کورونا اور سیاست

حکومت کا نعرہ ہے، کورونا سے ڈرنا نہیں، بس اپوزیشن اور میڈیا سے لڑنا ہے۔ اپوزیشن کا نعرہ ہے، کچھ کرنا نہیں بس جان بچا کر کورونا کورونا اور کسی طرح اپنے خلاف کیسز کو ختم کرنا ہے۔ سرمایہ داروں اور کارخانہ داروں کا نعرہ ہے، کورونا سے ڈرنا نہیں، بس اپنی جیبوں کو بھرنا ہے۔

بعض مولویان کرام کا نعرہ ہے، کورونا سے ڈرنا ہے اور نہ اس سے لڑنا ہے، بس اللہ سے دعا کرنی ہے اور زیادہ سے زیادہ مقتدی جمع کرکے اپنے سال بھر کی جمع پونجی جمع کرنا ہے جبکہ مجبور عوام کی فریاد ہے کہ ہمیں تو بس مرنا ہی مرنا ہے۔

بدقسمتی سے وہی ہورہا ہے جس کا خطرہ ملک بھر کے معتبر ڈاکٹر صاحبان اور ماہرین نے ظاہر کیا تھا۔ کورونا کے متاثرین کا گراف بھی تیزی کے ساتھ اوپر جارہا ہے اور ہلاکتوں کا بھی۔

چین اور امریکہ کے برعکس ہمارے ہاں کورونا کسی ایک صوبے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ سارے صوبوں میں پھیل گیا ہے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا زیادہ متاثر ہیں لیکن پنجاب اور بلوچستان کی حالت بھی تسلی بخش نہیں۔ پختونخوا میں تو ہلاکتوں کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے ۔ طبی عملے کے سینکڑوں اہلکار خود وبا کی زد میں آگئے ہیں اور بعض جامِ شہادت بھی نوش کر گئے۔

لاک ڈائون پہلے بھی برائے نام تھا اور اب تو اس کا عملاً کہیں وجود ہی نہیں لیکن ہمارے حکمران ہر روز آکر یہ فلسفہ جھاڑتے رہتے ہیں کہ اصل مسئلہ لاک ڈائون ہے۔ وزیراعظم جب بھی ٹی وی پر خطاب کرنے نمودار ہوتے ہیں تو وہ کورونا کے بجائے لاک ڈائون کے خلاف تقریر کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ لاک ڈائون نامی عمل پاکستان میں حقیقی معنوں میں ایک دن کے لئے بھی نہیں ہوا۔

کسی کو یقین نہ آئے تو بازاروں کے مناظر دیکھیں یا پھر وزیرستان میں عارف وزیر کے جنازے کی تصویر دیکھ لیں۔ دوسری طرف حکومت سیاست سے باز نہیں آرہی۔ تماشہ یہ ہے کہ اپوزیشن سیاست کرنے کو تیار نہیں جبکہ حکومت سیاست چھوڑنے کو۔ کورونا سے متعلق غیرسنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں ترمیم جیسے حساس اور متنازع موضوع کو اس وقت چھیڑا گیا۔

نیتوں کا حال اللہ جانتا ہے اور کسی کی نیت پر شک کرنا مناسب نہیں لیکن بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کورونا جس قدر قوم کے لئے مصیبت ہے، شاید حکمران اس قدر اس کو اپنے لئے غنیمت سمجھ رہے ہیں۔ شاید وجہ یہ ہو کہ اس وبا کی وجہ سے اس حکومت کے پاس تباہ شدہ معیشت کے لئے بہانہ ہاتھ آگیا۔

پہلے معیشت کی تباہی کے حوالے سے حکومتی بلنڈرز کا تذکرہ ہوتا تھا لیکن اب کورونا کا سہارا لیا جارہا ہے۔ دوسری طرف اندرونی لڑائیاں اور چینی و آٹا اسکینڈل سے بھی توجہ ہٹ گئی لیکن شاید حکمران یہ بات بھول رہے ہیں کہ اللہ کی مخلوق کی زندگیوں سے متعلق غیرحساسیت کا مظاہرہ کرنے والے کبھی رسوائی سے بچ نہیں سکتے۔

یقیناً کورونا کی وبا نے حکومت کی بہت ساری کمزوریوں پر پردہ ڈال کر اپوزیشن کو مزید بےبس کردیا ہے۔ اب جب حکومت سیاست سے باز نہیں آرہی تو ہم بھی تھوڑا سا سیاست کا تذکرہ کر لیتے ہیں اور سیاسی محاذ پر پہلی خبر یہ ہے کہ جہانگیر ترین نے رازوں سے پردہ اٹھانے کا اشارہ دے کر جو دھمکی دی تھی، وہ کام کر گئی ہے اور اب ان کے خلاف کسی سخت اقدام کا امکان بہت کم ہو گیا ہے بلکہ کورونا کے خاتمے کے بعد جب حکومت پر سخت وقت آئے گا تو ان کا کردار بہت اہم ہو جائے گا۔

دوسری خبر یہ ہے کہ یہ جو شیخ رشید، شہباز شریف کو ڈراتے رہتے ہیں، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ حکومت خود ڈری ہوئی ہے اور اسے شہباز شریف کی واپسی کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی نظر آرہی ہے۔

اندرونی صورتحال یہ ہے کہ عمران خان کی قیادت میں بابر اعوان اور شہزاد اکبر وغیرہ کی ایک ٹیم ایک سمت میں لگی ہے اور اسد عمر اور شاہ محمود قریشی ایک اور سمت میں لگے ہیں۔ پہلی ٹیم کا ٹاسک یہ ہے کہ وہ شہباز شریف اور شاہد خاقان سمیت اپوزیشن کے رہنمائوں کو دوبارہ اندر کرلیں تاکہ مقتدر حلقوں کے ساتھ مفاہمت کی اگر کوئی فضا بن رہی ہو، تو وہ خراب ہو جائے لیکن اسد عمر اور شاہ محمود قریشی مفاہمت والی لائن میں لگے ہیں۔

ان کی نظر بعداز کورونا منظرنامے پر ہے اور اس کے لئے نمبرون بننے کی کوششیں کررہے ہیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر لین دین کی ذمہ داری اسد عمر کو دی گئی ہے اور جہاں اپوزیشن اس لین دین سے آئینی ترمیموں سے بڑھ کر کوئی نتیجہ نکالنا چاہتی ہے، وہاں اسد عمر بھی اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت کے عمل کو کسی اور نتیجے پر منتج کرنا چاہتے ہیں۔

دیکھتے ہیں بابر اعوان اور شہزاد اکبر کے منصوبے کامیاب ہوتے ہیں یا پھر اسد عمر اینڈ کمپنی کے پہلے گروپ کے۔ اب ایک مسئلہ یہ درپیش ہے کہ چیئرمین نیب حکومتی بلیک میلنگ سے تنگ آگئے ہیں کیونکہ جس مواد کی بنیاد پر ان کو بلیک میل کرکے حکومت ان سے اپنے کام کروارہی تھی، وہ مواد اب کچھ اور حلقوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔

دوسری طرف اٹھارہویں ترمیم میں ترمیم اور کورونا کے تناظر میں مقتدر حلقے بھی اب ملک میں سیاسی پولرائزیشن کے بجائے مفاہمت کے حق میں ہیں۔ اس لئے ان کی طرف سے بھی نیب کو ہاتھ ہولا رکھنے کا کہا جارہا ہے۔ یوں اب چیئرمین نیب بھی دو طرفہ دبائو کے درمیان سینڈوچ بن گئے ہیں اور انہوں نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ حسبِ سابق بلیک میل ہوکر حکومتی احکامات کی تعمیل کرنی ہے یا پھر گناہوں کی تلافی کی کوئی صورت نکالنی ہے۔ گویا لوگ کورونا سے مررہے ہیں۔

ڈاکٹر لاک ڈاؤن کی التجائیں کررہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ بھی حکومت کو غیرسنجیدہ قرار دے کر عوام کی خاطر میدان میں آگئی ہے لیکن درونِ خانہ ڈرائنگ رومز میں سازشوں اور جوڑتوڑ کی سیاست جتنی آج زوروں پر ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔

دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور عمران خان کی طرح اسد عمر کی زندگی کی آخری خواہش بھی پوری ہوتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ شاہ محمود قریشی نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں اور ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بھی وہی ہے۔ جہانگیر ترین کے خلاف تو وہ دونوں ایک پیج پر تھے لیکن اب تو مقابلہ آپس میں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں