امریکا تعلقات کو سرد جنگ کی جانب دھکیل رہا ہے، چین

چین نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے ذریعے کی کھوج کے لیے عالمی کوششوں میں مدد کی پیشکش کی ہے اور امریکا کے ‘جھوٹے’ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا، چین کے ساتھ تعلقات کو سرد جنگ کی طرف لے کر جا رہا ہے۔

کورونا وائرس کے معاملے پر چین اور امریکا کے درمیان ایک عرصے سے لفظی جنگ کا سلسلہ جاری ہے اور چین کی جانب سے ہانک کانگ پر کنٹرول مزید سخت کیے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اس لفظی جنگ میں شدت آگئی ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے کہا کہ چین پر امریکا کی جانب سے کیے جارہے مسلسل لفظی حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا سیاسی وائرس سے بری طرح آلودہ اور انفیکشن زدہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے چین کے ایک ہفتے تک جاری رہنے والے سالانہ پارلیمانی سیشن کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ امریکا میں چند سیاسی قوتیں امریکا اور چین کے تعلقات کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتے ہوئے دونوں کو سرد جنگ کی جانب دھکیل رہی ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات، تجارت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دیگر مسائل کے سبب پہلے ہی خراب تھے لیکن کورونا وائرس کی وبا کے بعد سے یہ خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان قوتوں سے ان کی کیا مراد ہے لیکن حالیہ چند ماہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس کے خلاف چین کے ابتدائی ردعمل اور دنیا کو اس کے خطرناک نتائج سے بروقت آگاہ نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایشیا کی سب سے بڑی تجارتی طاقت کو مستقل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ مستقل یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ چین نے گزشتہ سال سامنے آنے والے اس وائرس کو ابتدائی طور پر دنیا سے چھپائے رکھا اور اس کے خلاف بہت دیر سے ردعمل ظاہر کیا جس سے دنیا میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں کم از کم تین لاکھ 42 ہزار 694 افراد ہلاک اور 53 لاکھ 44 ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔

امریکا اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہان اب تک 97 ہزار 150 افراد ہلاک اور 16 لاکھ 26 ہزار سے زائد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

البتہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا یہ بیانیہ خود امریکا میں بھی مشکوک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور ان کے ناقدین کا ماننا ہے کہ امریکی صدر رواں سال شیڈول انتخابات کے تناظر میں عوام کی توجہ وائرس سے نمٹنے میں اپنی ناکامی سے ہٹانے کے لیے چین پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔

ادھر چینی وزیر خارجہ نے بھی امریکی انتظامیہ کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ وقت اور قیمتی جانوں کا زیاں بند کرے اور ساتھ ساتھ اس موقع پر وائرس کی اصل جڑ تک پہنچنے کے لیے عالمی تعاون میں بھرپور مدد کی بھی پیشکش کی۔

انہوں نے کہا کہ وائرس کی اصل جڑ تک پہنچنے کے لیے ہم عالمی تعاون میں بھرپور مدد کے لیے تیار ہیں لیکن ہماری شرط ہے کہ اسے سیاسی مداخلت سے بالکل پاک ہونا چاہیے۔

وینگ یی نے کہا کہ امریکا میں کچھ سیاسی شخصیات وائرس پر ٹھپہ لگا کر اور اسے سیاست کی نذر کر کے چین کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اکثر سائنسدانوں اور طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ چین میں جنم لینے کے بعد یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا اور ممکنہ طور پر یہ وائرس کے پہلے سب سے بڑے بنیادی مرکز ووہان کی ایک گوشت کی مارکیٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

حالیہ عرصے میں امریکا اور آسٹریلیا نے اس وائرس کی جامع تحقیقات اور اس کے اصل ذریعے تک جلد از جلد پہنچنے کے مطالبہ کیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت نے چین کو وائرس کی جڑ تک پہنچنے میں تحقیقات کا حصہ بننے کی پیشکش کی تھی لیکن اس کے جواب میں چین نے مؤقف اپنایا تھا کہ کورونا کے خلاف عالمی ردعمل کا جائزہ اس وائرس کے خاتمے کے بعد ہی لیا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں