ڈاکٹر امجد ثاقب ماڈل

امجد ثاقب ان شخصیات میں سے ہیں جن پر صرف پاکستان نہیں مسلم امہ کو آنے والی کئی صدیاں تک فخر کرنا چاہیے۔ پاکستان کی سول سروس کا قد بھی باقی تمام اداروں سے اس لیے زیادہ بلند دکھائی دیتا ہے کہ اس کے دامن میں امجد ثاقب کا وجود آفتابِ تازہ کی طرح جگمگاتا ہے۔ امجد ثاقب کی اخوت کا کمال یہ ہے کہ جس وقت پوری دنیا ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے عالمی مالیاتی نظام کے آکٹوپس جیسے شکنجے کے تحت دنیا کے مفلوک الحال، پسماندہ اور پسے ہوئے طبقات کو جال میں پھانسنے کے لئے سود کی غلاظت میں لتھڑا ہوا مائیکرو کریڈٹ نظام نافذکر رہی تھی، جن کی شرح سود 26 فیصد سے لے کر 75 فیصد تک جا پہنچتی تھی، اور قرض ادا کرتے کرتے غریب کے بیل، سونے کا زیور اور زمین تک قرق ہو جاتی تھی، ایسے میں اخوت نے 2001 میں چند ہزار کی سرمایہ کاری سے بلا سود قرضہ دینے کا اعلان کیا اور آج وہ 19 سال بعد اس وقت 40 لاکھ غریبوں اور مسکینوں کو چھوٹے کاروبار کے لئے ایک سو دس ارب روپے کے قرضے دے چکی ہے۔ یہ جدید انسانی تاریخ میں کسی بلا سود قرضے کی سب سے بڑی مثال ہے۔چھوٹے لوگوں کو سودی قرضے (مائیکروکریڈٹ)دینے کا آغاز ورلڈ بینک نے اپنے سرمائے سے بنگلہ دیش کے محمد یونس کے گرامین بنک سے کیا تھا اور پھر اسے دیگر پروردہ لوگوں کی طرح نوبل انعام بھی عطا کیا گیااور اس پروگرام کو دنیا کے غریب ملکوں میں بھی پھیلایا گیا۔ یہ ایک خالصتاً کاروباری ساہوکارانہ قرضے کا تصور تھا جس میں امیر سرمایہ کاری کرتے تھے اور غریبوں کو معمولی سودی قرضے میں پھنسا کر ان کے پاس موجود کل کائنات بھی ہتھیا لی جاتی تھی۔ جبکہ امجد ثاقب کا بلا سودی قرضوں کا نظام اسلام کے زریں اصولوں پر مبنی ہے اور اس کی واپسی کی شرح تقریبا سو فیصد ہے۔ اسے کسی کی جائیداد قرق نہیں کرنا پڑتی۔ دوسری جانب ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشین بینک اور آغا خان کی کیاریوں سے ایسا ہی ایک پروگرام شکلیں بدل بدل کر پاکستان میں جاری کیا جاتا رہا ہے۔ حیران کن بات ہے کہ اس پروگرام کی نظریہ ساز قیادت بھی سول سروس کے شعیب سلطان کے حصے میں آئی، جنہوں نے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام سے آغاز کیا، پھر ان کا فلسفہ پورے ملک میں مائیکرو کریڈٹ سکیموں کیلئے آئیڈیل بن گیا۔ مشرف کا این جی اوز کا زمانہ تھا۔ ان پندرہ برسوں میں اسلام آباد ایسے لگتا تھا، جیسے وہاں عالمی اور مقامی این جی اوز کی کیٹ واک ہو رہی ہے۔ شاندار دفاتر، بڑی بڑی گاڑیاں، کمپیوٹر اور پاورپوائنٹ،سیمینار، ورکشاپ، سول سوسائٹی نام کی چڑیا تراشی گئی۔وہ سول سوسائٹی جس کا ذکر جان پرکنز نے اپنی کتاب ”ایک معاشی غارت گر کے انکشافات” (Confessions of an economic Hit Man) میں کرتا ہے۔ جن کی زندگی کی کوئی ایک چیز بھی غربت سے آشنا نہیں ہوتی، لیکن وہ غریبی دور کرنے کیلئے کمپیوٹرائزڈ پروگرام پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ مکمل مغربی تہذیب میں رچے بسے لوگ جن کے گھروں میں پاکستانی ثقافت دیوار پر لگی ”چنگیر ” داخلی دروازے کے پاس رکھے ”چرخے”، ”اجرک” کے بنے ہوئے وال ہینگراور ”رلّی” کے ڈیزائن کے لٹکتے پردے ۔ اسلام آباد کے اس این جی اوز والے ہجومِ ماہرین میں ثانیہ نشتر بھی جلوہ افروز ہوئیں۔ بنیادی طور پر ماہرِ امراض قلب۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں جوائنٹ سیکرٹری ہیلتھ تھا، وہ پمز میں اسی حیثیت سے نوکری کرتی تھیں۔ سردار عبدالرب نشتر کے خاندان کی چشم وچراغ، کہاں اپنا ٹھکانہ مستقل ایک سرکاری نوکری میں رکھ سکتی تھی۔ انہی دنوں میں نوکری چھوڑی، انہوں نے اسلام آباد کے این جی او فیشن کو اپنایا اور اپنی این جی او ”ہارٹ لائف ہیلتھ” کے نام سے بنالی۔ این جی او حلقوں میں مشہور تو وہ پہلے ہی سے تھیں،یوں ان کی این جی او کو بل کلنٹن کے ”Global initiative” سے 2008ء سے 2013 ء تک فنڈ ملتے رہے۔ شعیب سلطان کے ”آغا خان رورل سپورٹ پروگرام” سے لے کر عمران خان صاحب کے ”احساس پروگرام” تک اس عالمی ایجنڈے کا سفر بہت طویل ہے۔ اس سفر کا سب سے بڑا پڑاؤ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام تھا، جسے پیپلزپارٹی کی حکومت نے جولائی 2008 ء میں فرزانہ راجہ کی سربراہی میں شروع کیا، جو ورلڈ بنک، ایشین بنک اور دیگر ڈونرز کی سرمایہ کاری اور حکومت کی خطیر رقم سے شروع کیاگیا۔ نومبر 2013 ء میں سینیٹر انور بیگ اس کے چیئرپرمین بنے اور پھر ماروی میمن۔ انور بیگ کے دورسے آج تک ثانیہ نشتر اس پروگرام کے بورڈ کا حصہ چلی آ رہی ہیں۔ معلوم نہیں کیا وجوہات تھیں کہ عمران خان کی نگاہ انتخاب ماروی میمن کو ساتھ نہ رکھ سکی، حالانکہ انہیں تو دو مخالفین،مشرف اور نوازشریف دونوں کے دفاع میں کمال ملکہ حاصل تھا۔اس صلاحیت میں وہ فواد چوہدری کی ہم پلہ تھیں۔مگر سہاگن وہی جو پیا من بھائے۔بہرحال ثانیہ نشتر 2018ء میں اس پروگرام کی چیئرپرسن بن گئیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ کی بنیادوں پر استوار یہ ”احساس پروگرام” مکمل طور پر ڈیٹا بیس پروگرام ہے،جس میں نادرا ہے، کمپیوٹرائزڈ انفارمیشن ہے،جس طرح کی ڈیٹا معلومات فراہم کرتا ہے،وہی فیصلہ کن ہوتی ہے کہ مستحق کون ہیں۔ یہ پروگرام ایک سفید پوش کی آنکھ کے آنسواور ایک عزت دار غریب کی بے کسی کا براہ راست ملاحظہ نہیں کر سکتا۔ یہ بائیس کروڑ لوگوں میں سے کسی ڈرون کی طرح لوگ منتخب کرتا ہے اور پھر انہیں ایک میدان میں اکٹھا کرتا ہے اور نوٹ پھینک کر چلا جاتا ہے۔ اس کے مقابل ڈاکٹرامجد ثاقب کا پروگرام اسلام کے اس بنیادی کمیونٹی سنٹر ”مسجد” سے شروع ہوا تھا اور آج تک انہی مساجد کو مرکز بنا کر چل رہا ہے۔ دنیا کے ہر ”غربت کے خاتمے” کے پروگرام کا ایک تہائی انتظامی اخراجات پر خرچ ہوتے ہیں۔ یہی حال احساس پروگرام کا بھی ہے،جبکہ اخوت کا خرچہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ امجد ثاقب کا ماڈل سید الانبیاء ﷺ کی عطا کردہ مواخاتِ مدینہ پر رکھا گیا ہے جہاں ایک محلہ میں موجود لوگ اپنے محلے کے لوگوں کا خیال کرتے ہیں۔ امجد ثاقب نے کل میرے پروگرام میں بتایا کہ کورونا ایک جنگ ہے اور جنگیں حکومتیں نہیں عوام لڑتے ہیں۔ آگ جب لگتی ہے تو پہلی بالٹی محلے والے ڈالتے ہیں۔ حکومت کا کام صحت دینا ہے، راشن دینا نہیں ۔وہ راشن دینے میں الجھ گئی تو کچھ نہ ہو سکے گا۔ راشن دینے کے لئے علاقائی سطح پر مسجد میں کمیٹیاں بننا چاہییں۔ محلے دار کو علم ہوتا ہے کہ کس شخص کی کیا ضروریات ہیں۔ اگر کسی کو مسجد کے نام سے کوئی چڑ ہے تو سرکاری سکول یا کسی مزار کو مرکز بنا کر یہ کمیٹی بنا لیں۔ کچھ علاقے مکمل امیر اور کچھ مکمل غریب ہیں۔اس طرح مواخات کے اصول پر ایک امیر علاقے کے سپرد کئی غریب علاقے کیے جا سکتے ہیں۔ گلبرگ والے پڑوسی گرومانگٹ کے گاؤں دیکھیں، ڈیفنس والے اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھیں۔ ہر علاقے میں ہی اللہ نے امیر وغریب کی ایک تقسیم رکھی ہے اور علاقے ہی سے مواخات کی بنیاد مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ پورے ملک میں جتنی مساجد یا سکول ہیں وہ ایک سو گھروں سے زیادہ کی دوری نہیں بنتی۔ یہ ایک کلسٹر یا انتظامی یونٹ بنایا جا سکتا ہے۔ ان گھروں میں صاحب حیثیت بھی ہونگے، غریب پڑوسی بھی ہونگے، اور اب تو لوکل این جی اوز بھی بہت زیادہ ہوچکی ہیں۔ یہ سب لوگ مل کر مواخات مدینہ کے طور پر لوگوں کو گھروں میں بٹھا کر عزت سے کھانا کھلا سکتے ہیں۔ محلہ کمیٹی میں کوئی کسی سے چھپا نہیں رہتا۔ کوئی بھوکا نہیں رہ سکتا۔ امجد ثاقب نے کہا کہ گڈ گورننس کے چار بنیادی اصول ہیں۔ 1. احتساب (Accountability)۔ 2۔ شرکت (Participation)۔ 3. شفافیت (Transparency) اور 4۔ قانون کی بالادستی (Rule of Law)۔ یہ چاروں اصول ایک مسجد میں بنی ہوئی کمیٹی میں اپنے اعلی سطح پر اپنائے جاسکتے ہیں۔ اللہ کا خوف، مسجد کی عظمت اور اللہ کی برکت ساتھ شاملِ حال ہوگی۔ ایسا کرنا بغیر کسی میٹنگ اور بریفنگ کے بغیر صرف ایک دن میں پورے ملک میں ممکن ہے۔ اگر کسی علاقے میں وسائل کی کمی ہو تو پہلے بڑی تنظیمیں الخدمت یا سیلانی وغیرہ اور پھر حکومت بھی حصہ ڈال سکتی ہے۔ یہ ہے وہ ماڈل ہے جس میں عورتوں کی لمبی لائن لگتی ہے نہ سڑکوں پر راشن مانگنے والوں کا ہجوم ہوتا ہے اور نہ ہی ایک گھر میں کئی کئی لوگ غلطی سے امداد پہنچاتے ہیں۔ اس جنگ کے عالم میں پاکستان کو امجد ثاقب ماڈل کی ضرورت ہے جو سید الانبیا ﷺکی مواخات پر مبنی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ڈاکٹر امجد ثاقب ماڈل” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں