hamid-mir-columns

اس مہلت سے فائدہ اٹھائیے

سال 2020 ء کو آئندہ کئی صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ دنیا کی طاقتور ترین اقوام مچھر سے بھی بہت چھوٹے اور نظر نہ آنے والے ایک وائرس کے سامنے بے بس ہو گئیں۔ کورونا وائرس سے لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے۔ دنیا کے بڑے بڑے شہر بند ہو گئے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کیلئے اپنی عبادت گاہوں میں جانا مشکل ہو گیا۔

اس مشکل وقت میں دنیا کو زبان، رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق مٹا کر متحد ہونے کی ضرورت تھی لیکن امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے فنڈز بند کر دیے۔

بھارت کی حکمران بی جے پی کے حامیوں نے کورونا وائرس کا ذمہ دار مسلمانوں کو قرار دینا شروع کر دیا اور پاکستان میں یہ بحث شروع کرا دی گئی کہ یہ وبا میڈیا کے جھوٹ کی وجہ سے پھیلی ہے یا عورتوں کی بے حیائی سے۔ بے حیائی کا تعلق صرف عورتوں کے ساتھ نہیں ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ الانعام میں کہا گیا ہے ’’اور بے حیائیوں کے پاس بھی نہ جائو خواہ وہ علانیہ ہوں اور خواہ پوشیدہ‘‘۔

غور یہ کرنا تھا کہ زیادہ بے حیائی غیر مسلم معاشروں میں تھی لیکن کورونا وائرس نے غیر مسلم معاشروں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اپنی لپیٹ میں کیوں لیا؟ کہیں مسلمانوں اور غیر مسلموں میں فرق ختم تو نہیں ہو گیا؟

وہ تکبر جو ٹرمپ نے دکھایا، وہ غرور جو نریندر مودی نے دکھایا کہیں وہ غرور ہمارے طاقتور لوگوں میں تو نہیں گھس چکا؟ اللہ تعالیٰ ہمیں غروروتکبر سے بچائے۔ قرآن مجید میں بار بار کہا گیا ہے کہ اللہ تکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ زعم تقویٰ بھی تکبر کے زمرے میں آتا ہے۔ سورۃ النجم میں کہا گیا ہے کہ ’’اور اپنے متعلق پاک بازی کا دعویٰ مت کرو۔ وہ (اللہ) خوب جانتا ہے کہ کون پاک باز ہے۔‘‘

سورۃ الماعون میں کہا گیا ہے کہ ’’سو خرابی ہے ان نمازیوں کیلئے جو نماز پڑھتے تو ہیں مگر اپنی نماز سے بے خبر رہتے ہیں اور جو ریاکاری کرتے ہیں۔‘‘

سورۃ القلم میں کہا گیا ’’آپ ایسے شخص کا کہا نہ مانیے گا جو بڑا قسمیں کھانے والا ہو‘‘۔ میں ایک عام سا مسلمان ہوں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں صرف رمضان المبارک میں باقاعدگی کے ساتھ قرآن پڑھتا ہوں لیکن 2020ء کے رمضان المبارک میں قرآن پاک کے مطالعے کے دوران میں بار بار کچھ الفاظ پر رک گیا اور غوروفکر کرنے لگا۔

سورۃ البقرہ میں کہا گیا ہے ’’بے شک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کسی بات کو واضح کرنے کیلئے کوئی بھی مثال دے، چاہے وہ مچھر جیسی معمولی چیز کی ہو یا کسی ایسی چیز کی جو مچھر سے بھی زیادہ معمولی ہو‘‘۔ آپ بھی ان الفاظ پر غور کیجئے۔ کورونا وائرس تو مچھر سے بھی زیادہ چھوٹی چیز ہے جو ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ انسان کی طاقت محض ایک دھوکا ہے اصل طاقت اللہ کے پاس ہے۔

سورۃ البقرہ میں آگے چل کر کہا گیا ہے ’’حق تو یہ ہے کہ جو لوگ بھی، خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا نصرانی یا صابی، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آئیں گے اور نیک عمل کریں گے، وہ اللہ کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہوں گے‘‘۔

مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ’’آسان ترجمہ قرآن‘‘ میں بیان کردہ تشریح کے مطابق عرب میں یہودیوں اور نصرانیوں کے علاوہ کچھ ستارہ پرست لوگ رہتے تھے جن کو صابی کہا جاتا تھا اور اس آیت میں ان کا بھی ذکر کیا گیا۔ قرآن پاک کتاب ہدایت ہے۔

یہ ہدایت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ غیر مسلم بھی ہدایت حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں جھوٹ، بے حیائی، تکبر اور منافقت سے دور رہنے کے علاوہ یہ سبق بھی دیتی ہے کہ ہمیشہ حق و انصاف کا ساتھ دو۔ سورۃ الزمر میں کہا گیا ’’بے شک اللہ اسے راہ پر نہیں لاتا جو جھوٹا اور ناشکرا ہو‘‘۔ سورۃ الرعد کے یہ الفاظ انتہائی قابل غور ہیں ’’بلاشبہ اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے‘‘۔

ذرا سوچئے ہم اپنی حالت بدلنے کیلئے کتنے سنجیدہ ہیں؟ کیا ہم رمضان المبارک میں جھوٹ، ریا کاری اور ناانصافی سے پرہیز کرتے ہیں۔ اس رمضان میں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کورونا وائرس نے کچھ لوگوں کو اللہ کے قریب کردیا لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو رمضان میں بھی گالم گلوچ اور بہتان تراشی کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ صرف دوسروں نے مرنا ہے۔

انہوں نے نہیں مرنا۔ ہمیں شکر کرنا چاہئے کہ کتابِ ہدایت ہر مسلمان کے گھر پر موجود ہے۔ اگر ہم اس کتاب سے ہدایت حاصل کرنے کی تھوڑی سی کوشش کریں تو ہمیں بہت زیادہ ہدایت مل سکتی ہے۔

سورۃ ابراہیم میں کہاگیا ہے کہ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کے بدلہ میں ناشکری کی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں ڈالا جو دوزخ ہے۔‘‘ سورۃ النحل میں کہا گیا ’’اور اگر اللہ انسانوں کی ان بے انصافیوں پر گرفت کرے تو زمین پر کسی بھی جان دار کو نہ چھوڑے لیکن وہ انہیں مہلت دیتا ہے ایک معینہ مدت کے لئے۔ پھر جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو وہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں‘‘۔

پھر سے سوچئے کہ ہم ناانصافی کے خلاف کتنی آواز بلند کرتے ہیں؟جب 2019ء میں نریندر مودی کے حکم پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کا لاک ڈائون کیا گیا تو کتنے مسلمان حکمران اس ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوئے؟ اس ناانصافی پر خاموش رہنے والی تمام طاقتور اقوام 2020ء میں خود لاک ڈائون کا مزا چکھ رہی ہیں۔

کچھ مسلمان حکمرانوں نے کشمیریوں کیلئے نمائشی تقریریں ضرور کیں لیکن عملی طور پر کچھ نہ کیا بلکہ فلسطینیوں کو یرغمال بنانے والوں کے ساتھ خفیہ راہ و رسم بڑھاتے رہے۔ آج یہ سب مسلمان حکمران کورونا وائرس کے سامنے بے بس ہیں لہٰذا جھوٹ اور بے حیائی سے بچنا واقعی ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا بھی ضروری ہے۔

دنیا داری کے لئے کبھی کبھی حکمت اور مصلحت پسندی کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے لیکن قرآن پاک میں دنیا کا لفظ 115دفعہ آیا تو آخرت کا ذکر بھی 115 مرتبہ ہے۔ زندگی کا ذکر 145مرتبہ اور موت کا ذکر بھی 145مرتبہ ہے۔ شیطان کا ذکر 88مرتبہ ہے تو فرشتوں کا ذکر بھی 88 مرتبہ ہے۔

کفر کا ذکر 25 مرتبہ ہے تو ایمان کا ذکر بھی 25مرتبہ ہے۔ فحاشی اور بدکاری کا ذکر 24مرتبہ ہے تو اس کے ساتھ اللہ کے غضب کا ذکر بھی 24 مرتبہ ہے۔ مصیبت کا ذکر 75مرتبہ ہے تو شکر کا ذکر بھی 75مرتبہ آیا ہے۔ ہمیں شکر ادا کرنا چاہئے کہ 2020ء کے رمضان المبارک میں ہم ابھی زندہ ہیں۔

کچھ مہلت ابھی باقی ہے۔ اس مہلت کواستعمال کرتے ہوئے اپنے اعمال کو ٹھیک کر لیں اور خوف خدا پیدا کر لیں تو شاید کچھ ہدایت مل جائے۔ ہدایت کا اصل سرچشمہ قرآن مجید ہے جو ایک معجزہ ہے۔ اسے پڑھئےاور فائدہ اٹھائیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں