علامہ سعید اظہر۔کیا کیا ہمیں یاد آیا

حسن نثار صاحب کی محبتوں اور عنایات میں سے ایک علامہ مولوی سعید اظہر سے ملاقات اور تعارف ہے، آگے دلوں میں اترنے کا جادوتو اس کے پاس ایسا تھا کہ گیا ہے تو یوں لگتا ہے دل کے مکان کا وہ کونہ ہی خالی ہوگیا ہے، بقول غالب، ” ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے۔ سعیدِ اظہر ایسا ہی تھا، اسی مصرے کے مصداق۔ ایسا گرم جوش کہ بلا کی حرارت سینے میں چھپائے بیٹھا اور ایسا نرم خو کہ جس سے محبت کرے اس کا نام لیتے ہی آنکھوں میں آنسو چھلک پڑیں۔ وہ جب بھی ملتا اس کا چہرہ اس کے دل کی چغلی کھاتا۔ اسی کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک ہلکی سی نمی رہتی جو آنسو بن کر کبھی مسکراہٹ کے وقت نکلتی یا جب وہ جذباتی لہجے میں کسی سے درمندانہ اپیل کر رہا ہوتا۔ میری اس سے پہلی ملاقات اسی کیفیت میں ہوئی تھی۔ یہ مشرف کا وہ دور تھا جب نواز شریف پر ہائی جیکنگ کا مقدمہ چل رہا تھا۔ حسن نثار صاحب نے اپنی مخصوص ترنگ میں ایک کالم لکھ ڈالا جس کا عنوان تھا ” نواز شریف کے یحییٰ بختیار”۔ کالم بے ضرر سا تھا مگر اس عنوان نے ایک مقدمے کی یاد یحییٰ بختیار صاحب کے ہاں زندہ کردی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد وکلاء کا ایک طبقہ ایسا تھا جو سمجھتا تھا کہ بھٹو کا کیس مہارت سے نہیں لڑا گیا اور اس کے وکلاء ہی نے بھٹو کو پھانسی کے تختے پر پہنچایا ہے۔ اس بحث کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے سابق جسٹس شیخ شوکت علی نے ایک انٹرویو دیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختے تک پہنچانے میں ان کے وکیل یحییٰ بختیار کا بہت ہاتھ ہے۔ اس انٹرویو کو ادیب جاودانی مرحوم نے اپنے مشہور چٹ پٹے رسالے مون ڈائجسٹ میں شائع کیا اور ان کے شکریے کے ساتھ جنگ کے سارے ایڈیشنوں میں چھپا۔ یحییٰ بختیار صاحب نے میر خلیل الرحمن مرحوم، جسٹس شیخ شوکت علی اور ادیب جادوانی پر اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ کی عدالت میں زیر دفعہ502/501 تعزیرات پاکستان، ہتک عزت کا مقدمہ کردیا۔ اس دفعہ کے تحت مجرم کو جرمانہ یا تاوان نہیں ہوتا بلکہ چھ ماہ قید ہوتی ہے۔ مقدمہ کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ تک گئیں لیکن آخرکار فیصلہ یہی ہوا کہ، چونکہ یہ ایک فوجداری مقدمہ ہے، اس لیے اس کی سماعت بنیادی عدالت یعنی سب ڈویژنل مجسٹریٹ کوئٹہ کے پاس ہو گئی۔ یہ اپریل 1988ء کا واقعہ ہے کہ جب یہ مقدمہ کوئٹہ آیا اور اس وقت میں اسسٹنٹ کمشنر و سب ڈویژنل مجسٹریٹ کوئٹہ تھا۔ ابھی دو ایک پیشیاں ہی ہوئی تھیں کہ ضیاء الحق کی 17اگست 1988ء کو شہادت ہوگئی۔ یحییٰ بختیار الیکشن میں امیدوار بن گئے اور پھر وہ ہوا جو سارے مقدموں کے ساتھ ہوتا ہے، تاریخوں پر تاریخیں پڑنے لگیں۔ اس مقدمے کی دستاویزات میں 30 صفحات پر مشتمل ذوالفقار علی بھٹو کی ایک تحریر بھی تھی جسے یحییٰ بختیار صاحب نے ان پر بھٹو کے اعتماد کے ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس تحریر کا تھا بھٹو صاحب نے خود لکھا تھا ”Rope Round Yayha Bukhtiar”۔ یہ تحریر ان کی پھانسی کے چند دن پہلے کی تھی، جس پر غالباً انہوں نے دستخط کے ساتھ 29 مارچ 1979ء لکھا تھا۔ تحریر سے پریشانی اور اضطراب نمایاں آتی تھی، کہ اس میں بار بار کتر بیونت کی گئی تھی اور بہت کچھ مارجن میں بھی لکھ کر لائن سے اشارہ کیا گیا تھا کہ یہاں لکھ دیا جائے۔ یہ ایک بلا کی تحریر تھی۔ اسے وہاں سے حاصل کرکے یا یحییٰ بختیار کے اہل خانہ سے لے کر شائع کرنا چاہیے۔ اس مقدمے نے کوئٹہ شہر میں کئی ماہ رونق لگائے رکھی۔ جس دن تاریخ ہوتی اس دن میر خلیل الرحمن، ان کے دونوں صاحبزادے شکیل الرحمٰن اور جاوید الرحمن، جسٹس شیخ شوکت علی اور بیچارہ ادیب جادوانی دو تین دن کے لئے کوئٹہ کے اسیر ہوتے۔ کیونکہ کوئٹہ کے لیے تو آج بھی روزانہ فلائٹس نہیں ہیں، اس وقت تو حالت اور بھی پتلی تھی۔ ایسی ہی رونق دوبارہ حسن نثار صاحب کے کالم لکھنے کے بعد لگی جب یحییٰ بختیار صاحب نے ایک دم بھڑک کر میر شکیل الرحمن مرحوم جاوید الرحمن اور حسن نثار پر ویسا ہی فوجداری مقدمہ داغ دیا۔ میں اس وقت جنگ میں کالم لکھتا تھا اور نوکری کے حساب سے نیپا کا ڈائریکٹر تھا۔ لیکن پرانے مقدمے کے تجربے اور یحیی بختیار صاحب کی مزاج شناسی کے لئے مجھ سے مشورے چلنا شروع ہو گئے۔ میر شکیل الرحمٰن اور میر جاوید الرحمٰن سرینا ہوٹل میں ٹھکانہ کرتے، شکیل الرحمٰن جیو میں منہمک رہتے کہ ابھی اسے شروع ہوئے چند روز ہی ہوئے تھے اور میر جاوید الرحمن کمرے میں فیشن ٹی وی لگا کر اخبار جہاں میں شائع ہونے والی ماڈلوں اور عالمی ماڈلوں کا موازنہ کرتے رہتے۔ دونوں کے کمروں میں جا کر بیٹھنے کی اپنی اپنی لذت تھی۔ لیکن ان دونوں سے مختلف ایک ڈیرہ اور آباد ہوجاتا تھا اور وہ تھا حسن نثار صاحب کا ڈیرہ۔ اس کے ٹھکانے بدلتے رہتے اور میزبان بھی۔ کبھی” لورڈز” ہوٹل میں ان کے کمرے میں، تو کبھی مشرق اخبار کے مالک ممتاز شاہ صاحب کے ہاں۔ حسن نثار صاحب میں ایک بلا کی عادتِ شاہانہ ہے کہ تنہا سفر کم ہی کرتے ہیں۔ کبھی کبھی امیرالعظیم ان کے ساتھ کوئٹہ آتے اور کبھی کوئی اور۔ لیکن ایک دن حسن نثار صاحب کے ہم سفروں میں علامہ مولوی سعید اظہر بھی آگیا۔ یوں تو وہ کوئٹہ کو حیرت سے دیکھنے آیا تھا لیکن بقول حسن نثار یہ لاہور سے تجھے ملنے کی ٹھان کر آیا ہے اور اب اس کے وار سے تو خود ہی بچے گا۔ امریکہ افغانستان میں داخل ہو چکا تھا، طالبان کی جنگ جاری تھی، مشرف کی امریکہ نواز پالیسی چل رہی تھی اور میرے کالم بھی اپنی جولانی پر تھے۔ ہر چھ ماہ بعد مجھ پر ایک حکومتی انکوائری ہوتی، پھرسرکار والے مجھے خبطی اور پاگل کہہ کر داخل دفتر کردیتے۔ حسن نثار صاحب کی محفل مغرب کے آس پاس شروع ہوتی اور پھر کھانا کھانے کا خیال اس وقت آتا، جب رات بھیگ چکی ہوتی۔ میرے پاس دال موٹھ اور خشک میوہ جات کھانے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ اس محفل میں آتے ہی مولوی علامہ سعید اظہر نے دال موٹھ اور خشک میوہ جات کی پلیٹیں اٹھائیں اور کہا چلو میرے ساتھ دوسرے کمرے میں۔ مدعا معلوم نہ حرفِ مدعا۔۔۔ اس نے بات شروع امت مسلمہ کی زبوں حالی سے کی اور عام انسانوں کی بستی میں آنکلا۔ میرے کالموں کے کئی فقرے مجھے یاداشت میں سے نکال کر سناتا رہا،جیسے میں کوئی بہت کمال کررہاہوں۔ تین لوگوں کو میں نے اپنی لکنت کو خوبصورتی سے استعمال کرتے دیکھا۔ ایک منو بھائی، دوسرے نوابزادہ غضنفر گل اورتیسرے علامہ سعید اظہر، بقول یگانہ بات ادھوری مگر اثر دونا اچھی لکنت زباں میں آئی یہ سب کچھ کہنے سننے کے بعد وہ ایکدم کھڑا ہوگیا، ہاتھ جوڑے اور ایک دم موٹے موٹے آنسو،آنکھوں میں لاتے ہوئے زور سے بولا ” اوریا مقبول جان! اس قوم پر رحم کرو یہ تمہیں پڑھتے ہیں، تو رات کو سو نہیں پاتے، سارے لوگ مرنے کے لیے یا ماتم کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوتے، بخش دو ان لوگوں کو۔ میں نے بے ساختہ اس کو اٹھ کر گلے لگا لیا اور پھر ہم کتنی دیر تک ایک دوسرے سے گلے ملے کر ہچکیوں سے روتے رہے۔ اس نے آنسو صاف کیے منہ میں پستہ رکھا اور کہا ” آپ واپس پنجاب چلو، آپ کو سخت جان پشتونوں نے خراب کر دیا ہے۔ چند ماہ بعد میں پنجاب میں تھا۔ شاید یہ اس درویش کے آنسو تھے کہ مجھے اچانک پنجاب ٹرانسفر کر دیا گیا۔ میں لاہور آیا تو چند ماہ بعد کینال روڈ پر میری گاڑی روک کر موبائل اور پرس چھین لیا گیا۔ اس نے خبر پڑھی اور شامی صاحب کے اخبار میں ایسا کالم لکھا کہ جیسے اس کے دل پر کوئی بڑا سانحہ بیت چکا ہے۔ شام میرے پاس آیا، کہنے لگا مجھے موبائل اور پرس کا دکھ نہیں تھا، لیکن میں نے جب ایک لمحے کیلئے تصورکیا کہ ڈاکو تجھ پر پستول تان کر بے عزتی سے بول رہے ہیں تو میں رو پڑا، اوریا جان میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ کتنا سچا اور کھرا آدمی۔ میرے ساتھ اس کا ایک اور تعلق بھی بن گیا تھا۔ یوں تو ایسا کبھی کبھار ہوتا،لیکن جب بھی ہوتا وہ تنہائی میں رسول ﷺ کی یاد میں علامہ اقبال کی ”تو غنی از ہر دو عالم ”والی رباعی سنتا، خود بھی روتا اور مجھے بھی رلاتا۔ میری نوکری اور مصروفیات نے مجھے کبھی محفل بازی کی مہلت ہی نہیں دی۔ کاش ایسا ممکن ہوتا تو میں اس اللہ کی ذات پر متوکل رہ کر زندگی گزارنے والے سعید اظہر کے گھر کا طواف کرتا رہتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں