسب شورشرابا ختم ہے، آسمان صاف ہو گیا ہے، پرندے چہچہا رہے ہیں۔ جنگلی جانور شہروں میں بلا خوف و خطر آرہے ہیں۔ انسان ”ماں فطرت” کی طرف واپس لوٹ رہا ہے۔ لیکن ملحد نما دانشوروں کی تخلیق کردہ اس ”ماں فطرت”کا کمال یہ ہے کہ یہ انسانوں کے انسانوں پر ظلم پر تو خاموش رہتی ہے لیکن درختوں اور جانوروں پر ظلم پر اسقدر غصے میں آتی ہے کہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔دراصل یہ انسان کا تکبرہے کہ وہ کسی ایسی ہستی کو ماننے کو تیار نہیں ہوتا جو اس کی زندگی میں دخل دے۔ انسان اس قدر خود سر اور متکبر ہے کہ وہ خدا کوتو مانتا ہے لیکن کسی ایسے خدا کو ماننے سے انکار کرتا ہے جو اس کی زندگی کو حدود و قیود کا پابند کرے،جو اسے زندگی گذارنے کیلئے ایک طرز زندگی (Lifestyle) اور قوانین عطا کرے۔ ہر ملحد دل سے اللہ کو مانتا ہے، لیکن اللہ کو اپنی زندگی پر حاکمیت کی اجازت نہیں دینا چاہتا۔ الحاد کا یہ روپ آپ کو سیکولر لبرل لوگوں میں بھی نظر آئیگا اور جدیدیت پسند مذہبی سکالرز میں بھی۔ ان سب کے نزدیک اللہ مالک و مختار ہے لیکن پارلیمنٹ سپریم ہے، نظم اجتماعی بالا ہے۔ یہ لوگ شرک کی بدترین صورت میں گرفتار ہیں۔اللہ ان کے بارے میں فرماتا ہے۔ کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور باوجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراہ کر دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے۔اب ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت دے سکتا ہے (الفرقان:43)۔ اس وقت سات ارب کی دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو اللہ سے ہدایت طلب کر رہے ہیں۔اللہ تو مانگنے والے کو ہدایت دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں