لاک ڈاؤن نرم، چھوٹی دکانیں، ٹرانسپورٹ، ڈومیسٹک پروازیں کھولی جائیں، این سی او سی

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں ملک بھر میں تجارتی مراکز صبح 11 بجے سے شام 5 بجے اور رات 8 سے 12 بجے تک کھولنے کی تجاویز منظور کر لی گئیں۔

تجاویز کی منظوری کے بعد ملک بھر میں تجارتی مراکز 11مئی سے کھولے جانے کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اجلاس میں لاک ڈاون میں نرمی اور آئندہ کی حکمت عملی بالخصوص 9 مئی کے بعد لاک ڈاؤن ختم کرنے یا اس میں توسیع کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔

باہمی مشاورت کے بعد این سی او سی نے سفارشات تیار کرلیں جس کے مطابق ملک بھر میں 11 مئی سے لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی جائے، چھوٹی دکانیں، پبلک ٹرانسپورٹ اور ڈومیسٹک پروازیں کھول دی جائیں۔

این سی او سی میں یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ اسکولز ، شادی ہالز ، ہوٹل اور بڑے شاپنگ مالز بند رکھے جائیں اور ریلوے سروس بھی فی الحال بحال نہ کی جائے۔

اجلاس میں سفارشات سامنے آئیں کہ مقامی سطح پر ٹرانسپورٹ کھول دی جائے ، اڈہ مالکان اور ٹرانسپورٹر کورونا سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔

اس کے علاوہ بڑے شاپنگ مالز بند رکھے جائیں، چھوٹی دکانیں اور عید کی خرید و فروخت سے متعلق دکانیں کھول دی جائیں۔ اس کے علاوہ اسکولز ، شادی ہال ، ہوٹل ، ریستوران ابھی بند رکھے جائیں۔

یہ ہیں وہ سفارشات جو وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں تیار کی گئیں ۔

اجلاس میں اندرون ملک پروازیں کھولنے کی سفارش بھی کی گئی ہے جس کی تصدیق وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے بھی کی ہے۔

نیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں ٹرین سروس بحال کرنے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ چار میں سے تین صوبوں پنجاب ، سندھ اور بلوچستان نے ریل سروس کی بحالی کی مخالفت کی۔

اجلاس میں عام دکانیں دن 11 سے شام 5 اور رات 8 سے رات 12 بجے تک کھولنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

پائپ ملز، الیکٹریکل کیبلز ، اسٹیل، ایلمومینیم اور برتن سازی کی صنعتیں کھولنے کی سفارش بھی تیار کی گئی ہے۔

نیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹر نے سینٹری ، پینٹس ، ہارڈ وئیر اسٹورز کھولنے کی سفارش بھی کی ہے۔

نیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹر نے سفارش کی ہے کہ اتوارکو مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے ،جلسےجلوسوں کی اجازت نہ دی جائے ۔

یہ سفارشات 31 مئی تک کے لیے ہیں اور ان کی حتمی منظوری وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت جمعرات کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں دیے جانے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں