کورونا کی وجہ سے تعلیمی ادارے یکم جون کے بعد بھی بند رکھے جانے کا امکان

کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے یکم جون کے بعد بھی بند رکھے جانے کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی جس میں پنجاب، بلوچستان اور سندھ نے یکم جون سے تعلیمی ادارے کھولنے کی مخالفت کردی۔

خیبرپختونخوا نے یکم جون سے تعلیمی ادارے کھولنے کی حمایت کی ہے۔

تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالے سے صوبوں میں اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ کل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کا پاکستان میں پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا تھا جس کے بعد سب سے پہلے سندھ حکومت نے تعلیمی ادارے بند کردیے تھے اور نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے تھے۔

اس کے بعد دیگر صوبوں نے بھی تعلیمی ادارے بند کردیے تھے اور نیا تعلیمی سال شروع نہیں ہوسکا تھا۔

کورونا کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی تو تعلیمی اداروں کی بندش کو 30 مئی تک توسیع دے دی گئی۔

سندھ حکومت نے تعلیمی پالیسی برائے سال 21-2020 بھی جاری کردی تھی جس کے تحت یکم جون سے پہلی تا آٹھویں جماعت کے امتحانات ہوں گے جبکہ 15 جون سے نویں اور دسویں کے امتحانات ہوں گے۔

تمام بورڈز دسویں جماعت کے امتحانی نتائج 15 اگست تک جاری کرنے کے پابند ہوں گے، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات 6 جولائی سے شروع ہوں گے جب کہ دسویں جماعت کے نتائج کے بعد ہی گیارہویں جماعت کے داخلوں کا اعلان کیاجائے گا۔

ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتی جارہی ہے اور نئے کیسز اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن تو ہے لیکن اس پر سختی سے عمل نہیں ہورہا یہی وجہ ہے کہ کورونا کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔

ایسی صورتحال میں محض کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے مکمل بند ہیں جس کی وجہ سے تاجروں کا معاشی اور طالب علموں کا پڑھائی کا نقصان ہورہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں