مسعود مفتی کا ایک اور سچ

عمر کے آخری حصے میں اگر آپ کی وہ خواہش پوری ہو جس کا خواب آپ بچپن سے دیکھتے چلے آئے ہوں تو آپ پر خوشی اور حیرت کی ایک جنونی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ’’کورونا‘‘کی اس جبری تنہائی میں جب مجھے ایک ایسی ہی خوشی میسر آئی تو کیفیت ویسی ہی تھی۔ ایک افسانہ نگار جسے میں نے مسیں بھیگنے کی عمر میں نہ صرف پڑھنا شروع کیا بلکہ اس سے ٹوٹ کر محبت کی اور پھر اس کی تحریروں میں کھوتا چلا گیا۔ یہ پینتالیس سال پہلے کی بات ہے کہ جب میں نے اپنا پہلا افسانہ حلقہ ارباب ذوق لاہور کے تنقیدی اجلاس میں پیش کیا تو وہاں موجود میرے ایک مرحوم ادیب دوست نے کہا، ’’تم نے مسعود مفتی کو پڑھاہے ‘‘، انکار میں سر ہلایا، تو اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا، ضرور پڑھو۔ لاہور سے گجرات واپسی تک ان کا ناول ’’کھلونے‘‘میرے ہاتھ میں تھا۔ بس کی کھڑکی والی نشست پر بیٹھے بیٹھے میں وہ ناول پڑھتا جا رہا تھا اور لطف و انبساط کے آنسو آنکھوں سے رواں تھے۔ اس دن سے لے کر آج تک زندگی کا ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا کہ مسعود مفتی سے میرے عشق میں کمی آئی ہو۔ موپساں سے منٹو تک ہر کسی کو پڑھنے کے باوجود مسعود مفتی کا سحر نہیں ٹوٹتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس خوبصورت انسان کی شخصیت بھی میرے دل میں بسنا شروع ہو گئی۔ مقابلے کے امتحان کے بعد سول سروس کی نوکری شروع کی تو بلوچستان میرا مقدر ٹھہرا۔یہاں آکر پتہ چلا کہ چراغ راہ اور نشانِ منزل کے طور پر مسعود مفتی کے قدم اس پسماندہ صوبے میں مجھ سے بہت پہلے پڑ چکے تھے۔ لوگ اس افسانہ نگار بیوروکریٹ اور لورالائی کے ڈپٹی کمشنر سے اسقدر محبت کرتے تھے کہ وہ لائبریری جو اس نے وہاں بنائی،اسکے ہال کی دیوار پر تصویر لگانے کے لئے جب اس سے تصویر مانگی گئی تو درویش صفت مسعود مفتی نے تصویر دینے سے انکار کردیا، اخبار سے تصویر لے کر فوٹوسٹیٹ سے بڑی کرکے لگوا دی گئی۔ اب وہ میرا افسانہ نگاری میں ہی نہیں سول سروس میں بھی محبوب بن چکا تھا۔ یوں لگتا ہے اللہ نے مجھے اس سے محبت کرنے کے لئے بار بار انہی منزلوں سے گزارا جس سے وہ گزرا تھا۔میرا بچپن بھی گجرات کے اسی محلے میں گزرا جس میں وہ مجھ سے سولہ سترہ سال پہلے مقیم رہا۔افسانہ نگاری، سول سروس اور پھر بلوچستان۔ مسعود مفتی کے نقش پا مجھے اس قدر عزیز ہوگئے تھے کہ میں بھی جہاں ڈپٹی کمشنر تعینات رہا، وہاں میں نے ایک لائبریری ضرور بنائی اور آج یہ لائبریریاں ان شہروں کی پہچان بن چکی ہیں۔ اس ایک شخص سے میری محبت کا یہ عالم رہا ہے کہ میں دل میں شدت کی خواہش رکھتا تھا کہ کبھی اس سے آٹوگراف لوں، اس کا خط یا تحریر میرے پاس موجود ہویا پھر، اس کے ساتھ میری کوئی تصویر موجود ہو۔لیکن پتہ نہیں کیوں ملاقات اور مواقع میسر ہونے کے باوجود بھی میں اس سے ایسی کسی فرمائش کی جرأت نہ کر سکا۔ تیس سال پہلے وہ کوئٹہ میں قلم قبیلہ کی ادبی کانفرنس میں مضمون پڑھنے آیا۔ اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی تھی۔ وہ ہر لمحہ ایک مووی کیمرہ لئے اس کی گفتگو ریکارڈ کرتی چلی جا رہی تھی۔ بیویاں ایسی تو نہیں ہوتیں۔ لیکن شخصیت روشن چراغ ہو تو پروانہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ چند سال پہلے میں نے اس سے اپنے پروگرام میں طویل انٹرویو کے لیے درخواست کی، قبول کرلی گئی۔ اسلام آباد کے ایک خوبصورت گھر میں انٹرویو ہوا۔ مجھے انٹرویو کرتے ہوئے کئی دہائیاں بیت چکی ہیں، لیکن وہ انٹرویو کرتے ہوئے مجھے ایسے لگا جیسے میں ایک نوآموز ہوں جس کی زبان بار بار لڑکھڑا جاتی ہو۔ اس موقع پر بھی اس کے ساتھ تصویر بنوانے کی ہمت نہ کر سکا، بچپن کی آٹو گراف لینے کی خواہش نہیں پوری کر سکا، یہاں تک کہ میں اسے یہ بھی نہیں بتا سکا کہ میں اس سے کب سے اور کتنی محبت کرتا چلا آ رہا ہوں۔ ایسے میں کورونا کی’’جبری تنہائی‘‘کے دوران جب ڈاک میں ایک کتاب آئے جس پر یہ الفاظ تحریر ہوں، ” اوریا مقبول جان کے وسعت مطالعہ کی نذر۔بصد خلوص، مسعود مفتی، اسلام آباد۔ 27 مارچ 2020 ”،تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس لمحے میری حالت کیا ہوگی۔ وارفتگئی شوق کی کیفیت اور پینتالیس سال پہلے کی خواہش پوری ہونے کی بے پناہ خوشی۔ میں شاید اپنی اس حالت کو کبھی بھی بیان نہ کر سکوں۔ مگر کتاب ایسی ہے کہ جس کا تعارف اس قوم کے سامنے اس لیے رکھ رہا ہوں کہ کاش یہ قوم اس کتاب سے کچھ سیکھ سکے ۔کتاب ایک نوحہ، مرثیہ اور لٹنے کی داستان ہے۔کتاب کا نام ”دو مینار” ہے اور یہ اس عظیم پاکستان کی بدنصیبی اور زوال کی خونچکاں داستان ہے جسے ایک ایسے سچے اور کھرے سول سرونٹ نے تحریر کیا کہ جو سقوط ڈھاکہ کے بعدجب بھارتی قید سے رہائی کے بعدلوٹا تو اپنی کتاب ”چہرے” میں کڑوا سچ تحریر کرنے کا علمبردار بنا ۔ وہ سچا اور کھرا مصنف جو کسی کے دفاع یا کسی کی نفرت میں قلم نہیں اٹھاتا، بلکہ جو ہے کھول کر بیان کرتا ہے۔ ”چہرے ” میں بھی اس کا انداز ایک مورخ والا نہیں، بلکہ ایک ادیب والا ہے، اسی لیے اس نے اسے’’رپورتاژ‘‘ جو نئی صنف ادب ہے، اس میں تحریر کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے ”یہ رپورتاژ کردار نگاری کے سانچے میں ڈھالی گئی ہے، مگر اس کے کردار بے نام اور مبہم ہیں، تاہم ان کا انداز گفتگو قائم ہے۔۔۔’’ یہ تاثرات ان المناک لمحوں کے ہیں جب پاکستان کے دو ٹکڑے ہو رہے تھے۔۔۔‘‘ رپورتاژ کی تکنیک کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ مخصوص وقت کے ماحول کی معنوی، جذباتی اور واقعاتی عکاسی کرے اور ان ان لمحات کے بھرپور تاثر کو گرفت میں لائے تاکہ اس پر مستقبل کے سائے نہ پڑیں”۔ مسعود مفتی کی یہ تازہ رپورتاژ ”دو مینار” بھی سچ کا ایک پرچم ہے۔ یہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ کا نوحہ اور مرثیہ ہے۔ کتاب کا آغاز اس نے سورۃ النحل کی 92ویں آیت سے کیا ہے، ” اس عورت کی طرح مت بنو جو اپنا سوت کات کر پہلے تو اسے پکا کرتی ہے اور پھر اسے نوچ نوچ کر توڑ دیتی ہے۔ مسعود مفتی ان بیوروکریٹس میں سے ہے جو میری طرح ہمیشہ اپنے ہی گروہ کے ناقد بھی رہے ہیں اور نتیجتاً وہ اپنے گروہ کے مطعون بھی ٹھہرے۔ لیکن اس کتاب میں انہوں نے سول سروس کے ادارے کی موت کو پاکستان کی تباہی کے ساتھ منسلک کیا۔مسعود مفتی نے اس المیے کو یوں سمویا ہے،” میرے بچپن نے برٹش دور کے اچھے انتظام کو دیکھا، میرے لڑکپن نے قائد اعظم کے پاکستان کی محنتی اور مخلص بیوروکریسی دیکھی، اس کے انتظامی معجزوں کی وجہ سے اپنے وطن کی حیرت انگیز ترقی دیکھی، بلکہ اس کا سنہری زمانہ دیکھا۔ پھر جوانی کی دہلیز پر میں جب پاکستان کی انتظامیہ کاپرزہ بن گیا تو قدم قدم پر وہ ناقابل یقین مناظر دیکھتا رہا جب وطن کی دائمی ریاست عارضی حکومتوں کے پاؤں تلے روندی جا رہی تھی۔قائداعظم کی سدھائی ہوئی بیوروکریسی کو اصلاحات کے پتھروں سے سنگسار کیا جا رہا تھا اور حاکموں کے ذاتی مفادات حسنِ انتظام (Good governance) کو تباہ کر رہے تھے”۔ کتاب کا انتساب کمال کا ہے اس مرحوم بیوروکریسی کے نام جس نے قائد اعظم کے پاکستان کو پہلے گیارہ برسوں میں آسمان پر پہنچا دیا اور جسے انقلابی رہنماؤں نے اگلے ساڑھے تیرہ برس میں ہلاک کردیا۔ تاریخ پیدائش 14 اگست 1947۔۔۔ تاریخ وفات 21 اپریل 1972”۔ کتاب کا ایک ایک صفحہ آپ کی آنکھوں کو آنسوؤں میں تر رکھتا ہے اور نوحوں پر مجبور کرتا ہے۔ سول سروس کا دفاع آج بہت مشکل ہے کیونکہ زوال کے موسم میں بہار کے پھول یاد نہیں رہتے۔مگر سچ لکھنا،پڑھنا اور سننا آج بہت ضروری ہو گیا ہے اور اس موقع پر ”دو مینار ” سے زیادہ کھرا سچ کہیں اور نہیں ملے گا۔ مسعود مفتی میری ادبی زندگی کی محبت اور عملی زندگی کا خواب ہے۔ ہم دونوں اس مرحوم سول سروس کی ٹرین کے تباہ شدہ ڈبے کے مسافر رہے ہیں۔ مجھے اس کے ساتھ اس مماثلت پر بھی فخر ہے کہ ہم دونوں اس قدر ناپسندیدہ تھے کہ اپنے وقت کے وزرائے اعظموں نے ہمیں سول سروس کی معراج یعنی بائیسویں گریڈ کے حقِ پروموشن سے آخر وقت تک محروم رکھا۔ایک اور سول سرونٹ شاعر مصطفیٰ زیدی کے مصداق تائب تھے احتساب سے جب سارے بادہ کش مجھ کو یہ افتخار کہ میں میکدے میں تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں